یوم شہادت حضرت علیؑ: ’اے دنیا، دور ہو جا مجھ سے، کیوں میرے سامنے خود کو لاتی ہے!‘

یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جو بلاوں سے گھرا ہوا ہے، فریب کاریوں میں شہرت یافتہ ہے، اس کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور نہ ہی اس میں رہنے والے صحیح و سالم رہ سکتے ہیں: حضرت علیؑ

روزہ حضرت علی / Getty Images
روزہ حضرت علی / Getty Images
user

نواب علی اختر

21 رمضان المبارک تاریخ اسلام کی ایک ایسی سیاہ تاریخ ہے جس دن تاریخ انسانیت کے اس عظیم المرتبت انسان کی شہادت ہوئی جس کی تعلیؑمات سے آج بھی بنی نوع بشر بہرہ مند ہو رہی ہے، وہ انسان جس کا دل صرف اپنوں ہی کے لئے نہیں ہر ایک انسان کے لئے تڑپتا تھا۔ کیا ایسے انسان کی ولادت اور شہادت کی یادگار اس انداز میں نہیں ہونا چاہیے کہ دیگر قومیں اس بات کی طرف متوجہ ہوں کہ ہم تاریخ کی کسی عظیم ہستی کی ولادت یا شہادت منا رہے ہیں اور جس کو یاد کر رہے ہیں اس نے انسانیت کو کیا دیا ہے؟ جب ہم امام علیؑ کو یاد کریں تو کیا بہتر ہو کہ یہ ذکر کچھ اس انداز سے کیا جائے کہ لوگ آپ کی تعلیمات سے واقف ہوسکیں اور خود ہم عہد کریں کہ ہماری زندگی راہ علیؑ پر گزرے گی۔ اس لئے کہ علیؑ کی زندگی سیرت پیغمبرؐ کی آئینہ دار وہ زندگی ہے جس کا ایک ایک پل ویسا گزرا جیسا خدا کو مطلوب تھا۔

یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جو بلاوں سے گھرا ہوا ہے، فریب کاریوں میں شہرت یافتہ ہے، اس کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور نہ اس میں رہنے والے صحیح و سالم رہ سکتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا کی بڑی بڑی آرزؤوں تک پہنچے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے محلات تعمیر کروائے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی جنت خود تیار کی؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا کی خاطر خالق دنیا کے مقابل آگئے؟ وہ تمام لوگ اس دنیا میں مٹی ہوگئے، ان کا نام و نشان نہیں رہا۔ ایسے دور میں ایک شخصیت ایسی بھی گزری جس نے دنیا کو ذلیل و رسوا کردیا، دنیا کا غرور و تکبر خاک میں ملا دیا، دنیا کو مخاطب ہوکر حضرت علیؑ نے کہا اے دنیا، دور ہو جا مجھ سے، کیوں میرے سامنے خود کو لاتی ہے! جا میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دے، مجھے تیری ضرورت نہیں ہے، میں تجھے تین بار طلاق دے چکا ہوں جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔


سجی سنوری اور فریب خوردہ دنیا سے اس طرح برآت کرنا اور تین طلاق دے کر اپنے سے جدا کردینا صرف اور صرف اسی کا کارنامہ ہو سکتا ہے جس نے راہ خدا میں اپنے نفس کو بیچ کر آزادی خرید لی ہو، یقینا ایسی شخصیات کمالات کا مظہر ہوتی ہیں۔ وہ شخصیت کیسی تھی جس کی محبت میں لوگوں نے مصیبتیں برداشت کیں، سر کٹوا دئیے مگر محبت کی آگ ٹھنڈی نہ ہونے دی، وہ کیسی ہستی ہیں جس کے لیے آج بھی ہزاروں دل دھڑک رہے ہیں، جس کے لئے آج بھی ہزاروں جانیں قربان ہونے کو تیار ہیں، نہیں معلوم وہ کون ہیں، کیا کہتے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں؟

اس موقع پر غیر مسلم دانشورں کے ذریعہ امام علیؑ کے بارے میں بیان کیے گئے خصائص پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے جو انتہائی سبق آموز اور نصیحت آمیز ہیں۔ سلیمان کتانی کا امام علیؑ کے بارے میں یہ ایک جملہ کتنا سچا اور پیارا ہے کہ تمام فضائل و خصائل حضرت علیؑ میں اکٹھے ہو گئے تھے، وہ جب منظر عام پر آئے تو انسان کی عظمت بلند ہوئی اور یہ امام علیؑ ہی کی مرہون منت ہے۔عیسائی مصنف پول سلما امام علیؑ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جی ہاں میں ایک عیسائی ہوں، لیکن وسعت نظر کا حامل ہوں، تنگ نظر نہیں، گرچہ میں عیسائی ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا کہنا ہے کہ خدا ان سے راضی ہے، ایسی شخصیت جس کا عیسائی احترام کرتے ہیں اور اپنے اجتماعات میں ان کی ذات کو موضوع سخن قرار دیتے ہیں اور ان کے فرامین کو اپنے لئے نمونہ عمل سمجھتے ہیں۔


آئینہ تاریخ نے پاک و پاکیزہ اور اپنے نفس کو کچلنے والی بعض نمایاں ہستیوں کی واضح تصویر کشی کی ہے، ان میں علیؑ کو سب سے برتری حاصل ہے۔ یتیموں اور فقراء کی حالت زار دیکھ کر غم سے نڈھال ہوکر آپ کی حالت ہی غیر ہوجاتی تھی۔ اے علیؑ آپ کی شخصیت کا مقام ستاروں کے مدار سے بھی بلند و برتر ہے۔ یہ نور کی خاصیت ہے کہ پاک و پاکیزہ باقی رہتا ہے اور گرد و نواح کے گرد و غبار اسے داغدار اور آلودہ نہیں کرسکتے۔ وہ شخص جو شخصیت کے اعتبار سے آراستہ پیراستہ ہو وہ ہرگز فقیر نہیں ہوسکتا، آپ کی نجابت و شرافت دوسروں کے غم بانٹنے کے ذریعے پروان چڑھی، شک نہیں کہ دینداری اور ایمان کی حفاظت میں جام شہادت نوش کرنے والا مسکراتے ہوے ہر درد و الم کو قبول کرتا ہے۔

کیا قابل غور نہیں کہ ایک عیسائی اس والہانہ انداز میں گفتگو کر رہا ہے اور وہ بھی امام علیؑ کے سلسلہ سے اگر ایک عیسائی دانشورعلیؑ کی شخصیت میں دوسروں کا درد دیکھ رہا ہے، فقرا کو دیکھ کرعلیؑ کا مچلنا دیکھ رہا ہے تو ایسے میں ایک علیؑ کے چاہنے والے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کیا علیؑ کی زندگی ہم سے مطالبہ نہیں کرتی کہ ہم اپنے سماج اور معاشرہ میں غریب و نادار طبقے کا ہاتھ پکڑیں؟ کیا علیؑ کی زندگی ہم سے مطالبہ نہیں کرتی کہ دوسروں کا غم بانٹیں، انہیں ہلکا کریں، اگر علیؑ کی شخصیت درد و غم و اندوز سے نکھرتی ہے تو ہمیں بھی مصائب و آلام اور پریشانیوں میں خود کو سنبھالتے ہوئے جادہ عشق پر سر بلند و سرفراز ہو کر چلنا ہوگا۔


برطانوی مصنف اور ماہر تعلیؑم سائمن اوکلے کہتے ہیں کہ علیؑ ایسے صاحب فصاحت تھے کہ عرب میں ان کی باتیں زبان زد عام ہیں، آپ ایسے غنی تھے کہ مساکین کا ان کے گرد حلقہ رہتا تھا، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی ایسی ہے کہ ہمارے ارد گرد مساکین و فقراء کا حلقہ رہے؟ یا ہم اس حلقہ کو ڈھونڈتے ہیں جہاں اغنیاء و ثروت مند افراد نظر آتے ہیں؟ ایک مقام پر فرانس کے میڈم ڈیالفو کہتے ہیں کہ آپ اسلام کی سر بلندی کے لیے مظلومیت کے ساتھ وہ بھی جام شہادت نوش کرگئے، حضرت علیؑ وہ باعظمت ہستی ہیں جن کا ہر عمل اور کام مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ ہوا کرتا تھا۔ یہ صرف فرانس کے دانشور ہی نہیں بلکہ برطانوی ماہر تاریخ ایڈوڈ گیبن بھی امام علیؑ کے بارے میں کہتے نظر آتے ہیں کہ حضرت علیؑ لڑائی میں بہادر اور تقریروں میں فصیح تھے، وہ دوستوں پر شفیق اور دشمنوں پر فراخ دل تھے۔

ہمیں ایک بار پھر خود سے سوال کرنا ہے کہ کیا ہمارا غم وہی ہے جو علیؑ کا تھا، کیا ہماری زندگی میں وہ توحید پائی جاتی ہے جس کے لئے علیؑ نے جنگیں لڑیں، کیا ہمارا مزاج مسلمانوں کے ساتھ ویسے ہی منصفانہ ہے جیسا امام علیؑ کا تھا؟ مذکورہ مصنفین کے جملوں کو دیکھیں اور خود کو ان جملوں کے میزان پر تولیں کیا ہم ایسے ہی ہیں؟ کیا ہم اپنے بھائیوں اور برادران دینی کے ساتھ منصفانہ مزاج رکھتے ہیں؟ کیا ہمارا کام ہمارا عمل حتی ہمارا نظریہ منصفانہ معیاروں پر استوار ہے؟ کیا جہاں ہم ہیں وہاں انصاف و عدل کی خوشبو آتی ہے یا جہاں پہنچ جائیں وہاں ظلم کا سیاہ دھواں اٹھتا نظر آتا ہے، کیا ہم اپنے دوستوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں، کیا اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا عداوت و دشمنی کا کوئی معیار ہے، یا جو فراخ دلی امام علی علیہ السلام کی دشمنوں کے ساتھ تھی وہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ بھی نہیں دکھا پاتے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔