طنز و مزاح: یہاں الیکشن کے سوا ہر شئے فری ہے... تقدیس نقوی

میرصاحب بار بار کہہ رہے تھے کہ مہربان، قدردان ہماری الیکشن ریلی میں آئیے اور فری چاول، فری وائی فائی، فری گیس، فری لیپ ٹاپ، فری سائیکل، فری بس سروس اور سب سے بڑھ کر”کورونا ویکسین” فری لے جائیے۔

تصویر بشکریہ نیو انڈین ایکسپریس
تصویر بشکریہ نیو انڈین ایکسپریس
user

تقدیس نقوی

’’بھائی جان، قدردان، مہربان اندر آئیے۔ ہمارے شو میں آج آپ کے لئے ہر چیز فری ہے، صحیح نشان پر نشانہ لگائیے اور چیز فری لے جائیے‘‘ ہم لوگوں نے اپنے لڑکپن کے دنوں میں سالانہ میلوں میں تماش گیروں سے اپنی جانب کھیچنے والے ایسے مقناطیسی جملے سنے تھے جس کو سن کر لوگ دور دور سے ان کی جانب کھنچے چلے آتے تھے۔ لفظ ’’فری‘‘ میں جو جاذبیت اور کشش ہے وہ کسی دوسرے لفظ میں بھلا کہاں۔ مشاہدہ کہتا ہے کہ ہمارے ملک میں اگر کہیں زہر کی پڑیا بھی فری دی جانے کا اعلان ہو رہا ہو تو بعض دور اندیش لوگ یہ سوچ کر دو پڑیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہیں پہلی پڑیا کا زہر بے اثر نکلا تو دوسری تو احتیاطاً پاس ہونا چاہیے جبکہ زہرفری مل رہا ہو۔

میلوں میں دل کو گرما دینے والی اس امید افزاء صدا کو سن کر ہم جیسے کتنے ہی سادہ لوح لوگ جب تماش گاہ کے اندر داخل ہوتے تھے تو ان کے چہرے کھلے ہوتے تھے جہاں اپنی خوش قسمتی پر بھرپور اعتماد اور چند سکوں کے عوض پوری دنیا فتح کرلینے کا عزم صاف جھلکتا تھا۔ اپنی جانب دعوت دینے والے اس جادوگر کی آوازمیں کچھ اس قدر اعتماد اور یقین محکم گھلا ہوتا تھا کہ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود بھی کہ یہاں آنے والے اکثر لوگ اپنی جیب خالی کر کے ہی واپس جاتے ہیں لوگ جوق درجوق اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

بھونپو کے ذریعہ چیخ چیخ کر اپنے تماشہ کی طرف دعوت دینے والے اونچے سے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے اس نقیب کا مقصد نہ صرف اپنے تماشہ کے اردگرد بھیڑ اکھٹا کرنا ہوتا ہے بلکہ بھیڑ کو یہ باور بھی کرانا ہوتا ہے کہ وہ وہاں بغیر کچھ خرچ کیے صرف اپنی قسمت کے بل بوتے پر ہزاروں روپئے کے انعامات فری لیکر جاسکتے ہیں، بس شرط ایک دو بازی آزمانے کی ہے۔ ساتھ ہی اس کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کے سامنے اس کے اردگرد چل رہے دوسرے تماشوں کو فراڈ اور دھوکا ثابت کرسکے۔

مگر آج اپنے میرصاحب کی زبان سے جاری اسی قسم کے جملوں کی تکرار نے ہمیں اک بار پھر ہمارے بچپن کے دنوں کے میلوں میں لگے تماشوں میں لگتی ان آوازوں کی یاد تازہ کرا دی۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ ’’مہربان، قدردان ہماری الیکشن ریلی میں آئیے اور فری چاول، فری وائی فائی، فری گیس، فری لیپ ٹاپ، فری سائیکل، فری بس سروس اور سب سے بڑھ کر”کورونا ویکسین” فری لیجائیے۔ اور اگر آپ کو یہ سب کچھ فری لے جانے کی فرصت نہیں ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم بہت جلد آپ کے گھر فری نوکریاں لیکر آئیں گے، بس سوال آپ کے ایک قیمتی ووٹ کا ہے‘‘۔

ہمیں معلوم ہے آج کل میر صاحب کے صوبہ میں اسمبلی الیکشن کی بہار آئی ہوئی ہے اور پورے صوبہ میں ہر سو ایک تہوار کا سماں نظر آرہا ہے۔ اسی لئے میر صاحب ہمارے توسط سے لوگوں کو الیکشن ریلیوں میں فری چیزیں دینے کے لئے کیے جانے والے وعدے سننے کی دعوت دے رہے تھے۔ میر صاحب کے صوبہ میں اس الیکشن کے موقعہ پرجگہ جگہ اکھٹی ہو رہی بھیڑ اور اس کی ضیافت کے بڑے پیمانہ پر اہتمام کو دیکھ کر اس افواہ پر یقین کرنے کو دل چاہنے لگا کہ کورونا اب ہمارے ملک سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوچکا ہے۔ ویسے کورونا بیچارے کی جتنی درگت بنتی ہوئی الیکشن کے دوران دیکھنے کو ملی اتنی کسی اور موقعہ پر نہیں دیکھی۔ جس اپوزیشن پارٹی کی ریلی یا جلسہ میں زیادہ بھیڑ جمع ہونے کا خدشہ محسوس ہوا وہاں اس بے چارے کورونا کو نازل کرا دیا جاتا ہے اور اس کے خوف کے بگل بجا دیئے جاتے ہیں۔ اور جہاں اپنی پارٹی کی پارٹی منانے کا دل چاہتا ہے وہاں سے اسے ایسے غائب کر دیا جاتا ہے جیسے ملک سے برے دن غائب کر دیئے گئے ہیں۔

اس بار میر صاحب کے صوبہ کے الیکشن کی خاص بات یہ دیکھنے میں آرہی تھی کہ الیکشن کے اس دنگل میں کودی ہر سیاسی پارٹی عوام سے کچھ نہ کچھ فری دینے کا وعدہ کرتی نظر آرہی ہے۔ یوں تو برسوں سے ہوتے چلے آرہے الیکشن میلوں میں اس قسم کے وعدے کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، مگر اس بار الیکشن کی ان ریلیوں میں ایسی چیزوں کو بھی فری دینے کے لچھے دار وعدے کیے جا رہے ہیں جو ابھی تک ناپید ہیں اور جن کے پیدا ہونے کی مستقبل قریب میں کوئی امید بھی نہیں ہے۔ ان اشیاء میں “کورونا ویکسین” سرفہرست ہے جس کے وعدہ کو الیکشن جیتنے کا ماسٹر اسٹروک مانا جا رہا ہے۔ کیونکہ جو ویکسین پوری دنیا میں ابھی تک کہیں دریافت نہیں کی جاسکی ہے اسے اس الیکشن ریلیوں میں فری بانٹا جا رہا ہے۔ شاید اسی حقیقیت کی تلخیص میر صاحب اپنے ایک جملہ کے ذریعہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

میر صاحب نے اس الیکشن میلہ کی لائیو رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت حکمراں جماعت کے جلسہ یا تماش گاہ میں حاضری دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی آدھی سے زیادہ بھیڑ جلسہ سے کچھ دور فاصلہ پرمعزز مہمان کی آمد سے زیادہ اس کے ہیلی کاپٹر کو میدان میں دھول آڑاتے ہوئے دلچسپ منظر کو دیکھنے کے لئے کھڑی تھی۔ کچھ مرد اپنے بچوں کو کاندھے پر اٹھائے اور عورتیں اپنے کولھوں پرننگ دھڑنگ کمسن بچوں کو بٹھائے آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے قریب سے ہیلی کوپٹر کی اک جھلک فری میں دیکھنے کے لئے بے چین کھڑے تھے۔ گھنٹوں کھلے آسمان کے نیچے انتظار کرنے کے باوجود بھی جب ہیلی کاپٹر کی فری زیارت نصیب نہ ہوئی تو یہ بھیڑ مایوس ہوکر جلسہ گاہ کے باہر لگے کھانے پینے کے اسٹال کے آگے قطار لگا کر کھڑی ہوگئی جہاں حکمراں جماعت کی طرف سے فری کھانا تقسیم کیا جانا تھا، مگر بلائے گئے لیڈر صاحب کے بھاشن کے بعد۔ اس شرط کو سن کر وہاں جمع بھوکی بھیڑ اب ہیلی کاپٹر کی آمد سے زیادہ اس کے واپس اڑجانے کی بیچینی سے منتظر تھی۔ جبکہ لوگوں کی کیفیت الیکشن ریلی میں آئے ہیلی کاپٹر کے اڑجانے کے بعد وہی ہوتی ہے جو تماشاگاہ سے باہر نکلتے ہوئے ہارے ہوئے تماش بینوں کی ہوتی ہے کیونکہ دونوں ہی صورتوں میں بعد میں ہاتھ کچھ نہیں لگتا، سوائے جھوٹے وعدوں کے۔ پھر بھی بھیڑ فری میں مل رہی ہر چیز کو حاصل کرنے کا کوئی موقعہ گنوانا نہیں چاہتی تھی بھلے ہی وہ کورونا ویکسین فری دینے کا وعدہ ہی کیوں نہ ہو۔ بقولے غالب ‘‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے‘‘

مشہور ہے اک محترمہ کو جب اک دکان پر سیلس بوائے نے نئی ساری کی قیمت ایک ہزار بتائی تو انھوں نے اس سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے ساری کی قیمت سو روپئے لگا دی۔ یہ سن کر سیلس مین کو محترمہ کی غیر سنجیدگی کا احساس ہوا تو اس نے محترمہ سے کہا کہ ٹھیک ہے سو روپئے میں ہی لے جاؤ۔ یہ سوچ کر کہ سیلسمین انہیں چالاکی سے کوئی گھٹیا ساری پکڑانا چاہتا ہے انھوں نے گھبرا کر کہا اگر فری دو تو ساری لے لونگی۔ یہ سن کر سیلس مین نے بھی ان کی پول کھولنے کی غرض سے جواب دیا کہ ٹھیک ہے فری ہی لے جاؤ۔ محترمہ سٹپٹاکر کہنے لگیں ’’تو پھر میں دوساریاں لوں گی‘‘۔

Published: 8 Nov 2020, 10:11 PM
پسندیدہ ترین
next