سماجی

راجیو گاندھی کی یاد میں: ’وہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سَکا‘

راجیو گاندھی ایک سچے انسان تھے وہ ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے اور اس صف میں کھڑا کرنا چاہتے تھے جہاں ہندوستان کی عزت ہو۔

قومی آواز/پرمود پشکرنا
قومی آواز/پرمود پشکرنا

سید خرم رضا

راجیو گاندھی ایک سچے انسان تھے وہ ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھےاور اس صف میں کھڑا کرنا چاہتے تھے جہاں ہندوستان کی عزت ہو۔ اس کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے اس شخص نے جو کچھ اپنے تعلیمی دور میں یورپی ممالک میں اچھی چیزیں دیکھی تھیں ان سب چیزوں کو ہندوستان میں لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ اسی لئے آج جس ترقی یافتہ اور طاقت ور ہندوستان کی ہم بات کر تے ہیں اس کی بنیاد راجیو گاندھی نے رکھی تھی اور اگر وہ بنیاد اس وقت نہ رکھی گئی ہوتی تو آج ہمارا سینہ فخر سے چوڑا نہیں ہوتا۔

راجیو گاندھی کے دور اقتدار میں جہاں ہندوستان نے دفاعی میدان میں حصولیابیاں حاصل کیں تو وہیں ہندوستان کو ڈیجٹل بنانے کا کریڈٹ بھی راجیو گاندھی کو جاتا ہے۔ ہندوستان کو کمپیوٹر میں طاقت ور بنانا انہیں کی دین ہے۔ کمپیوٹر کی اس وقت بڑی مخالفت ہوئی تھی لیکن راجیو گاندھی کو مستقبل صاف نظر آ رہا تھا۔ ان کے سامنے یہ تصویر صاف تھی کہ آنے والا دور کمپیوٹر کا ہی ہے۔ انہوں نے ووٹ دینے کی عمر 21 سے کم کر کے 18برس کی اور نوجوانوں کو جدید ہندوستان کی تعمیر کا حصہ دار بنایا، پنچایتی راج کے نفاذ سے جمہوریت کو بنیادی جڑوں تک پہنچایا، فیصلہ سازی میں خواتین، نوجوانوں، پچھڑے طبقوں کی حصہ داری کو یقینی بنایا گیا۔

راجیو گاندھی نے ہمیشہ ایک بات کہی ہے کہ کانگریس اپنے بنیادی اصولوں کو نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ ان اصولوں کو چھوڑ کر زیادہ دیر تک آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سماج، سیاست اور معیشت میں جن فوائد کا ہم ذکر کرتے ہیں، ان کی شروعات راجیو گاندھی نے ہی کی تھی۔ غریبوں کی زندگی میں خوشحالی لانے کا قدم ان کی زندگی میں اٹھایا گیا۔

راجیو گاندھی ایک ایسے سچے انسان تھے جس کا دل تمام برائیوں سے پاک تھا۔ انہوں نے اپنے عہدے، ملک اور رشتوں سے کبھی بھی بے ایمانی نہیں کی۔ اپنی بیوی سونیا سے بے پناہ محبت کرنے والے راجیو نے کبھی اپنی والدہ کا دل نہیں دکھا یا، اپنے بچوں کی طرف سے کبھی غافل نہیں ہوئے اوراپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری سے نبھایا۔

میں یہی کہوں گا...

وہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا

کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا

اس شور شرابے کی سیاست میں راجیو گاندھی جیسے خاموش طبعیت اور دوراندیش سیاست داں کی بہت ضرورت ہے۔

Published: 21 May 2019, 10:10 AM