نفرت کی دنیا کو چھوڑ کے، پیار کی دنیا میں... سہیل انجم

سوال یہ ہے کہ ایک خالص مجرمانہ واقعہ کو ہندو مسلم رنگ کیوں دیا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں سیاست کیوں کی جا رہی ہے۔ کیا کیا جائے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو یہی سیاست سوٹ کرتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

اس وقت مجھے 1971 میں آئی فلم ’’ہاتھی میرے ساتھی‘‘ کی یاد شدت سے آرہی ہے۔ اس میں اپنے وقت کے سپر اسٹار راجیش کھنہ نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ ان کے مقابل تنوجہ نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس میں ایک ہاتھی کا زبردست رول ہے جو راجیش کھنہ کا دوست ہوتا ہے۔ وہ انسانوں سے بے حد پیار کرتا ہے۔ لیکن ایک انجانے خوف میں مبتلا ہو کر تنوجہ نے اسے گولی مار دی تھی۔

اس سانحہ کا راجیش کھنہ پر بہت زبردست اثر پڑا تھا اور انھوں نے محمد رفیع کا گایا ہوا ایک نغمہ گایا تھا جو بے حد مقبول ہوا تھا۔ اس کے بول تھے ’’نفرت کی دنیا کو چھوڑ کے، پیار کی دنیا میں خوش رہنا میرے یار۔ جب جانور کوئی کسی انسان کو مارے، کہتے ہیں دنیا میں وحشی اسے سارے۔ اک جانور کی جان آج انسانوں نے لی ہے، چپ کیوں ہے سنسار‘‘۔

وہ فلمی باتیں تھیں۔ آج حقیقت اس سے مختلف ہے۔ آج ایک بار پھر ہاتھی جیسے جانور کو کچھ لوگوں نے انتہائی وحشت ناک انداز میں ہلاک کر دیا ہے۔ لیکن آج سنسار چپ نہیں ہے۔ لوگ بول رہے ہیں اور خوب بول رہے ہیں۔ تمام تر شعبہ ہائے حیات کے لوگ بول رہے ہیں۔ کیا بالی ووڈ، کیا اسپورٹس، کیا سیاست اور کیا دوسرا شعبہ زندگی۔ کیرالہ میں ایک حاملہ ہتھنی کی ہلاکت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔

ہندوستان کے معروف صنعت کار رتن ٹاٹا نے بھی ہتھنی کی ہلاکت پر غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’’میں یہ جان کر انتہائی دکھی اور حیرت زدہ ہوں کہ لوگوں کے ایک گروپ نے ایک بے قصور اور حاملہ ہتھنی کو پٹاخے بھرا انناس کھلا کر مار دیا۔ بے گناہ جانوروں کے خلاف ایسی مجرمانہ حرکتیں انسانوں کے سوچے سمجھے قتل سے کم نہیں۔ انصاف ہونا ہی چاہیے۔‘‘

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے صدمے میں ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ’’ہمیں جانوروں کے ساتھ پیار سے پیش آنا چاہیے اور ان کے خلاف ایسی حرکتیں بند ہونی چاہئیں۔‘‘ انہوں نے ہتھنی اور اس کے پیٹ میں پل رہے بچے کا کارٹون بھی پوسٹ کیا ہے۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت، کے ایل راہل، سریش رینا نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کرکٹ کھلاڑی ہربھجن سنگھ نے کئی ٹوئٹ کیے۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو سزا ملنی ہی چاہیے۔ ایک بے گناہ حاملہ ہتھنی کے ساتھ ایسی بربریت کیسے کی جاسکتی ہے۔

ہندوستانی بیڈمنٹن اسٹار سائنا نہوال نے ٹوئٹ کیا ’’یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘‘ ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے کپتان سنیل چھیتری نے ہتھنی کو ہلاک کرنے والوں کو راکشش قرار دیتے ہوئے کہا ’’راکششو، مجھے بہت امید ہے کہ تم لوگوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘ عالمی شہرت یافتہ سینڈ آرٹسٹ سدرشن پٹنائک نے بھی ہتھنی کے قتل پر اپنے فن کے ذریعہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ’’انسانیت پھر شرمسار ہوئی۔ ہاتھیوں کے تحفظ پر میرا ایک سینڈ آرٹ۔‘‘

سوشل میڈیا پر بھی اس سانحہ پر رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں نے الگ الگ انداز میں کارٹون بنا کر ہتھنی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور اپنے غم و غصے کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایسا واقعہ ہے کہ جس نے بھی سنا وہ اپنا دل تھام کر رہ گیا۔ اس کی موت انتہائی دردناک انداز میں ہوئی۔ یہ کیرالہ کہ پلکڈ ضلع کا واقعہ ہے۔ ہتھنی کھانے کی تلاش میں جنگل سے نکل کر آبادی میں آگئی۔ وہاں اسے ایک انناس نظر آیا۔ اس نے اسے اٹھایا اور منہ میں رکھ کر کھانے لگی۔ اچانک زوردار دھماکہ ہوا اور اس کے منہ سے لے کر حلق تک سب کچھ بری طرح زخمی ہو گیا۔

انناس کے اندر پٹاخہ بھرا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس علاقے میں جنگلی سوور فصلیں تباہ کر دیتے ہیں۔ اس لیے لوگوں نے فصلوں کے بچاؤ اور سووروں کی ہلاکت کے لیے یہ طریقہ نکالا ہے کہ پھلوں میں پٹاخے چھپا دیتے ہیں۔ جانور انھیں کھاتے ہیں۔ دھماکہ ہوتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔ مذکورہ ہتھنی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حالانکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس نے کسی کی فصل تباہ نہیں کی تھی۔ لیکن کسی دوسرے کی غلطیوں کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا۔

اس حادثے کے بعد کئی روز تک ہتھنی درد سے پریشان رہی اور ادھر ادھر بھاگتی رہی۔ اس بھاگ دوڑ میں وہ ملاپورم میں پہنچ گئی۔ اس نے اپنے درد کو کم کرنے کے لیے پانی کا سہارا لیا۔ یعنی وہ گلے گلے تک پانی میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ شاید اس سے اس کو کچھ سکون ملا ہوگا۔ لیکن اسی عرصے میں کھڑے کھڑے اس کی موت ہو گئی اور وہ پانی میں گر گئی۔ اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بتاتی ہے کہ اس کے منہ میں زبردست زخم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ دو ہفتے تک نہ تو کچھ کھا سکی تھی نہ ہی پی سکی تھی۔ کمزوری کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔

لیکن اس سانحہ کو کچھ لوگوں نے اپنی سیاست کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ لوگ جو ہر معاملے کو بڑی تیزی سے ہندو مسلم رنگ دے دیتے ہیں فوراً سرگرم ہو گئے۔ جلتے میں گھی ڈالا بی جے پی کی ایم پی اور سابق وزیر مینکا گاندھی نے۔ انھوں نے ملاپورم اور وہاں کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے فوراً اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا اور ایک بیان میں کہا کہ مسلم اکثریتی ضلع ملا پورم میں جانوروں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ہر تیسرے روز ایک ہاتھی مار دیا جاتا ہے۔ عورتوں کی بھی خوب ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’راہل گاندھی اس علاقے سے رکن پارلیمنٹ ہیں انہوں نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟‘‘ خیال رہے کہ راہل گاندھی ملاپورم نہیں بلکہ وائناڈ حلقہ سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔

بی جے پی رہنماؤں نے کیرالا کی بایاں محاذ حکومت پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پینارائی وجیئن حکومت ملاپورم میں کوئی کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔’’کیرالا میں مشہور ہے کہ وہاں کچھ بھی مارو کیرالا حکومت کوئی کارروائی نہیں کرنے والی۔ بہت ہی بھیانک حالت ہے ملا پورم کی۔‘‘ خیال رہے کہ ملاپورم مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔2011 کی مردم شماری کے مطابق وہاں مسلمانوں کی تعداد 70.24 فیصد ہے۔

مینکا گاندھی نے ملاپورم کو ایک جرائم پسند ضلع بتایا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں جرائم بہت کم ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ حادثہ ملا پورم کا ہے ہی نہیں۔ ہتھنی نے دوسرے ضلع میں انناس کھایا اور دوڑتی بھاگتی ملاپورم پہنچ گئی جہاں اس کی موت ہو گئی۔ ملاپورم کا اس واقعہ سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ لیکن ملا پورم ایک مسلم اکثریتی ضلع ہے اس لیے مینکا گاندھی اور بی جے پی والوں نے اسے دوسرا رنگ دے دیا۔

بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ٹرول برگیڈ نے بھی مورچہ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف چیزیں پوسٹ کی جانے لگیں۔ یہاں تک لکھا گیا کہ چونکہ ہاتھی ہندو مذہبی علامت ہے اس لیے مسلمانوں نے اسے مار دیا۔ ان لوگوں کا جواب کانگریس نے اور دوسرے لوگوں نے دیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایک خالص مجرمانہ واقعہ کو ہندو مسلم رنگ کیوں دیا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں سیاست کیوں کی جا رہی ہے۔ کیا کیا جائے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو یہی سیاست سوٹ کرتی ہے۔ تعمیری انداز میں سوچنا تو ان کے بس میں ہے ہی نہیں۔

next