کیوں نہ کہوں: نئے دور کے نئے تقاضوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے... سید خرم رضا

سبھی لوگوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے، بدلے ہوئے حالات میں نئے معاشی راستوں پر غور کر نے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ طبی تقاضوں پر عمل کرنا چاہیے۔ نئے دور کے نئے تقاضے ہیں ان پر غور کر کے نئے راستے نکالنے چاہئیں

user

سید خرم رضا

85 سال بعد استنبول کا وہ آیا صوفیہ میوزیم عدالت کے فیصلہ کے بعد دوبارہ مسجد میں تبدیل ہوگیا جو ویسے تو چرچ تھا لیکن سلطنت عثمانیہ نے اسے خرید کر مسجد میں تبدیل کر دیا تھا اور پھر 1934 میں مصطفی کمال اتاترک (بابائے ترک) نے اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا۔ میوزیم بننے کے بعد یہ دنیا کا ایک بڑا سیاحتی مقام بن گیا تھا اور استنبول کو سیاحوں کے لئے ایک پسندیدہ شہر بنانے میں اس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ عدالت نے ہندوستان میں بھی سینکڑوں سال سے چل رہے بابری مسجد- رام مندر تنازعہ کو حل کرتے ہوئے حیران کن انداز میں مسجد کے انہدام کو غلط ٹھہراتے ہوئے متنازعہ عراضی پر رام مندر تعمیر کی اجازت دے دی تھی۔ اب 5 اگست کو وزیر اعظم مودی نے رام مندر کی تعمیر کے لئے ’بھومی پوجن‘ بھی کر دیا۔ عدالتوں نے اپنے اپنے فیصلے سنا دیئے اور ایک ملک میں عدالت نے مسجد کی اجازت دے دی تو دوسرے نے مندر کی۔

جب کورونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی تھی تو ایسا لگا تھا کہ جیسے دنیا کا کاروبار تھم سا گیا ہے لیکن انسان تو انسان ہی ہے کتنے دن لاک ڈاؤن میں قید رہتا۔ اس کی سماجی اور معاشی ضرورتوں نے اسے پریشان کرنا شروع کر دیا، پھر شروع ہوا اَن لاک کا عمل، دھیرے دھیرے لوگوں نے پہلے اپنی ضروریات کے لئے گھر سے نکلنا شروع کیا اور پھر دیگر سماجی تقاضہ بھی پورے کرنے شروع کر دیئے۔ کچھ لوگوں نے زیادہ احتیاط برتی تو کچھ لوگ اس وبا کو خاطر میں ہی نہیں لائے۔ گھر میں رہنے کا شروع کا جوش اور نئے نئے کام کرنے کا شوق بھی ہلکے ہلکے کافور ہوتا نظر آیا۔ اب چین دراندازی بھی کر رہا ہے، انتخابات کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں، حکومت گرانے اور بچانے کے عمل بھی زورو شور سے چل رہے ہیں، مندر کی تعمیر کے لئے بھومی پوجن بھی ہو رہا ہے۔ یہ ہے اصلی انسان جو کچھ دنوں کے لئے تو وکاس دوبے کی خبروں میں غرق رہتا ہے لیکن پھر آگے بڑھ جاتا ہے اور اسے پھر اس سے کوئی غرض نہیں رہتا کہ اس معاملہ میں اب کیا ہو رہا ہے۔ اگر یہ انسانی فطرت نہ ہوتی تو شائد وہ پاگل ہو جاتا۔

لاک ڈاؤن کی مدت جیسے جیسے بڑھتی گئی ویسے ویسے انسان پریشان ہو نے لگا اور وہ ایک عجیب سے ڈپریشن کا شکار ہوتا ہوا نظر آیا۔ مغرب کے کئی ملکوں میں تو لاک ڈاؤن کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔ یہ اس وبا کا ایک پہلو ہے لیکن دوسرا پہلو بڑا عجیب و غریب ہے۔ کسی بھی ڈاٹا، تحقیق اور اعداد و شمار سے آپ کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ گرم ممالک اور موسم گرما میں یہ وبائی وائرس پھیل ہی نہیں سکتا، لاک ڈاؤن کے بعد اس کی چین ٹوٹ جاتی ہے، گھنی آبادی میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے، طبی سہولیات یا مدافعتی نظام کا اہم کردار ہے۔

بہرحال ہر پہلو کا جواب ہے۔ ہمارے یہاں گرمی کا کوئی اثر نظر نہیں آیا، ہمارے پڑوسی ملک سری لنکا میں نہ کے برابر معاملات ہیں، پاکستان جہاں کے نظام پر سوال کھڑے ہوتے رہتے ہیں وہاں معاملات کم ہیں، چین جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور جہاں سے مبینہ طور پر یہ وبائی وائرس پھیلا وہاں پر کیس لاکھ تک بھی نہیں پہنچ پائے اور قابو بھی پا لیا، امریکہ جو دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے، جہاں آبادی کا تناسب بھی کم ہے وہاں معاملات بھی سب سے زیادہ ہیں، اموات بھی سب سے زیادہ ہیں، جو رکنے کا نام بھی نہیں لے رہیں۔ جیسے یوروپی ممالک میں ایک لہر کے بعد معاملات اور اموات رک گئی ہیں، ملیشیا، سنگاپور اور انڈونیشیا میں سخت لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا لیکن معاملات میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اضافہ نہیں دیکھنے میں آیا۔ بہرحال کسی بھی نظریہ اور اعداد و شمار سے آپ کسی بھی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کو کوئی وبا زیادہ دن تک قید میں نہیں رکھ سکتی، سماجی، طبی اور معاشی تقاضوں کی وجہ سے اس کا باہر آنا لازمی ہے، لیکن ان تقاضوں کو پورا کرتے وقت اس کو اپنی ترجیحات طے کرنا چاہئیں اور غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مذہبی اور سیاسی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر طبی اور معاشی ضروریات پر توجہ دینا چاہیے۔ سر جوڑ کر بیٹھنے، بدلے ہوئے حالات میں نئے معاشی راستوں پر غور کر نے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ طبی تقاضوں پر عمل کرنا چاہیے۔ نئے دور کے نئے تقاضہ ہیں ان پر غور کر کے نئے راستے نکالنے چاہئیں۔

Published: 9 Aug 2020, 8:09 PM
next