’بے حسی شرط ہے جینے کے لیے‘... سراج نقوی

تمام واقعات درحقیقت ہمارے سماج، ہمارے حکمرانوں، نوکر شاہوں اور سماج کے دیگر افراد میں بڑھتی ہوئی بے حسی کا ہی ثبوت ہیں، شائد ہم نے یہ مان لیا ہے کہ ’بے حسی شرط ہے جینے کے لیے...‘۔

www.hobbyfarms.com
www.hobbyfarms.com
user

سراج نقوی

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی دو تصویروں نے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پہلی تصویر میں ایک گدھے کے پیچھے کچھ بھیڑوں کو سڑک پار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گدھا سڑک پر دوسری طرف سے آنے والی گاڑیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑ ک پار کر رہا ہے۔ بھیڑوں کا جھنڈ آنے والے خطرات سے بے خبر ہے اور ’’بھیڑ چال‘‘ محاورے کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے گدھے کے پیچھے پیچھے وہ بھی سڑک پار کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی بھیڑیں تیز رفتار گاڑیوں کی چپیٹ میں آکر جان گنوا دیتی ہیں، لیکن ظاہر ہے گدھے پر اپنی ’اندھ بھکت‘ بھیڑوں کی موت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مذکورہ تصویر میں پیش کی گئی صورتحال کی تشریح کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ عوام کے ایک مخصوص طبقے کی اندھ بھکتی نے ملک کو جن سنگین حالات میں پہنچا دیا ہے اس پر درمندانہ فکر اور پر امن و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج اس لیے ضروری ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا اور حالات کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس لیے کہ اقدار و افکار کا زیاں جان کے زیاں سے زیادہ سنگین نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ اور یہاں توعوام کو دونوں طرح کے زیاں کا سامنا ہے۔ ناعاقبت اندیش قیادت نے کورونا سے جنگ لڑ رہے عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ان کی نگاہ میں انتخابی ریلیوں میں شرکت زیادہ حب الوطنی ہے۔ وہ اس سچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اہل وطن سے ہی وطن کا وجود ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آنکھیں چرا رہے ہیں کہ حکومت لاشوں پر نہیں زندہ انسانوں پر کی جاتی ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی اندھی تقلید کرنے والے بھی عقل کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں۔ ملک کو تباہی سے بچانے کے ایسے تمام عناصر کے خلاف پر امن لیکن فیصلہ کن جنگ ضروری ہے۔

دوسری تصویر ایک ایسے میدان کی ہے جہاں تیز دھوپ ہے اور دور دورتک کوئی شجر سایہ دار نہیں ہے۔ میدان میں ایک شیرنی ایک ہاتھی کے ساتھ جا رہی ہے، جبکہ شیرنی کے بچّے کو ہاتھی نے اپنی سونڈ میں اس لیے اٹھا رکھا ہے تاکہ بچہ دھوپ کی تمازت سے حتی الامکان محفوظ رہے اور اسے پیدل نہ چلنا پڑے۔ شیرنی جو ماں بھی ہے ایک دوسرے جنگلی جانور یعنی ہاتھی کے تعلق سے پر اعتماد نظر آرہی ہے۔ تصویر اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگل کے دو درندوں میں بھی دردمندی اور آپسی تعاون کا وہ رشتہ ممکن ہے جو آج کے انسان میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس تصویر کو سامنے رکھ کر ہم ملک کے حالات پر غور کریں تو تکلیف دہ نتائج سامنے آئیں گے۔

پورے ملک میں کورونا مریضوں کے تعلق سے سرکاری اداروں، سیاست دانوں اور نوکر شاہی کی اکثریت کا جو رویہ ہے اس کا مختصر بیان بھی ممکن نہیں۔ اتر پردیش میں کورونا کی صورتحال انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ خود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کورونا پازیٹیو ہونے کے بعد زیر علاج ہیں۔ اس کے باوجود حالات یہ ہیں کہ چاہے وہ کورونا مریض ہوں یا دیگر عوام ان کا حکمرانوں اور نوکر شاہوں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب عوام کے تعلق سے سیاست دانوں یا نوکر شاہوں کی بے حسی ہے۔ چند روز قبل ہی مدھیہ پردیش کے وزیر پریم سنگھ پٹیل کا ایک بیان اس بے حسی کا ہی نمونہ ہے۔ پٹیل سے ایک صحافی نے یہ کہنے کی غلطی کر دی تھی کہ ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر موصوف نے اس کا کوئی جواب دینے کی بجائے صحافی سے کہا کہ ’’کورونا سے ہو رہی اموات کو کوئی نہیں روک سکتا، جن کی عمر ہو گئی ہے انھیں تو مرنا ہی ہے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ کیا علاج کے بہتر انتظامات کرنے کی ذمہ داری سے اس طرح کے لچر اور غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر بچا جا سکتا ہے؟ دلّی میں کورونا مریضوں کے علاج میں ہونے والی مجرمانہ تساہلی اور آکسیجن کی سپلائی میں ہو رہی کمی کو دیکھتے ہوئے ہی دہلی ہائی کورٹ کو اپنے ایک تلخ تبصرے میں کہنا پڑا کہ ’’چاہے بھیک مانگو، قرض لو یا چوری کرو، آکسیجن فراہم کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آخر حکومت حقیقت سے آنکھیں کیوں چرا رہی ہے۔؟‘‘عدالت نے سخت لہجے میں سوال کیا کہ آخر ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘عدالت کا یہ تبصرہ دراصل ملک کی بے حس قیادت کے منھ پر طمانچے کے مترادف ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ بے حسی طمانچہ کھانے والوں سے احساس شرمندگی بھی چھین لیتی ہے۔ یہ حکمرانوں کی بے حسی ہی ہے کہ ایک طرف ملک کے عوام کورونا کا مناسب علاج نہ ہونے کے سبب مر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمراں عوامی یا عدالتی تنقیدوں سے بے پروا ہو کر مغربی بنگال اور آسام کی انتخابی ریلیوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم ہی ان دونوں ریاستوں میں 25 انتخابی ریلیوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہر روز کم از کم ایک مرتبہ اعلیٰ قومی و ریاستی قیادتیں کورونا کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیکر انتظامیہ کو چست درست کریں اور علاج کی راہ میں آنے والے مسائل یا شکایات کا ترجیحی بنیاد پر ازالہ کریں۔

حکمرانوں کی بے حسی نے حالات کو کس حد تک بگاڑ دیا ہے اس کی ایک مثال اتر پردیش میں گزشتہ ہفتے ایک ہندی روزنامے میں شائع خبر ہے۔ اس خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا کے سبب ہونے والی اموات نے شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کو بھی مشکل بنا دیا ہے اور لوگوں سے آخری رسومات کے کے لیے 20 ہزار روپئے تک ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد انتظامیہ نے کیا قدم اٹھائے یہ واضح نہیں ہے، لیکن اس طرح کی خبریں ہماری بے حسی کا ہی ثبوت ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں اس بیماری کے نتیجے میں پیدا حالات کو ’مواقع‘ نہیں بلکہ ذمہ داری اور فرض مان کر قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ حکم ضرور دیا ہے کہ جان بچانے والی دوائیوں کی کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف گنگسٹر ایکٹ اور این ایس اے کے تحت کارروائی کی جائے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ریاست میں اعلیٰ سطح کی طبّی سہولیات دستیاب کرانے کے لیے حکومت پر عزم ہے، لیکن دوسری طرف ریاستی راجدھانی لکھنؤ کے ’میو اسپتال‘ کے تعلق سے ایک خبر کچھ اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ وہاں آکسیجن ختم ہونے کے سبب کورونا مریضوں سے گھر جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کو 400 سلنڈر فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن سلنڈر نہ پہنچنے کے سبب اسپتال کے ذمہ داروں کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ریاست کے دیگر شہروں کانپور، آگرہ وغیرہ سے بھی ایسی ہی خبریں سامنے آئی ہیں، آگرہ میں تو بی جے پی کے ایک لیڈر ونیت اگروال کو ہی سرکاری بد انتظامی کا شکار ہونا پڑا۔ اس صورتحال پر کانگریس نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ وہ آکسیجن اور دوائیوں کی کالا بازاری روکنے میں ناکام کیوں ہے؟

کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ لوگ کورونا سے ہلاک ہو رہے ہیں لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انتخابی ریلیوں میں قہقہے لگا رہے ہیں۔ معاملہ صرف مغربی بنگال یا آسام میں انتخابی ریلیوں کا ہی نہیں ہے۔ اتر پردیش میں بھی پنچایتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی مختلف حلقوں کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ پڑوسی ریاست اتراکھنڈ میں کمبھ کا میلہ وزیر اعظم کی ’علامتی کمبھ‘ کی اپیل کے باوجود جاری ہے۔ حکومتوں کے اس رویے پر 9 ریاستوں کی ہائی کورٹس نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ان کی سرزنش کر چکی ہیں۔ یہ تمام واقعات درحقیقت ہمارے سماج، ہمارے حکمرانوں، نوکر شاہوں اور سماج کے دیگر افراد میں بڑھتی ہوئی بے حسی کا ہی ثبوت ہیں۔ شائد ہم نے یہ مان لیا ہے کہ ’بے حسی شرط ہے جینے کے لیے‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔