طنز و مزاح: مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا... تقدیس نقوی

ایک غریب نے کسی حکومتی اہلکار سے پوچھا جب سارا ملک بھگوان ہی چلا رہا ہے تو پھر آپ کیا کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے بڑے تحمل سے جواب دیا "ہم عوام سے تھالی بجوا رہے ہیں"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

گزشتہ دنوں ملک میں جی ڈی پی کی خودکشی کے نتیجہ میں ملکی معیشیت کے جنازہ کو کاندھا دینے کے لئے ہماری وزیر مالیات نے یہ کہہ کر اپنا کاندھا پیش کیا کہ وہ بذات خود یا ان کی حکومت بھی ملکی معیشیت کو موت کی نیند سو جانے سے نہیں روک سکتے کیونکہ یہ ’ایکٹ آف گاڈ‘ یعنی خدائی کام ہے جس میں دخل اندازی کرنا کسی بھی انسان کے لئے گھور پاپ ہے۔ یہ تو بھلا ہو اس کورونا کا جس نے ملک کو درپیش تمام سنگین مسائل کو بھگوان کے کھاتہ میں ڈلوا نے کی راہ آسان کردی جس کے سبب آج حکومت کے اہلکار سینہ ٹھوک کر ملک کے ہر مسئلہ کو 'ایکٹ آف گاڈ ' کہہ کر اپنا پلہ جھاڑنے کے قابل ہوسکے۔ اک جانب پالیسیوں کی ناکامی کو چھپانے کے لئے کورونا مہا ماری کا پردہ بڑا موثر ثابت ہو رہا ہے تو دوسری جانب اسی مہا ماری کے سبب عوام کی نقل وحرکت کو پابند کرنے سے ان کی قوت احتجاج سلب کرلی گئی ہے۔ شاید اسی لئے اس مہا ماری کو گمبھیر مسئلہ کی جگہ 'اوسَر' یعنی اپارچونٹی بتایا جارہا ہے۔

فاضل وزیر کیونکہ ہندوستانیوں سے انگریزی ہی میں مخاطب ہوکر راشٹر وادی ہونے کا ثبوت دینا پسند فرماتی ہیں اس لئے انھیں مجبوراً "’ایکٹ آف گاڈ‘ کا سہارا لینا پڑا ورنہ اگر ہماری شمالی ریاستوں کا کوئی راشٹروادی لیڈر وزیر مالیات ہوتا اور اس مباحثہ میں اپنا 'یوگ دان' کرتا تو ایودھیا یا رام مندر سے کم پر راضی نہ ہوتا اور اس معاشی بحران کو بھگوان کا وردان گردانتا، جسے ہم سب بھارت واسی 'اوسر' سمجھ کے تھالی بجاکر خوشی خوشی قبول کرلیتے۔ اس ’ایکٹ آف گاڈ‘ کے منتر سے اب کتنے ہی اگلے پچھلے حساب چکتا کرنے کی سبیل نکل آئی ہے۔ اب وہ چاہے نوٹ بندی سے ٹوٹی غریب عوام کی کمر ہو یا جی ایس ٹی کے ہنٹر سے چھوٹے کاروباریوں کے لہولہاں جسم کے رستے زخم ہوں، سب ہی کے زخموں کو آج کل ’ایکٹ آف گاڈ‘ مرہم لگایا جا رہا ہے۔

روز بروز بڑھتی ان عوامی مشکلات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جن کا حل ڈھونڈنے یا اس سمت کچھ موثراقدامات اٹھانے سے زیادہ آسان عوام کو بھگوان کے گھر کا راستہ دکھانا ہے۔ کچھ سیدھے سچے عوام نے تو ان تمام مشکلات کو آسمانی قہر مانتے ہوئے ان سے جلد چھٹکارہ پانے کی غرض سے بھگوان کے گھر میں پرساد چڑھانے کے لئے قطاریں بنانا شروع کردی ہیں۔ بھگوان کے گھر پہنچ کر سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں ہر مشکل کا علاج سو دوسو روپئے کا پرساد چڑھا کر بآسانی ہوجاتا ہے۔ رہی سہی کسر وہاں موجود بھگوان کے نمائندے پوری کردیتے ہیں جو اپنے علم و فراست کے ذریعہ ہر سوالی کو یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ ان کی تمام مشکلات بشمول کورونا، بھک مری، بے روزگاری، جبری ہجرت وغیرہ سب بھگوان کا کام ہے جسے ہر انسان کو بسر وچشم خوشی سے قبول کرنا چاہیے۔

بھگوان کے یہ نمائندے عوام کو اکثر یہ بات بھی سمجھاتے ہیں کہ ان مشکلات کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا اور حکومت کی شکایت کرنا گویا بھگوان کا شکوہ کرنا ہوگا جو مہا پاپ ہوتا ہے۔ لہذا اگر نرک سے بچنا ہے تو اپنا منہ بند رکھو اور حکومت کی پالیسیوں کےخلاف کچھ کہنے سے پہلے اوپر کے نرک سے زیادہ دھرتی کے نرک یعنی جیل کے بارے میں سوچو جہاں آج کل حکومت مخالف لوگوں کی موجودگی کے سبب تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ آج کل لوگ وہاں پہنچتے ہی اوپر کے نرک میں جلد جانے کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی غیرت مند شخص بھگوان کے ان نمائندوں کو چیلنج کرنے کی غلطی سے ہمت کر بیٹھے تو اس پر فوراً دیش دروہ کی دفاعیں لاگو کردی جاتی ہیں۔

جس طرح اک گاوں میں وہاں کے زمین دار نے کسانوں کی زمینیں ہتھیانے کا یہ طریقہ ایجاد کیا کہ فصل کی بوائی کے وقت اس نے کسانوں کو دیئے گئے قرض کے عوض ان کی زمینوں کو اپنے پاس رہن رکھوا لیا۔ جب فصل تیار ہوگئی تو اس میں اپنے اہلکاروں سے آگ لگوادی۔ اپنی سازش پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے گاوں کی پنچایت بلائی جس میں گاوں کے بڑے مندر کے پروہت کو بھی بلایا گیا۔ لٹے پٹے قرض کے بوجھ کے تلے دبے کسانوں کے سامنے زمیندار کے ساتھ گاوں کے پروہت جی نے یہ بات دہرائی کہ یہ تیار فصلوں میں اچانک آگ لگ جانا دراصل بھگوان کا کام ہے۔ اس میں ہم سب بے بس ہیں۔ نتیجتاً سب کسانوں کو اپنی زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مگر یہ کھلی دھاندلی دیکھ کر اس مجمع میں سے اک نوجوان اٹھا اور اس نے اک پتھر آٹھاکر پروہت جی کے سر پر دے مارا۔ لوگوں نے اسے پکڑ کر پوچھا کہ آخر اس نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ تو اس نے جواب دیا: "یہ میں نے نہیں کیا یہ تو بھگوان کا کام ہے ہم سب تو بے بس ہیں" اس نوجوان کی بات کا کوئی جواب نہ پاکر اس کے خلاف انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے مجبوراً دیش دروہ کا مقدمہ قائم کرنا پڑا۔

کیونکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے لیکر حالیہ فارم اور لیبر بل تک سب کچھ بھگوان کے کھاتہ میں ڈالا جا رہا ہے اس لئے بھگوان کے یہاں بھی فائلوں کا ڈھیر لگنے لگا ہے اور ابھی تک کسی معاملہ کی بھی سنوآئی نہی ہوسکی ہے۔ ہمارا دل کہتا ہے کہ بھگوان کی ترجیحات بھی ملک کے کارپوریٹ سیکٹر کی ترجیحات کے مطابق ہی سیٹ کرائی جا رہی ہوں گی۔ اس لئے غریب عوام کو بے روزگاری اور بھک مری یا کسانوں کی خودکشیوں جیسے چھوٹے چھوٹے معاملات کے سلسلے میں بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ بھگوان کے سامنے حکومتی اداروں اور انڈسٹریز کا نجی کرن، بنکوں کی بدحالی اور سرحدوں پر تناو جیسے اہم معاملات زیر غور ہیں، ان کے پاس یہ چھوٹے چھوٹے معاملات دیکھنے کا ٹائم کہاں ہے۔ ویسے کئی صوبوں میں الیکشن بھی سر پر کھڑے ہیں جس کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کو ناراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات ان پڑھ جتنا کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔

ایک بہت مشھور معروف مندر میں ملک کی سب سے امیر ترین شخصیت شری اجمانی بھگوان کی مورتی کے سامنے کھڑے ہوئے اپنے لئے کروڑوں روپئے کے کسی بہت بڑے پروجیکٹ کو گورنمنٹ کی جانب سے ایوارڈ ہوجانے کی دعا مانگ رہے تھے۔ ساتھ ہی کھڑا بھگوان کا دوسرا بھکت بھی بھگوان سے گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا: "بھگوان مجھے پانچ ہزار روپئے دیدو گیارہ روپئے کا پرساد چڑھاؤں گا"

اجمانی صاحب نے ساتھ کھڑے بھکت کی دعا سن کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے پانچ ہزار روپئے اس بھکت کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولے: "لے بھائی یہ بھگوان سے اپنی مانگی ہوئی رقم پکڑ۔ تیرے پانچ ہزار کے چکر میں کہیں بھگوان کا دھیان کروڑوں روپئے کی پروجیکٹ کی دعا سے بھٹک گیا تو میرا تو کروڑوں کا نقصان ہوجائیگا" بس اسی طرح غریب عوام کو پانچ کلو چاول کے پیکٹ دے کر سکون سے سو جانے کے لئے کہا جارہا ہے۔ ایک غریب نے کسی حکومتی اہلکار سے پوچھا جب سارا ملک بھگوان ہی چلا رہا ہے تو پھر آپ کیا کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے بڑے تحمل سے جواب دیا: " ہم عوام سے تھالی بجوا رہے ہیں"

Published: 4 Oct 2020, 8:10 PM
next