روزہ ایسی عبادت ہے جو ایک مضبوط سماج کی تشکیل میں مدد کرتا ہے

ماہ رمضان کے دوران ہم اپنے آس پاس پیدا ہونے والی ریاکاری، غرور وتکبر وغیرہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، یعنی روزہ وہ عبادت ہے جو ایک مضبوط سماج کی تشکیل میں مدد کرتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اس سال کا ماہ رمضان بہت مختلف قسم کا ہے اور پوری دنیا کو اس سال ایک نئے دور سے گزرنا پڑ رہا ہے جو اس کے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئے لاک ڈاؤن نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو مقید کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کو زندگی کے ہر پہلو پر از سر نو غور و خوض کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ رمضان کے تعلق سے بھی انسان کو نئے طرح سے سوچنا پڑ رہا ہے۔ اس کی توجہ اب سحری اور افطار تک مرکوز نہیں ہے بلکہ اس کو روزہ کے الگ الگ پہلو پر بھی غور کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جن عبادات کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کا مقصد محض عبادت اور مخصوص حرکات و سکنات کی صورت میں چند رسومات کی ادائیگی نہیں ہے، بلکہ ان سب میں انسانی جسم و روح کی اصلاح اور بالیدگی کا ایک تصور کار فرما ہے۔ اس میں روحانی و مادی دونوں اعتبار سے ایک فکر اور فلسفہ کار فرما ہے۔ ان سے کچھ مقاصد وابستہ ہیں جن کی تکمیل سے خالق کائنات اپنی شاہکار تخلیق انسان کی خاص نہج پر تربیت کرکے اسے اعلی ترین مقام پر فائز کرنا چاہتا ہے۔


اس لئے خالق عالم نے اپنی تخلیق کے اس شاہکار کو نظام عبادات کی صورت میں ایک ایسا تربیتی نظام دیا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ اس نظام عبادت کے عناصر میں سے روزہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ روزے کے کچھ روحانی اور سماجی پہلو ہیں جن میں سے کچھ پر آج غور کرتے ہیں تاکہ قارئین ماہ مقدس رمضان المبارک میں غوروفکر اور عمل کے ذریعہ سے کما حقہ روزے کے ظاہر و باطنی آداب کو پورا کرکے اس کے حقیقی روحانی برکات سے لطف اندوز ہوسکیں۔

ایک کسان جب کھیت میں بیج بوتا ہے تو کچھ عرصہ کے بعد زمین سے نرم و نازک اور ملائم کونپلیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین سے کچھ خود سے جڑی بوٹیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں، جو فصل کی افزائش میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ چنانچہ کسان ان کو نکال دیتا ہے۔ اس طرح زمین کی افزائشی صلاحیت پوری طرح سے اس بیج کی طرف متوجہ ہوتی ہے، نتیجتاً فصل عمدہ، بہتر اور نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ بلاشبہ سال بھر میں ایک مہینہ کے روزے نفس انسانی میں پیدا ہوجانے والے امراض، غفلت، ریاکاری، غرور وتکبر وغیرہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔


روزے روح کو تقویت اور اخلاق فاضلہ و اعمال صالحہ کی ادائےگی اور ان کی لذت و کیف میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس سے انسان کو سماج سے نشو و نما کے لئے تمام ضروری صلاحیتیں مل جاتی ہیں اور اس کی شخصیت واپسی میں پورے سماج کو بہترین ثمر کی شکل میں ملتی ہے، جیسے اس بیج سے پیدا ہونے والی اشیا سے ملتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ روزہ کے دوران ہم اپنے آس پاس پیدا ہونے والی ریاکاری، غرور وتکبر وغیرہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، یعنی روزہ وہ عبادت ہے جو ایک مضبوط سماج کی تشکیل میں مدد کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Apr 2020, 1:11 PM