اعظم گڑھ کے گمنام شہید انقلابی راجہ ارادت جہاں... یومِ شہادت کے موقع پر خاص

راجہ ارادت جہاں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے اپنی دلیری اور جرات مندی سے انگریزوں کو متحیر کر دیا تھا لیکن ان کے غدار بھائی کی وجہ سے ان کی مہم طویل نہیں چل پائی۔

جونپور کا شاہی قلعہ
جونپور کا شاہی قلعہ
user

شاہد صدیقی علیگ

راجہ ارادت جہاں، یوم شہادت 27؍ستمبر 1857ء

مادرِ ہند کو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزاد کرانے کے لیے جن سورماؤں نے سر پہ کفن باندھا تھا ان کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جن میں سے بہت سے شہیدان وطن ایسے بھی ہیں، جنہیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر گمنامی اور تاریکی کے گہرے غار میں ڈھکیل دیا گیا، جبکہ ان کا جذبہ ایثار و قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سبق آموز اور مشعل راہ ہے، ایسی ہی ایک عظیم ہستی راجہ ارادت جہاں کی ہے، جنہوں نے 1857ء کی پہلی ملک گیر جدوجہد آزادی میں شیراز ہند جونپور کی قیادت کی تھی اور آزادی ہند کی خاطر جامِ شہادت نوش کرنے والوں میں جونپور ضلع کا پہلا شہید ہونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔

راجہ ارادت جہاں جنہیں عزت جہاں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ارادت جہاں کا سلسلہ حضرت سیدنا امام زین العابدین سے ملتا ہے۔ ان کے مورث اعلیٰ سید جہاں علی کی بہادری کو دیکھ کر مغل شہنشاہ اکبر نے انہیں راجہ کا خطاب اور ماہل جاگیر عطا کی۔ راجہ ارادت جہاں کی پیدائش 1801ء میں ماہل ضلع اعظم گڑھ کے راجہ مبارک جہاں کے گھر پر ہوئی۔ راجہ ارادت جہاں کے والد نے ان کی تعلیم وتربیت کے ساتھ فن سپاہی پر بھی خصوصی توجہ دی، چنانچہ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کے ساتھ ساتھ جنگی امور پر جلد قدرت حاصل کرلی، سن شعور کے بعد نواب اودھ کی فوج میں بھرتی ہوگئے اور اپنی جنگی صلاحیتوں کی بنا پرسلطنت اودھ کے نور نظر بن گئے۔


15؍نومبر 1856ء کو اودھ کے ناظم نظر حسین نے ارادت جہاں کو بارہ ضلعوں کا نائب ناظم بنا کر بھیجا۔ جس کا مرکزی مقام جون پور تھا۔ ایسٹ ا نڈیا کمپنی نے نواب اودھ واجد علی شاہ کو معزول کرنے کے بعد صوبہ اودھ کو ضم کرلیا، انگریزوں کے اس بد بختانہ قدم نے اودھ کے راجگان، تعلقدار اور زمینداران میں ایک غیر یقینی فضا پیدا کر دی۔ اسی اثنا میں باندہ ریاست کے نواب علی بہادرکے یہاں 1856ء میں شادی کی ایک تقریب ہوئی، جس میں راجگان، نوابین اور تعلقداران نے شرکت کی، جنہوں نے رسم شادی سے فارغ ہوکر حالا ت حاضرہ کے مدنظر ایک خفیہ میٹنگ منعقد کی، جس میں تمام شرکاء کی باہم رضامندی کے بعد طے پایا کہ بہادر شاہ کی قیادت میں انگریزوں سے مقابلہ کیا جائے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو مال گزاری دینے کے بجائے دہلی بھیجی جائے، چنانچہ راجہ ارادت جہاں نے 1857ء کا ناقوس پھونکتے ہی مال گزاری دینے سے انکار کر دیا۔ 26 ؍جون 1857ء کو ماہل پر قابض ہوکر اپنی حکمرانی کا اعلان کیا اور جونپور کے شاہی قلعہ کو اپنا مستقر بنایا۔ انہیں معاشرے کے ہر طبقے کے علاوہ ر اج کمار، شہزادے اور پلوار قبیلے کے لوگوں کی بھی حمایت حاصل تھی، جسے دیکھ کر ہی انگریز حکام کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔

18؍ستمبر کو کرنل رافٹن کو اپنے مخبروں سے خبر ملی کہ اعظم گڑھ میں باغیوں کی ایک بڑی جماعت نے آزادی کا اعلان کر دیا، جسے کچلنے کے لیے سردست کیپٹن بائیلو کو 1200 ؍گورکھوں کے ساتھ بھیجا۔ جس نے فتح مندوری کے بعد موقع تاڑ کر جب راجہ اردت جہاں 25؍ستمبر کو ماہل گئے تھے تو ان کے قلعہ پر حملہ کر دیا، دیوان مہتاب رائے نے منھ توڑ جواب دیا مگر انگریزی لاؤ لشکر کا آخر کہاں تک مقابلہ کرتے نتیجاً گرفتار کرلیے گئے، معرکہ آرائی میں ان کے کمانڈر مہدی جہاں اور صفدر جہاں کے ساتھ کافی لوگ جاں بحق ہوئے۔ جن کی قبریں آج بھی وہاں موجود ہیں۔


دیوان مہاب رائے نے انگریزوں سے کہا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، آپ کا مطالبہ راجہ ارادت جہاں ہی پورا کرسکتے ہیں مگر وہ مبارک پور گئے ہوئے ہیں، لہٰذا انگریز دیوان مہاب رائے کو اپنے ساتھ مبارک پور لے گئے اور 27؍ستمبر کو کرنل رافٹن نے توپ خانہ کے ساتھ مبارک پور پر حملہ کر دیا۔ ارادت جہا ں کے سپہ سالاروں امر سنگھ اور مخدوم بخش نے انگریزوں کو دن میں تارے دکھا دیئے اور مہتاب رائے کو بھی چھڑا لیا، نیز ان کے لڑکے مظفر جہاں نے تگھرا تحصیل اور دیدار گنج تھانے پر قبضہ کرلیا، جنگ چار دن تک جاری رہی۔

راجہ ارادت جہاں کا پلڑا بھاری دیکھ فرنگی افسران نے ان کے رشتہ کے بھائی فصاحت جہاں سے صلح نامہ کرانے کی درخواست کی اور اسے سبز باغ بھی دکھائے، آخرکار وہ کمپنی کے جال میں پھنس گیا اور انگریزوں سے مل کر مشرقی علاقہ جات کے حاکم بننے کا خواب دیکھنے لگا۔ اس نے راجہ ارادت جہاں کو صلح کے لیے راضی کر لیا، کیونکہ معاہدے کے مطابق انگریزوں کو راجہ ارادت جہاں کے قبضے کیے ہوئے علاقے واپس کرنے تھے، مگر امرسنگھ اور مخدوم بخش عہد شکن انگریزوں سے کسی بھی سمجھوتے کرنے کے خلاف تھے، لیکن ان کی رائے کو راجہ ارادت جہاں نے ان سنا کر دیا۔ موجی پور قلعے اور مبارک پور کے مابین ایک آم کے باغ میں بعد وقت ظہر معاہدہ کے لیے طے پایا۔ دور اندیش کمانڈر امر سنگھ موجی قلعہ میں اور مخدوم بخش مبارک پور کوٹ میں ہی رک گئے۔


راجہ ارادت جہاں نے نماز ظہر ادا کرنے کے بعد اپنے40 ؍ غیر مسلح ساتھیوں اور رشتے کے بھائی فصاحت جہاں کے ہمراہ آم کے باغ کا رخ کیا، برسات کا موسم تھا۔ مکّی کی تیار فصلیں چاروں طرف کھڑی تھیں۔ جس میں انگریز کمانڈر نے اپنی فوجیں چھپا رکھیں تھیں۔ جیسے ہی را جہ ارادت جہاں آم کے باغ میں پہنچے ویسے ہی انگریزوں نے حملہ کر کے انہیں معہ 40؍ ساتھیوں کو اسیر کرلیا، انگریزوں کا مکر وفریب دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے، انہوں نے بچ کر نکلنے کی کوشش کی جسے ان کے بھائی فصاحت جہاں نے ناکام بنا دی۔ یکے بعد دیگر ان کے تمام ساتھیوں کو آم کے درخت پر سولی پر چڑھا دیا گیا۔

جابر انگریزوں نے اپنے مطالبات راجہ ارادت جہاں کے سامنے رکھے، جنہیں انہوں نے سرے سے خارج کر دیئے۔ اس پر چراغ پا ہوکر دغاباز انگریز افسر نے را جہ ارادت جہاں کے گلے میں پھندا ڈالا اور ہاتھی کو درخت کے نیچے لے جاکر مہاوت کو اسے ہٹانے کا حکم دیا، مگر ہاتھی نے جنبش تک نہیں کھائی تو اسے گولی کا نشانہ بناکر گرا دیا، جس کے باعث راجہ ار ادت جہاں کا جسم آم کے پیڑ پر جھولنے لگا، اس طرح جون پور کی انقلابی مہم کا روح رواں 27؍ستمبر 1857ء کو مادر ہند کی آبرو وبقا کے لیے قربان ہوگیا، لیکن پھانسی پے چڑھنے سے قبل راجہ ارادت جہاں نے فریبی فصاحت جہاں سے کہا کہ ’’بھائی جان اور کوئی حسرت ہے۔‘‘ لیکن فصاحت جہاں فرنگیوں کی دجالی فطرت سے واقف نہیں تھا کہ وہ اپنی غرض اور مقصد پورا کرنے کے بعد اپنے مہرے کو بھی اس کے انجام تک پہنچانے میں دیر نہیں لگاتے، چنانچہ ننگ وطن اور ننگ دین فصاحت جہاں کو یہ کہتے ہوئے کہ’’ جب تم اپنے بھائی کے نہ ہوئے تو تم پر کوئی اطمینان نہیں کرسکتا ‘‘یہ کہہ کر اس کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا۔


بلا شبہ راجہ ارادت جہاں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے اپنی دلیری اور جرات مندی سے انگریزوں کو متحیر کر دیا تھا لیکن ان کے غدار بھائی کی وجہ سے ان کی مہم طویل نہیں چل پائی، مگرراجہ ارادت جہاں کا کردار تحریک آزادی ہند کا ایسا روشن باب ہے جس کے تذکرے کے بغیر تاریخ ہند ناقص اور نامکمل ہی تصور کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Sep 2021, 2:11 PM