164ویں یوم سقوط دہلی کے موقع پر: انگریزوں کے تین دلال

20 ستمبر 1857 کو انگریز وں نے دلّی کو روند ڈالا، لیکن دلّی پر انگریزوں کی فتح کا سہرا ان غداروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے کمپنی بہادر کے مفاد کو اپنا انفرادی فائدہ اور نقصان سمجھ کر ان کی معاونت کی۔

تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

جعفر از بنگال، صادق از دکن

ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن

(علامہ اقبال)

رابرٹ کلائیو تا لارڈ ڈلہوز ی کی شطرنجی چالوں سے انگریز برصغیر کے سیاہ وسفید کے مالک بن گئے تھے، تاہم ان کی ریشہ دوانیوں میں ہندوستان کے ایسے نمک حرام اور ابن الوقت کپوت بھی شامل ہیں جنہیں اپنے ناپاک عزائم کی خاطر قومی اور ملی مفادات کی بولی لگانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوئی۔سراج الدولہ کی شکست،ٹیپو سلطان کی پسپائی، مجاہدین سرہندکی ہزمیت اور 1857ء کی پہلی جنگ آزادی نیز سقوط دلّی جہاں ہر محاذ پرغداروں، دلالوں اور مخبروں کا ایک ایسا گروہ موجود تھا جنہیں رشوت اور مختلف لالچ کے ذریعہ خریداگیا تھا۔

دلّی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف 11 مئی کو طبل بغاوت بجا اور 20 ستمبر کو انگریز وں نے دلّی کو روند ڈالا، لیکن دلّی پر انگریزوں کی فتح کا سہرا، ان کی مدبر انہ صلاحیتوں، جدید عصری آلات اور سامانِ حرب کے بجائے ان غداروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے کمپنی بہادر کے مفاد کو اپنا انفرادی فائدہ اور نقصان سمجھ کر ان کی معاونت کیں۔

بیرونی سوداگروں کو اس بات کا پورا علم تھا کہ وہ ہندوستانی غیور عوام سے سیدھی جنگ میںکبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں چنانچہ انہوں نے ہڈسن کی نگرانی میں ایک شعبہ خبر رسانی کا محکمہ قائم کیا۔جس نے دلّی کے چپے چپے پر مخبروں کا ایک وسیع جال بیچھا دیا۔قلعہ اور پورے شہر دہلی میں جاٹ مل جیسے پیشہ ورجاسوس موجود تھے جواپنے سفید آقاﺅں کے اشاروں پر رقص ابلیس کررہے تھے جن میں قابل ذکر نام ہیں، محبوب خاں، میر محمد علی میگھ راج ہر چند گوسائی، کلّو، پربھو، گوپال شوکی،نول، اچھّو، ہرگوبند رستم علی، راجن گوجر، سیدو، گوری شنکر،تراب علی، فتح محمد خان،ہیئت رام، لوکھ رام اور مان سنگھ، لطافت وغیرہ۔ ان کی حرص وطمع جب تک نہیں مٹی جب تک انہوں نے بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی، شہزادوں کا قتل اور بے گناہ عام شہریوں کا خون ناحق اپنی نظروں سے نہ دیکھ لیا۔


سقو طِ دلی کے تین اہم کردار سید مولوی رجب علی، منشی جیون لعل اورمرزا الہی بخشی تھے۔اس تثلیث نے بہادر شاہ ظفر کی رہنمائی میں مزاحمت کررہے ان بے لوث وطن پرستوں کی قربانیوں کو خاک میں ملانے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی، جو نہ صرف جنگی سامان کی کمی سے پریشان تھے بلکہ ا نہیں دو جون کی روٹی بھی نصیب نہیں تھی،مگر ان کالے انگریزوں کا ایک ہی ہدف تھا کہ کسی بھی صورت میں مغلیہ سلطنت کا استیصال ہونی چاہیے۔ ان کی کالی کرتوتیں اس دور کے سرکاری دستاویزوں اور برطانوی افسران کے ریکارڈز میں جگہ بہ جگہ بکھری ہوئی دیکھی جاسکتی ہی۔

مولوی سیدرجب علی: مولوی سید رجب علی پرانا انگریز ی ملازم تھا، جسے مغلیہ سلطنت کو نیست ونابو د کرنے کے لیے پنجاب سے بلایا گیا تھااور اس نے بھی اپنی بدبختانہ حرکتوں سے اپنے فرنگی حکام کو مایوس نہیں کیا۔اس نے تمام جاسوسوں کو ایک دھاگے میں پرونے کا کا م بڑی عمدگی سے کیا۔ اس نے مخبری کے نئے طریقے و ضع کرکے انقلابیوں کی ہر حکمت عملی سے بروقت اپنے آقاﺅں کو اطلاع فراہم کی۔ علاوہ ازیں اس نے انقلابی فوجیوں کے درمیان نااتفاقی پید اکرنے کی کوشش بھی کی۔مغلیہ سلطنت کے تاراج کے بعد وہ حج پر روانہ ہو گیا۔

164ویں یوم سقوط دہلی کے موقع پر: انگریزوں کے تین دلال

کیو براﺅن کے مطابق :

’’وہ روزانہ شہر کے مرکز سے،جانچ سے بچنے کے لیے پرندہ، چپاتی، جوتے کے تلے پگڑی کی تہوں یا سکھوں کے الجھے بالوں میں چھپا کر کاغذ کے پرزے بھیجتا تھا۔ جس میں شہر کی ساری خبریں ہوتی تھیں، اس کی ترکیب اتنی تردد سے پاک تھی کہ اس پر کسی نے کبھی شک نہیں کیا۔‘‘

منشی جیون لعل: منشی جیون لعل کائستھ جو انگریز حاکموں کا محرر تھا۔جس کا سلسلہ اورنگ زیب کے وزیر رگھوویرناتھ سے ملتا ہے بموجب اس کا دربار معلی سے نزدیکی رشتہ تھا۔ دوران محاصرہ دہلی اس نے ہر خبرکو برطا نوی خیمہ میں موجود اعلیٰ خفیہ اہل کاروں سے ساجھا کیا وہ متعدد مرتبہ شک کے گھیرے میں آیا مگر قلعہ کے تعلقات کی نسبت سے جان بچتی رہی۔


منشی جیون لعل اپنی مخبری کے متعلق بڑے فخر سے رقم کرتا ہے کہ:

باغیوں کی کا رو ائیوں کی خبریں حاصل کرنے کے ارادے سے میں نے دو براہمنوں گردھاری مشرا اور ہیرا سنگھ مشرا اور دو جاٹوں کی خدمات حاصل کیں۔ان کا کام یہ تھاکہ وہ شہر کی اورقلعہ کی تمام خبریںمجھے لاکر دیاکریںتاکہ میں سلطنت کے اعلیٰ افسروں کو اطلاع دہی کے لئے سچے واقعات کوقلم بند کرلیاکروں۔میرے گرفتارہوجانے پر لالہ شیام لعل نے مرزا الہی بخش کو لکھا کہ اب امداد کاوقت ہے، اس لیے کہ وہ انگریزی ملازم ہیں اور آپ بھی ا نگریزوں کے بہی خواہ ہیں، مرزا کے صاحب زادے کاآج صبح انتقال ہوگیا تھا اور وہ جلدی سے تجہیز وتکفین کرکے میری مددکرنے کے لیے آگئی، ان سے بڑھ کرسچا دوست کبھی میسر نہیں آسکتا۔

مرزا الہٰی بخش: بادشاہ سلامت بہادر شاہ ظفر کا سمدھی تھا۔ منشی رجب علی کے بھیجے گئے جاسوس الہی بخش کے پاس آکر ہی ٹھہرتے تھے اوران کی نازبیہ حرکتوں میںالہٰی بخش انکا معاون ہوتا تھا۔اس نے اپنی ٹولی کے معتدد ممبران کو انقلابیوں کے غیظ وغضب سے بھی بچایا جس کے گواہ غداروں کے خطوط ہیں۔ اس نے بادشاہ کی گرفتاری سے لے کر شہزادوں کے قتل میں بھی اپنی حصہ داری انجام دیں۔لیکن وہ اتنا چالاک تھا کہ اس پرشروع تا آخر شک کی انگلی تک نہیں اٹھی۔

ان وطن فروش عناصر کے علاوہ کچھ ہندوستان کی چھوٹی بڑی خصوصاً 48 ریاستوں کے غدار والیان بھی تھی، جنہوں نے اس پر آشوب دور میں انگریزوں کی مددکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اخبار ’دی ٹائمس‘ کا جنگی صحافی و لیم رسل لکھتا ہے کہ:

”اگر پٹیالہ اور جھیند کے راجہ ہمارے ساتھ دوستی نہ نبھاتے اوراگر سکھ ہماری پلٹنوں میں نہ ہوتے اورادھرپنجاب کو خاموش نہ رکھتے،تو ہماری دلّی کا محاصرہ کرنا قطعی ناممکن ہوتا۔ لکھنؤ میں بھی سکھ قوم ہماری معاون ہوئی اور ہر مقام پر جس طر ح ہندوستانی ہماری فوجوں میں بھرتی ہوکر لڑائی میں ہماری قوت کوبڑھاتے تھے اسی طرح ہر جگہ ہندوستانی ہی ہماری گھِری ہوئی فوجوں کی مدد کرتے تھی‘ہمیں کھانا پہنچاتے تھے اور ہماری خدمت کرتے تھی۔“


نانا صاحب ہندوستانیوں کی اس دغابازی سے بری طرح ٹوٹ گئے تھے۔جس کا اظہار ان کے خط کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہوجاتا ہے کہ:

”یہ شکست سارے ہندوستان کی شکست ہے۔ میری اکیلے کی نہیں گورکھے، سکھ اوررجواڑوں کی وجہ سے ہی یہ ہار ہوئی......میں سارے ملک کی آزادی کے لیے زندہ رہا اور لڑا۔ ان ظالم رجواڑ وں نے اپنے مفاد کی خاطر ملک کو انگریزوں کے حوالے کردیا،نہیں تو ان فرنگیوں کی ہمارے سامنے کیا بساط تھی۔

انگریز مورخ جان ولیم کئی نے اپنی تصنیف’ سپاہی وار انڈیا‘میں لکھا ہے کہ:

’’حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں ہماری بحالی کا سہرا ہمارے ہندوستانی پیر وکاروں کے سر ہے جن کی ہمت وجسارت نے ہندوستان کو اپنے ہم وطنوں سے چھین کر ہمارے حوالے کردیا۔‘‘

انگریز مؤرخ کئی کی بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ایسے انگریز کاسہ برداروں کی بدولت ہی فرنگیوں کا دیر ینہ خواب پور ا ہوا جن کاشیوۂ زیست ہی مسندِ اقتدار کی چوکھٹ پر زنبیل لیے کھڑے ہونا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔