سماجی

معراج النبیؐ کے معنی، مفہوم اور ہم!

آج رسولؐ کی بعثت کو صدیاں گزر چکی ہیں مگرعصرحاضر کے انسانوں کو پہلے سے زیادہ آنحضرتؐ کے پیغامات اور انسانیت آفریں تعلیمات کی ضرورت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

اسلامی تاریخ کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے۔ ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اہل عرب اس کو اللہ کا مہینہ کہتے تھے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔ یہ ماہ مبارک جہاں کئی تاریخی واقعات کا گواہ ہے وہیں اس ماہ کی 27ویں شب کو محبوب کبریا جسمانی معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ تاریخ معراج نبیؐ کی وجہ سے انتہائی عظمت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے اس تاریخ میں نیک عمل کرنے والوں کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب عطا فرمایا ہے۔ عربی لغت میں ”معراج“ ایک وسیلہ ہے جس کی مدد سے بلندی کی طرف چڑھا جائے اسی لحاظ سے سیڑھی کو بھی ”معراج“ کہا جاتا ہے۔ روایات اور تفسیر میں حضورؐ کا مکہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے آسمان کی طرف اور پھر اپنے وطن لوٹ آنے کے جسمانی سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے (ترجمہ) وہ ذات پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے، دیکھنے والا ہے۔ آپ کی یہ مسافت خدا کی نشانیاں د یکھنے کا پیش خیمہ بنی۔ قرآن مجید میں ہے کہ قسم ہے روشن ستارے (محمدؐ) کی جب وہ (معراج پرجا کر) نیچے اترے۔ تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسولؐ جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ راہ بھولے اور نہ راہ بھٹکے۔ تواریخ میں معراج کی حکمتیں درج کی گئی ہیں مگرمحدود کالم کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے راقم مختصر تحریر میں ہی اپنے خیالات کو قلمبند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ارباب فکر نے سفرمعراج کی کچھ حکمتیں بیان کی ہیں مگرحقیقت حال اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہترجانتے ہیں۔ ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لیکرعظمت مصطفیؐ تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں۔ معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ پرظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے، معاشرتی سطح پر آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ کے چچا اورآپ کی محبوب بیوی حضرت خدیجہؑ خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ نے چاہا کہ اپنے پاس بلا کر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی۔ گویا اللہ معراج پر بلاکر اپنے پیارے محبوب کی دلجوئی کرنا چاہتا تھا-

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اور (اے حبیب!ان کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے۔ بے شک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ دوسری حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ عرش پر بلاکر اللہ نے اپنے حبیب کو اپنا دیدار کرایا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی اور فرمایا محبوب تیری امت دن میں5 وقت کی نمازیں ادا کرے گی مگر اس کو 50 نمازوں کا ثواب عطا کروں گا۔ تیسری حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ معراج النبیؐ کے روز بہت سے واقعات پیش آئے جس کی بشارت نبی اکرمؐ کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی۔

عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بہت بڑا پادری تھا اس نے کہا کہ میری عادت تھی کہ میں ہر روز رات کو سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کردیا کرتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کردیئے لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ ہوسکا۔ میں نے اپنے کارندوں اور تمام حاضرین سے مدد لی۔ سب نے پورا زور لگایا مگر دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر میں نے ترکھانوں کو بلایا توانہوں نے اسے دیکھ کرکہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے۔ اب رات میں کچھ نہیں ہوسکتا، صبح دیکھیں گے۔ لہذا ہم دروازے کے دونوں کواڑ کھلے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ صبح ہوتے ہی میں وہاں آیا تو دیکھا کہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے۔ مسجد کے پتھرپرسوراخ ہے اور سواری کے جانور باندھنے کا نشان اس میں نظر آرہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کرمیں سمجھا کہ آج رات انتہائی کوشش کے باوجود دروازہ کا بند نہ ہونا اور پتھر میں سوراخ کا پایا جانا اس سوراخ میں جانور باندھنے کا نشان موجود ہونا حکمت سے خالی نہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج رات اس دروازے کا کھلا رہنا صرف نبی معظمؐ کے لئے تھا یقیناً اس نبیؐ نے ہماری مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی۔

آنحضرتؐ نے شب معراج کے واقعات کا تذکرہ کیا تو کفار مکہ نے مختلف سوالات کر کے شہادتیں طلب کیں تو رسولؐ نے کفار کے سامنے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں فلاں بن فلاں کے قافلہ پر بھی گزرا۔ ان کا ایک اونٹ میری وجہ سے بدک کر بھاگا اور وہ دونوں سوار گر پڑے۔ ان میں فلاں شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیا جب وہ آئیں تو ان سے دریافت کرلینا۔ کفار مکہ نے نبی اکرمؐ سے ایک قافلہ کی بابت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں اس قافلے پرمقام تنعیم پر گزرا ہوں، کفار قریش نے کہا کہ وہ قافلہ کیا چیزیں لاد کر لے جارہا تھا۔ اس کی ہیئت کیا ہے اور ان میں کون لوگ ہیں؟ حضورؐ نے قافلے کی ہیئت کی وضاحت فرمائی کہ اس قافلہ کے آگے بھورے رنگ کا اونٹ ہے، اس پر دھاری دار دو بوریاں لدی ہوئی ہیں اور سورج نکلتے ہی وہ قافلہ پہنچ جائے گا۔ کفار کدیٰ پہاڑ پر آبیٹھے اور انتظار کرنے لگے کہ سورج نکلتے ہی ہم نبیؐ کی تکذیب کریں گے۔ ان میں سے ایک آدمی بولا! خدا کی قسم! سورج نکل آیا۔ دوسری طرف ان کے ہی ایک آدمی نے کہا کہ وہ دیکھو قافلہ بھی آگیا۔ اس کے آگے بھورے رنگ کا اونٹ ہے۔ یعنی بالکل اسی طرح تھا جیسا کہ حضورؐ نے فرمایا تھا لیکن اس کے باوجود کفار ایمان نہ لائے۔ معراج کی حکمتیں اوراس کے عملی شواہد کے بعد اس کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہیں۔

پیغمبراسلامؐ کی بعثت جو در حقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم وخرد کی شگوفائی کا دور ہے۔ آج رسول اسلامؐ کی بعثت کو صدیاں گزرچکی ہیں لیکن عصرحاضر کے ترقی یافتہ طاقتور انسانوں کو پہلے سے بھی زیادہ پیغمبرؐ کے پرامن پیغامات اورانسانیت آفریں تعلیمات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ختمی مآب محمد مصطفیٰؐ نے انسانوں کو کس چیز کی دعوت دی ہے؟ دراصل انسان کے یہاں بعض خواہشیں اور فطری میلانات موجود ہیں، یہ فطری میلان خود انسان کے وجود میں ودیعت ہوئے ہیں اور ان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اچھائیوں کی طرف رغبت اور پسند، تحقیق و جستجو کا جذبہ یا اولاد سے محبت وہ انسانی خصوصیات ہیں جن کو اس کی ذات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر ہے دنیا میں آنے والا ہر وہ انسان کہ جس نے فطرت کی آواز پرلبیک کہی ہو، حقیقی اور جاوداں انسان بن جائے گا کیونکہ یہ وجود انسانی خواہشات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس کی فطری ضرورتوں کی تکمیل کرتا ہے۔ پیغمبراسلامؐ کی بعثت، انسان کی فطری ضروریات کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے اور اس نے ایمان و معرفت، آگہی و بیداری اور برادری وانسان دوستی کے چراغ روشن کیے ہیں۔ لہذا رسولؐ کی بعثت کا دن انسانی زندگی میں ایک عظیم انقلاب اور تجدید حیات شمار ہوتا ہے وہ انقلاب جو انہوں نے برپا کیا ہے۔ انسان کوخود اپنے اور اپنے انجام دیئے گئے برے اعمال کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اورجو بھی رسولؐ کے روشنی بخش پیغامات کوسنتا ہے اپنی اور کائنات کی حقیقی شناخت پیدا کرلیتا ہے اور پھرخود کو ہی عدل وانصاف کی عدالت میں کھڑا پا کر اپنے وجود میں ایک نئے انسان کی تعمیر پرمجبور ہو جاتا ہے۔ یہ خصوصیات صرف مذہب کے ساتھ وابستہ ہیں کہ وہ آدمی کو ایک خالص مادی اور دنیوی قالب سے نکال کرسچائی اور انصاف کی معنوی دنیا تک پہنچا دیتا ہے اورایک نفس پرست کو انصاف پسند نیکوکار انسان میں تبدیل کردیتا ہے۔