ہڑپا کا زوال: جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت... وصی حیدر

ہڑپا کے اجڑے ہوئے شہروں سے آنے والے لوگوں نے پہلے سے موجود دراوڑ زبان اور کھیتی، خاص کر باجرہ، دالیں اور گائے، بکری اور بھیڑ کو پالتو بنانے کا رواج کو مستحکم کیا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

وصی حیدر

(33ویں قسط)

1900 قبل مسیح کے پاس ہڑپا کی عظیم تہذیب کا زوال شروع ہوا اور چند ہی سالوں میں شہر سنسان ہوگئے۔ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ دسویں سال مانسون کی ناکامی سے زبردست سوکھا پڑا۔ اس کے علاوہ ہڑپا کے زیادہ تر شہر اونچی زمینوں پر سیلابوں سے بچنے کے لئے بنائے گئے تھے، اس لئے وہ شہر پانی کی قلت کی وجہ سے اجڑ گئے۔ کسی بھی قسم کی لڑائی، حملہ یا تشدد کے کوئی آثار نہیں پائے گئے ہیں۔ اسی دوران ایشیا کی چراگاہوں سے نئے لوگ آرین آئے۔

اگر ہڑپا کے لوگ شروعاتی دراوڑ زبان بولتے تھے تو یہ زبان جنوبی ہندوستان میں کب پہنچی، اس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ 2000 قبل مسیح کے آس پاس اس زبان کے بولنے والے جنوبی ہندوستان آئے اور اگتیا اور اکٹی کی کہانیاں انھیں لوگوں کی ہیں، خاص کر اگتیا اور ویلر خاندانوں کی ہجرت شمال سے جنوبی ہندوستان کی کہانی ہے۔ ممکن ہے یہ زبان اور پہلے جنوبی علاقوں میں آئی ہو۔ شاید شروعاتی دراوڑ زبان ہڑپا تہذیب کے عروج کے وقت 2600 قبل مسیح کے دوران ہی آنا شروع ہوچکی ہو، شروع میں جنوبی ہندوستان آنے والے چراگاہوں میں گھومنے والے جانوروں (بکری، بھیڑ وغیرہ) کے ریوڑ والے لوگ تھے۔ انھیں وقتوں کے آس پاس جنوبی ہندوستان میں جانوروں کو پالتو بنانے کا رواج شروع ہوا۔


اگر ہندوستان کے نقشہ پر غور کریں تو راجستھان گجرات اور دکن سے ہوتے ہوئے مغربی ہندوستان کے جنوبی علاقوں تک گھاس کے میدان ہیں اور شاید یہی راستہ ہڑپا تہذیب کے زوال پر خانہ بدوش جو نئی نئی چرگاہوں کی تلاش میں پھرتے ہوئے اسی راستہ جنوبی ہندوستان میں اپنی زبان اور رسم ورواج لے کر پہنچے۔ ہڑپا کے اجڑے ہوئے شہروں سے آنے والے لوگوں نے پہلے سے موجود دراوڑ زبان اور کھیتی، خاص کر باجرہ، دالیں اور گائے، بکری اور بھیڑ کو پالتو بنانے کا رواج کو مستحکم کیا۔

مہاراشٹر، گجرات اور شمال مغربی ہندوستانی علاقہ میں گاؤں کے دراوڑ زبان کے ناموں سے بھی لگتا ہے کہ ہڑپا سے آنے والے انھیں راستوں سے آئے۔ اکیلے مہاراشٹر میں تقریباً 800 گاؤں کے نام دراوڑ زبان سے منسلک ہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرانے وقتوں میں مہاراشٹر میں بھی دراوڑ زبان ہی استعمال کی جاتی ہوگی۔ کھدائی، جنیٹکس اور زبانوں کی تحقیقات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہڑپا تہذیب کے زوال کے وقت وہاں کے لوگ دھیمے دھیمے جنوبی ہندوستان پہنچے۔

اگلے شمارہ میں آرین کے علاوہ کون اور لوگ ہندوستان آئے اور اپنے ساتھ کیا زبانیں لائے۔ اس کا ذکر ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔