خلاء میں بڑا حادثہ ٹل گیا، ٹکرا سکتے تھے چندریان-2 اور ناسا کا ایل آر او

اِسرو کے مطابق چندریان-2 آربیٹر اور ناسا کے ’ایل آر او‘ کے 20 اکتوبر 2021 کو لونر نارتھ پول کے پاس ایک دوسرے کے بے حد قریب آنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

تصویر بشکریہ ایشیا نیٹ
تصویر بشکریہ ایشیا نیٹ
user

قومی آوازبیورو

ہندوستانی خلائی ریسرچ سنٹر (اِسرو) کو خلا میں ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ وقت رہتے اس مسئلہ کا حل نکال لیا گیا اور خلاء میں ایک حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ اِسرو نے کہا کہ اپنے خلائی مشن میں پہلی بار چندریان-2 آربیٹر اور یو ایس ’لونر رکنیشنز آربیٹرو‘ (ایل آر او) کے درمیان ٹکراؤ سے بچنے کے لیے حال ہی میں ایک ٹال مٹول ترکیب استعمال کی گئی تھی۔

اِسرو کے مطابق چندریان-2 آربیٹر اور نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے ایل آر او کے 20 اکتوبر 2021 کو لونر نارتھ پول کے پاس ایک دوسرے کے بے حد قریب آنے کی پشین گوئی کی گئی تھی۔ اِسرو اور ناسا کی جیٹ پروپلشن لیباریٹری (جے پی ایل) کی رائے شماری سے پتہ چلا ہے کہ دو خلائی طیارہ کے درمیان ریڈیل الگاؤ 100 میٹر سے کم ہوگا اور قریبی زاویہ دوری 20 اکتوبر 2021 کو ہندوستانی وقت کے مطابق 11.15 بجے صرف تین کلو میٹر ہوگی۔


اِسرو اور ناسا نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ حالات میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے جنگی پیمانے پر تجربے کی ضرورت ہے اور دونوں ایجنسیوں کے درمیان آپسی سمجھوتے کے مطابق چندریان-2 آربیٹر کو 18 اکتوبر 2021 کو دو خلائی طیارہ کے درمیان اگلے نزدیکی وقت میں مناسب طور سے بڑے ریڈیل الگاؤ کو یقینی کرتے ہوئے دور لے جایا گیا۔ دونوں آربیٹر تقریباً یکساں آربٹ میں چاند کے چکر لگاتی ہیں اور اس لیے دونوں خلائی طیارہ چاند کے آربٹ میں ایک دوسرے سے قریب آتے ہیں۔ انڈین آربیٹر گزشتہ دو سال سے چاند کا چکر لگا رہا ہے۔

زمین کے آربٹ میں سیٹلائٹس کے لیے خلائی ملبے اور ٹرانسپورٹیشن خلائی طیارہ سمیت خلائی اشیاء کے سبب ٹکراؤ کے جوکھم کو کم کرنے کے لیے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے جنگی سطح پر تجربات سے گزرنا عام بات ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔