ڈریگن مین: چین سے برآمد ہونے والی ڈیڑھ لاکھ سال قدیمی نسل کے انسان کی کھوپڑی!

سال 1930 میں دریافت ہونے والی اس کھوپڑی کو جاپانی فوج سے بچانے کے لئے ایک کوئیں میں چھپا دیا گیا تھا، جہاں یہ کھوپڑی 85 سال تک دبی رہی۔

ڈریگن مین / سوشل میڈیا
ڈریگن مین / سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سائنسدانوں نے انسانی نسل کے حوالہ سے گزشتہ روز ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مشرقی چین میں 85 سال قبل پائی جانے والی کھوپڑی ایک ایسی انسانی نسل کی ہو سکتی ہے جسے تاحال دریافت نہیں کیا گیا۔ سانسدانوں نے اس کا نام ہومو لونگی یا ڈریگن مین رکھا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ کھوپری 85 سال پہلے دریافت کر لی گئی تھی، لیکن اس وقت اسے چھپا دیا گیا تھا، تاہم اسے ایک مرتبہ پھر تلاش کر لیا گیا ہے۔ سال 1930 میں دریافت ہونے والی اس کھوپڑی کو جاپانی فوج سے بچانے کے لئے ایک کوئیں میں چھپا دیا گیا تھا، جہاں یہ کھوپڑی 85 سال تک دبی رہی۔


اس کے بعد سال 2018 میں اسے باہر نکال کر بے بیئی جیو یونیورسٹی کے پروفیسر جی کیانگ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس پر تحقیق کرنے والے شریک مصنف اور نیچرل ہسٹری میوزیم لندن کے کرس سٹرنگر نے کہا کہ جائزہ لینے پر معلوم ہوا ہے کہ ڈریگن مین قدیمی انسانی نسل نیئنڈرتھل کے بجائے آج کی موجودہ نسل کے نزدیکی ہوموسیپینز سے زیادہ قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نسل آج کے انسانوں کے زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے علیحدہ نوع کا درجہ مل جاتا ہے تو یہ ہمارے قریب ترین رشتہ دار ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق کھوپڑی کم از کم 1.45 لاکھ سال پرانی ہے۔ ڈریگن مین نامی اس دور کے انسان کا دماغ آج کے انسان سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس کے آئی ساکٹ اور بھویں زیادہ بڑی تھیں اور منہ اور دانت بھی آج کے انسان کے مقابلہ میں زیادہ بڑے تھے۔


کھوپڑی کا نام لانگ جیانگ سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ڈریگن ریور ہوتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ کھوپڑی ایک مرد کی ہے، جس کی عمر تقریباً 50 سال رہی ہوگی اور وہ شاید سیلاب والے علاقہ کے جنگلی میدان میں رہا کرتا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔