برازیل میں ملا بغیر دانتوں والا ڈائناسور، 7 کروڑ سال قدیم ڈھانچہ دیکھ کر سائنسداں حیران

محقق سوؤجا کا کہنا ہے کہ دانت نہ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ڈائناسور گوشت نہیں ہوگا۔ کئی پرندے جیسے باز وغیرہ اپنی چونچ سے گوشت کھاتے ہیں۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

تنویر

برازیل میں تقریباً 7 کروڑ سال قدیم ڈائناسور کا ڈھانچہ ملا ہے۔ اس ڈائناسور کے دانت نہیں ہوتے تھے اور وہ دو پیروں سے چلتا تھا۔ محققین نے اس دریافت کو انتہائی نایاب قرار دیا ہے۔ اس طرح کے ڈائناسور بہت چھوٹے ہوتے تھے اور ان کو تھیروپیڈ کہا جاتا تھا۔ ان کی اونچائی تقریباً 3 فُٹ اور 80 سینٹی میٹر ہوتی تھی۔ اس نئی نسل کا نام بیرتھاسورا لیوپولڈائنائی ہے۔ اس ڈائناسور کا منھ چونچ کی طرح کا ہوتا تھا اور اس میں دانت نہیں ہوتے تھے۔ برازیل کے نیشنل میوزیم نے ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ یہ بہت ہی حیران کرنے والا تھا۔ انھوں نے اپنی دریافت کو جرنل ’نیچر‘ میں شائع کرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ برازیل میں کرٹیشس دور کے اب تک کے ڈائناسور کے سب سے مکمل ڈھانچہ کی دریافت ہوئی ہے۔ محقق جیوانے الویس سوؤجا نے کہا کہ بغیر دانتوں کے حصے نے یہ اندیشہ پیدا کر دیا ہے کہ وہ ڈائناسور کیا کھاتا ہوگا۔

محقق سوؤجا کا کہنا ہے کہ دانت نہ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ڈائناسور گوشت نہیں ہوگا۔ کئی پرندے جیسے باز وغیرہ اپنی چونچ سے گوشت کھاتے ہیں۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ ایک سبزی اور گوشت دونوں کھاتا ہوگا جو کہ مشکل حالات میں زندگی گزارتا ہوگا۔ یعنی اسے ہر وہ چیز کھانا ہوتا ہوگا جو وہ کھا سکتا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کے یونان علاقہ میں بھی اسی نسل کا 18 کروڑ سال قدیم ڈھانچہ ملا ہے، لیکن اس ڈھانچہ کا 70 فیصد حصہ بچا ہے، بقیہ تباہ ہو چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔