مہر گڑھ کے لوگ کہاں سے آئے... وصی حیدر

مغربی ایشیا میں کھیتی کی شروعات کی کہانی انسانوں کی 3 لاکھ سالہ زندگی میں ایک اہم اور دلچسپ واقعہ ہے۔ شاید اور جگہوں کی کہانی بھی اتنی ہی دلچسپ اور ڈرامائی ہو

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وصی حیدر

(سولویں قسط)

مہر گڑھ کے لوگوں کے رہنے سہنے کے طریقے پر غور کریں تو ان کی کہانی میں ایک عججیب دلچسپ بات معلوم ہوتی ہے۔ جیسے ہی یہ آبادی شروع ہوئی وہاں لوگوں نے گھر بنانے شروع کر دیئے اناج کے لئے فصلوں کی کھیتی باڑی شروع کر دی۔ جبکہ مغربی ایشیا میں گھوم گھوم کر شکار کرنے والے ہوموسیپین نے ہزاروں سال خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے کے بعد ہی کھیتی باڑی شروع کی۔ ایسا لگتا ہے کہ مہر گڑھ کے لوگ وہ ساری منزلیں طے کرنے کے بعد ہی یہاں آئے تھے۔ وہ کہاں سے آئے اس کو سمجھنے کے لئے ایشیا میں کھیتی کی کہانی کو جاننا ضروری ہے۔

مغربی ایشیا میں کھیتی کی شروعات کی کہانی انسانوں کی 3 لاکھ سالہ زندگی میں ایک اہم اور دلچسپ واقعہ ہے۔ شاید اور جگہوں کی کہانی بھی اتنی ہی دلچسپ اور ڈرامائی ہوگی لیکن مغربی ایشیا کی کہانی پر بہت تفصیلی کھوج بین اور تحقیقات ہوئی ہیں۔ اس لئے یہ کہانی ہم کو اچھی طرح معلوم ہے۔

مغربی ایشیا کے مختلف حصوں میں کھدائی سے جو معلومات حاصل ہوئیں اس کے بارے میں مشہور سائنسداں مارس اور کوہین نے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ کھیتی کے تجربہ بہت جگہوں پر ہونے شروع ہوئے اور کچھ جگہوں پر کامیابی اور بہت جگہوں پر ناکامی بھی ہوئی اور اس میں تقریباً 20 ہزار سال یعنی 500 پشتوں کا وقت لگا اور اس کی شروعات پچھلا برف کا زمانہ (آئیس ایج) یعنی 29 ہزار سال سے 14 ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔

برفیلے موسم اور اس کی وجہ سے سوکھے موسم میں انسانوں کی زندگی میں غذا کو حاصل کرنے کی جدوجہد زیادہ مشکل تھی اس کی وجہ سے انسانوں کی آبادی چند رہنے لائق جگہوں پر بڑھی اور اس دباؤ میں غذا کو اکھٹا کرنے کے نئے نئے تجربہ کرنے ضروری ہوگئے۔ اور جب 14 ہزار سال پہلے موسم تھوڑا بہتر ہونا شروع ہوا تو ان تجربوں میں کچھ کامیاب تجربوں کو انسانوں نے اپنا لیا۔ اور اناج کو تلاش کرکے اکھٹا کرکے آئندہ استعمال کرنے کے مختلف طریقوں کو سیکھا، اور اس طرح کچھ لوگ جگہوں پر آباد ہونے لگے جبکہ کچھ نے وہیں شکار کرنا اور اس کی تلاش میں گھومنا جاری رکھا۔

اس طرح کی ایک آبادی فلسطین کی نطوف کی وادی میں ساڑھے 12 ہزار سے لیکر ساڑھے 9 ہزار یعنی تقریباً 3 ہزار سال پہلے ابھری۔ وہاں پر کھدائی کرنے میں اناج کو کاٹنے اور صاف کرنے کے لئے پتھر کے اوزار ملے اور اس کے علاوہ کچھ چیزوں سے لگتا ہے کہ اور جگہوں پر تجارت بھی شروع ہوچکی تھی، اپنے مُردوں کو دفنانے کی بھی جگہیں تھیں۔ ان سب سے یہ لگتا ہے اس آبادی کو لوگوں نے اپنا مستقل گھر بنا لیا تھا اور جنگلوں میں گھوم گھوم کر شکار کرنا کم ہوتا جا رہا تھا۔ نطوف کی آبادی بہت زیادہ دنوں تک نہیں رہی اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ برفیلے موسم کا پھر ایک واقعہ 13 ہزار سال سے شروع ہوا جو تقریباً ایک ہزار سال رہا۔ کھیتی کا تانا بانا ٹوٹنے سے یہ آبادی بکھر گئی اور ان لوگوں نے پھر جنگل کا راستہ اپنا لیا۔

نطوف کی آبادی اکیلی نہیں تھی جو کھیتی کے تجربہ کررہی تھی۔ دریائے فُرات کے پاس ابو ہوریرا میں 11 ہزار سال ق م میں انسانوں کی آبادی جنگلی گیہوں اور رائی کا استعمال کر رہی تھی، یہ آبادی بھی بہت زیادہ دنوں تک نہیں چل پائی۔ اور وہی برفانی موسم ان کے خاتمہ کی وجہ بنا جو نطوف کے لئے بنا تھا۔ تقریباً 12 ہزار سال پہلے جب برفانی موسم ختم ہونا شروع ہوا اور موسم خشگوار ہونے لگا اور زمین کی اوسط درجہ حرارت تقریباً 7 ڈگری بڑھی تو ہر جگہ انسان نئے نئے تجربہ کرتا دکھائی دیا۔ بہت جگہوں پر کھیتی کی شروعات جنگلی پودوں کی دیکھ ریکھ اور جانوروں کو پالتو بنانے کے عمل سے شروع ہوا۔ 8 ہزار سال ق م دریائے فرات کے اوپری حصہ میں گیہوں کی فصل کے نشانات ملے اور اس کے بعد آس پاس کے سارے علاقوں میں عام ہوتا گیا۔

ایران کے ذخروس پہاڑی کے پاس گنج ڈراع میں 8 ہزار سال ق م میں بکری کے پالنے کے ثبوت ملے ہیں، یہ علاقہ ایسا ہے کہ بکری یہاں قدرتی طور پر شروع میں جنگلی جانور تھی، یہ شاید جانور کو سب سے پہلے پالنے کا ثبوت ہے۔ ساڑھے سات ہزار سال ق م میں ایران کے علی کوش علاقہ میں بھی بکری پالنے کے ثبوت ملے ہیں۔ اس علاقہ میں قدرتی طور سے بکریاں نہیں ہوتی ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ شاید چراگاہوں کی تلاش میں گھومنے والے اپنے ساتھ جانوروں کو ساتھ لیکر دیگر جگہوں پر بھی پھیل رہے تھے۔

مغربی ایشیا کے سلسلہ میں جو تحقیقات سے تصویر ابھرکر سامنے آئی ہے وہ کچھ اس طرح کی ہے کہ ساڑھے سات ہزار سال سے ساڑھے چھ ہزار سال ق م کے دوران اس پورے علاقہ میں (موسم بہتر ہونے کی وجہ سے فصلوں کی دیکھ ریکھ سے شروع ہو کر باقاعدہ کھیتی اور جانوروں کو پالتو بنانے کا عمل تیزی سے پھیلتا گیا اور ان جگہوں پر بھی جہاں وہ قدرتی طور سے نہیں تھت۔ یعنی ہوموسیپین اپنے کامیاب تجربوں کو لیکر نئی نئی جگہوں پر زرخیز علاقوں میں پھیل رہے تھے۔ نئے اناج کے پودے اور پالتو بنائے گئے جانوروں کا نئی جگہوں پر پھیلنے کی سب سے دلچسپ مثال سائبرس کے ساڑھے آٹھ ہزار سال ق م کی ہے جہاں مغربی ایشیا سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ گیہوں اور جوار کے پودے اور بھیڑ بکریوں کو اپنے ساتھ لائے۔

مغربی ایشیا کے پورے علاقہ میں اوپر بیان کیے گئے کامیاب تجربوں کی روشنی میں مہر گڑھ کی ابھرتی آبادی کو سمجھنا آسان ہوگا۔