مہر گڑھ کا معجزہ، کھیتی باڑی کی شروعات کو سمجھنے کا ذریعہ... وصی حیدر

مہر گڑھ کی دریافت 1976 میں ایک فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے کی۔ اس ٹیم کے ذریعہ کی گئی کھدائی سے معلومات حاصل ہوئیں، جس سے پورے جنوبی ایشیا میں زراعت کی شروعات کو سمجھنے میں آسانی ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وصی حیدر

(پندرویں قسط)

جنوبی ایشیا میں کھیتی باڑی کے سب سے پہلے تجربہ کا مرکز مہر گڑھ نام کا گاؤں ہے۔ یہ گاؤں موجودہ پاکستان کے بلوچستان کے علاقہ میں بولان (Bolan) پہاڑیوں کے دامن میں ہے۔ مہر گڑھ میں انسانی آبادی تقریباً ساڑھے چار ہزار سال تک ( سات ہزار قبل مسیح سے ڈھائی ہزار قبل مسیح) رہی، اور اس لحاظ سے سندھ ندی اور بحر روم تک کی سب سے اہم انسانی آبادی تھی۔

مہر گڑھ کی دریافت 1976 میں ایک فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے کی۔ اس ٹیم کے ذریعہ کی گئی کھدائی سے معلومات حاصل ہوئیں، جس سے پورے جنوبی ایشیا میں زراعت کی شروعات کو سمجھنے میں آسانی ہوئی۔ مہر گڑھ میں کھیتی کی شروعات اور اس کے دیگر علاقوں میں پھیلے ایشیا کی سب سے اہم انسانی تہذیب یعنی ہڑپا کی بنیاد پڑی جو مہر گڑھ کے بعد شروع ہوئی۔

مہر گڑھ میں کھدائی سے معلوم ہوا کہ اس کی تہذیب کے نشانات تقریباً 9؍ میٹر گہرائی تک موجود ہیں جو 7 ہزار ق م سے لے کر اس کے ختم ہونے تک کی عکاسی کرتے ہیں۔ کھدائی کے دوران گہرائی میں سب سے زیادہ پرانے وقت کی چیزیں ملیں ہیں۔

سب سے زیادہ گہرائی میں چوکور شکل میں کئی کئی کمروں کے مٹی کی اینٹوں سے بنے مکانات ملے، شائد ان کمروں کا استعمال اناج اکھٹا رکھنے میں کیا جاتا ہوگا۔ ان میں فصل کاٹنے کے اوزار (خاص کر ہنسیے) اور جانوروں کی ہڈیاں (جو شکار کرکے کھائی جاتی ہوں گی) ملیں۔ اتنی گہرائی میں کسی بھی طرح کے برتن موجود نہیں ہیں۔

سب سے زیادہ گہرائی (سب سے پرانی) میں جو عمارتیں ملیں وہ دو کمروں، چار کمروں، چھ کمروں یا آٹھ کمروں کی ہیں۔ دیواروں پر پلاسٹر اور کچھ جگہوں پر رنگین تصویریں بھی موجود ہیں۔ کم کمروں والی عمارتوں میں آگ جلانے کی جگہیں ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رہنے کے لئے استعمال ہوتی ہوں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام آگ جلانے والی جگہوں پر پتھر کے سڈول ٹکڑے ملے۔ اس دریافت پر زیادہ تعجب نہیں ہوتا کیونکہ بلوچستان میں اب بھی گرم پتھروں پر ہی روٹی پکائی جاتی ہے۔ اناج کے جو دانے ملے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کی ایک خاص قسم جو سب سےزیادہ (90فیصد) استعمال ہوتی تھی۔ لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ یہ جنگلی فصل تھی یا مہر گڑھ کے لوگ اس کی باقاعدہ کھیتی شروع کرچکے تھے۔

جنیٹکس کے وقت گزرنے کے دوران انتخابی دباؤ کی وجہ سے جنگلی اور پالتو جانوروں میں فرق اور جنگلی اور کھیتی کے کیے ہوئے اناج میں جو فرق آتا ہے وہ بہت ہی کارآمد معلومات فراہم کرتا ہے۔

زیادہ تر پالتو جانور، جنگلی جانوروں کے مقابلہ میں چھوٹے ہیں اور کم جارحانہ (Aqressive) اور چھوٹے دماغ کے ہوتے ہیں اور نر (Male) اور مادا(Female) کی جسامت میں فرق کم ہوتے جاتے ہیں۔ یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ پالتو جانوروں کو اپنے کھانے پینے اور افزائش نسل کے لئے دیگر جانوروں سے جھگڑنے اور جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح کھیتی کرکے فصل اگانے والے پودوں اور جنگلی پودوں میں انتخابی فرق جینس میں ارتقا کی منزلیں طے کرنے کے بعد ہوتا ہے۔

جنگلی اناج کے پودوں میں جب بالیاں آتی ہیں تو وہ بالیاں پھٹ کر بیجوں کو زمین پر بکھیر دیتی ہیں تاکہ پودوں کی اگلی نسل ہوسکے۔ اس کے برخلاف جب انسان کھیتی کرتا ہے تو وہ بیج جو زمین میں گر جاتے ہیں وہ اس کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں۔ صرف وہی بیج کارآمد رہتے ہیں جو بالیوں میں لگے رہ جاتے ہیں۔ ان کو اکھٹا کرکے کچھ تو غذا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ بچا کر اگلی فصل پیدا کرنے کے لئے رکھ لئے جاتے ہیں۔ اس لئے جنیٹکس کے حساب سے صرف وہی بیج بار بار انتخاب ہوتے ہیں جن کی بالیاں نا پھٹیں۔

جنیٹکس کے اس انتخابی رویئے کو استعمال کرکے ماہرین اندازہ لگاتے ہیں کہ مہر گڑھ میں کھیتی کی شروعات 7 ہزار ق م میں ہوئی تھی۔ اس کا اندازہ صرف کھیتی میں کام آنے والے اوزاروں سے نہیں لگایا جاسکتا۔

سات سے چھ ہزار سال پہلے کے وقفے میں شکار سے زیادہ بھیڑ اور گائے بھینس کو پالتو بنایا جا رہا تھا اور غذا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اور پھر وہاں آسانی سے ہونے والا ذیبو(Zebu) بھی کافی استعمال ہونے لگا تھا۔

ان تمام سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اناج کے پودوں اور جانوروں کو پالتو بنانا گھروں کی تعمیر، جانوروں کا شکار اور بہت ساری نئی نئی مصروفیات شروع کر رہے تھے۔ غذا کی بہتات اور آسانی سے فراہمی کی وجہ سے آبادی کے سبھی لوگوں کو ہر وقت غذا کی تلاش کی ضرورت نہیں رہ گئی اور کچھ لوگوں نے طرح طرح کی دستکاری شروع کردی۔ کھدائی میں اس طرح کی چیزیں ملیں ہیں کہ کچھ لوگ رنگین پتھروں کو سڈول بنا کر طرح طرح کے ہار بنانے لگے سیپ اور بہت طرح کے پتھروں کے زیور بننے لگے۔ ان زیورات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دھیمے دھیمے وہ ان زیورات کو بنانے میں کافی مہارت حاصل کرچکے تھے۔ زیورات کو اکثر قبروں میں بھی رکھا جاتا تھا۔ جسم کے مختلف حصوں میں پہننے کے لئے مختلف طرح کے زیورات کا استعمال ہونے لگا اور عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کے لئے پھر خوبصورت زیورات استعمال ہو رہے تھے۔ ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ابھرتی ہوئی آبادی کافی خوشحال تھی۔ کھدائی کی وہ سطح جو تقریباً 6 ہزار سال ق م سے مطابقت رکھتی ہے وہاں پر سب سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والی چیزوں میں دنیا بھر میں سب سے پہلے تانبے(Copper) اور کپاس سے بنے تاگے کا استعمال۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دستکاری کے کاموں میں مستقل نکھار آتا گیا اور بہت ایسی چیزوں کا استعمال بھی ہوا جو تجارت کے ذریعہ دور درواز کی جگہوں سے آئی ہوں گی۔

دستکاری کے ساتھ ساتھ اور بھی چیزیں شروع ہو رہی تھیں۔ مثلا وہاں دس قبروں میں انسانی ڈھانچوں کے دانتوں میں چھید ملے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دانتوں کی بیماری کو ٹھیک کرنے کی کوشش بھی ہونے لگی تھی۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دانتوں کے ڈاکٹر رہے ہوں گے لیکن کچھ لوگ یہ فن سیکھنے میں کامیاب تھے کہ غذا کی تبدیلیوں کی وجہ سے دانتوں کی خرابیوں کا علاج کرسکیں۔

مہر گڑھ کی آبادی شروع ہونے کے ایک ہزار سال بعد ہی برتنوں کے بنانے کا فن شروع ہوا۔ 6؍ہزار سال ق م سے پہلے صرف پیڑ کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی ٹوکریوں کا استعمال ہوتا تھا اور 5؍ ہزار سال ق م تک طرح طرح کے برتن بنانے میں زبردست مہارت ہوتی رہی۔ ایک بعد ایک نئی ایجاد کی وجہ سے انسانی زندگی سہل اور خوشگوار ہوتی رہی اور یہی تہذیب 3؍ہزار سال ق م تک ہڑپا کی مشہور تہذیب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

مہر گڑھ کی آبادی 2؍ سے ڈھائی ہزار سال ق م میں ختم ہوئی اور پھر 5 میل دور نوستارو میں انسانی آبادی شروع ہوئی۔ کھیتی کے کامیاب تجربوں کی وجہ سے مہر گڑھ نے انسانی آبادی کے رہنے سہنے کے طریقوں میں زبردست تبدیلی کی شروعات کی اور اپنے وقت کی سب سے بڑی تہذیب کی بنیاد ڈالی۔

next