انسان کے سینے میں سور کا دل! امریکی ڈاکٹروں کا تاریخ ساز کارنامہ

ڈاکٹرمحمد محی الدین نے کہا کہ ’’اگر یہ دل کام کرتا ہے تو آنے والے دنوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے مریضوں کے لیے ایسے اعضاء کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔"

آپریشن، علامتی تصویر آئی اے این ایس
آپریشن، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ میں معالجین کے ایک گروپ نے سائنس کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ ڈاکٹروں نے سور (خنزیر) کا دل انسان کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔ ایسا کارنامہ پہلی بار انجام دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کے دل کو انسانی جسم میں کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کیا۔

’دی گارجین‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان ڈاکٹروں نے پیر کو دیئے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ سرجری کو تین دن ہوچکے ہیں اور مریض کی حالت اب ٹھیک ہے۔ یہ ایک بہت بڑا تجربہ تھا، حالانکہ یہ بتانا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا آپریشن کامیاب رہا یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے سائنسدانوں کے ذہنوں میں یہ سوال تھا کہ کیا ضرورت پڑنے پر جانوروں کے اعضاء کو انسانی جان بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ کامیاب پیوند کاری اس کا جواب ہے۔


ڈاکٹروں کے مطابق اس ٹرانسپلانٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانور کا دل انسانی جسم میں کام کر سکتا ہے۔ ’دی گارجین‘ کے مطابق 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینیٹ نے کہا کہ ’’میرے ذہن میں صرف یہی سوچ تھی کہ مجھے مر جانا چاہئے یا ٹرانسپلانٹ کرانا چاہئے۔ میں جینا چاہتا ہوں، میں جانتا تھا کہ یہ اندھیرے میں نشانہ لگانے کے مترادف ہے، لیکن میرے پاس ایسا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ڈیوڈ کا نیا ٹرانسپلانٹ شدہ دل ہارٹ لنگ مشین سے منسلک ہے جس کی مدد سے اس نے پیر کو خود سے سانسیں لیں۔ یونیورسٹی کے کارڈیک زینو ٹرانسپلانٹیشن پروگرام کے شریک بانی ڈاکٹرمحمد محی الدین نے کہا ’’اگر یہ کام کرتا ہے تو آنے والے دنوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے مریضوں کے لیے ایسے اعضاء کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔