کورونا بحران: دہلی کے تمام نجی دفاتر بند کرنے کا حکم، سخت پابندیاں عائد

دہلی میں کورونا کے بڑھتے ہوئے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلہ لیا گیا ہے، احکامات کے مطابق قومی راجدھانی میں موجود تمام نجی دفاتر کو بند کر دیا جائے گا اور تمام ملازمین گھر سے کام کریں گے۔

دہلی کے دریا گنج میں کورونا کی ویکسین لگاتی طبی اہلکار / تصویر قومی آواز / وپن
دہلی کے دریا گنج میں کورونا کی ویکسین لگاتی طبی اہلکار / تصویر قومی آواز / وپن
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی میں کورونا کا بحران شدید ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دہلی کے تمام نجی دفاتر کو مکمل طور پر بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے، جس کے بعد تمام ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ یہ حکم دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) نے جاری کیا ہے۔ تاحال تمام نجی دفاتر 50 فیصد افرادی قوت کے ساتھ کھل رہے ہیں، جبکہ 50 فیصد عملہ گھر سے کام کر رہا ہے۔

ڈی ڈی ایم اے نے کئی اور سخت پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ حکم کے تحت دہلی کے تمام ریستوراں اور بار بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب ریستوران سے کھانے پینے کی اشیاء کی ہوم ڈیلیوری اور کھانے کو گھر لے جانے کی ہی سہولت دستیاب ہوگی۔ ابھی تک ریستوران اور بار 50 فیصد گنجائش کے ساتھ کھل رہے تھے۔ ضروری خدمات فراہم کرنے والے نجی دفاتر کو اتھارٹی کے تازہ احکام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔


خیال رہے کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں کورونا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 168063 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 277 لوگوں کی کورونا کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔ یہ تعداد پیر کے مقابلے میں کم ضرور ہے لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

دہلی میں پیر کے روز 19166 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے اور 17 مریضوں کی موت ہو گئی۔ دہلی میں انفیکشن کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یہاں ٹیسٹ کروانے والا ہر چوتھا شخص کورونا سے متاثر ہو رہا ہے۔ 5 مئی 2021 کے بعد انفیکشن کی شرح سب سے زیادہ ہے۔


دہلی کی طرح مہاراشٹر اور اس کی راجدھانی ممبئی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ پیر کے روز مہاراشٹر میں کورونا کے 33470 نئے معاملے سامنے آئے اور 8 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس میں سے 13648 معاملے صرف ممبئی میں پائے گئے۔ وہیں 5 افراد نے کورونا کے سبب اپنی جان گنوا دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔