کشمیر میں ’زوم ایپ‘ سے تعلیم جاری رکھنے کی پہل نامراد ثابت

طلبا کا کہنا ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ نہ ہونے سے ’زوم ایپ‘ پر ویڈیو کانفرنسنگ بڑی مشکل سے ہو پاتی ہے اور اگر خدا خدا کرکے ویڈیو کانفرنسنگ یا آن لائن کلاس شروع بھی ہو جاتی ہے تو یہ رک رک کر چلتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں محکمہ تعلیم کی طرف سے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران طلبا کی تعلیم 'زوم ایپ' کی وساطت سے جاری رکھنے کی پہل نامراد ثابت ہورہی ہے کیونکہ فور جی موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی وجہ سے یہ ایپ لگ بھگ عضو معطل بن کے رہ گیا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے چلتے 'زوم ایپ' پر ویڈیو کانفرنسنگ بڑی مشکل سے ہی ممکن ہو پاتی ہے اور پھر اگر خدا خدا کرکے ویڈیو کانفرنسنگ یا آن لائن کلاس شروع بھی ہو جاتی ہے تو یہ رک رک کر چلتی ہے۔

ادھر بیرون ممالک سے وطن واپس لائے گئے طلبا کا بھی کہنا ہے کہ سست رفتار موبائل انٹرنیٹ خدمات کی وجہ سے انہیں گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ طلبا نے متعلقہ حکام سے ایک بار پھر فور جی موبائل انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک نویں جماعت کے طالب علم عدنان احمد نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: کہ 'سست رفتار موبائل انٹرنیٹ کی وجہ سے زوم ایپ پر آن لائن کلاسز دینا بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ بڑی مشکل سے ممکن ہو پاتی ہے۔ جب ویڈیو کانفرنسنگ شروع ہوتی ہے تو رک رک کر چلتی ہے جس سے ایک بات بھی اچھی طرح سنی نہیں جاتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کئی بار اس ایپ کی وساطت سے کلاس لینے کی کوشش کی لیکن ہر وقت بفرنگ آڑے آگئی۔ ایک استاد نے بتایا کہ جب ہم اس ایپ کی وساطت سے طلبا کے ساتھ جڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو سست رفتار موبائل انٹرنیٹ خدمات آڑے آجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'جب میں اس ایپ کی وساطت سے طلبا کے ساتھ جڑ کر انہیں کلاس دینے کی کوشش کرتا ہوں تو پہلے رابطہ ہونے میں کافی وقت لگتا ہے اور پھر جب رابطہ ہو بھی جاتا ہے تو بفرنگ کی وجہ سے ہماری بات ان تک اچھی طرح پہنچ نہیں پاتی ہے'۔

ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ 'سست رفتار موبائل انٹرنیٹ خدمات کی وجہ سے ہماری یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس تک رسائی ہی نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی ہم دوسرے ذرائع سے لیکچرس سن سکتے ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ ہم امتحانی فارم و دیگر ضروری مواد ای میل کرکے ارسال کرنے سے بھی قاصر ہیں اگر فور جی موبائل انٹرنیٹ بحال ہوتا تو شاید ہمیں ان مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔ طلبا نے متعلقہ حکام سے ایک بار پھر فور جی موبائل انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے لیے عرض گزاروں کی طرف سے اٹھائے گیے معاملات کو دیکھنے کے لئے وزارت امور داخلہ کے سکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات صادر کیے۔

جسٹس این وی رامانا نے یہ احکامات صادر کرنے سے قبل کہا تھا کہ 'عدالت کو قومی سلامتی اور بشری حقوق کے درمیان توازن کو یقینی بنانا ہے، ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یونین ٹریٹری بحرانی صورتحال سے دوچار ہے اور عدالت وبا اور دیگر مشکلات کے متعلق خدشات و تحفطات سے بھی باخبر ہے۔'

Published: 20 May 2020, 11:11 PM