لکشدیپ کے عوام کے لیے تباہ کن ہے مجوزہ ایل ڈی اے آر: ایس آئی او

مسودے پر عمل درآمد شروع ہوا تو یہ لکشدیپ کے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال نازک ماحولیاتی نظام کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ یہ ہندوستان کے ماحولیات اور قدرتی تنوع کو بچانے کے آئینی حکم کی واضح خلاف ورزی ہے۔

لکشدیپ، تصویر آئی اے این ایس
لکشدیپ، تصویر آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

کووڈ-19 وبا کے پریشان کن اوقات میں جاری کیا گیا لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن (ایل ڈی اے آر) 2021 کا مسودہ جزائر کے مجموعے لکشدیپ کے عوام کی حق تلفی کا ایک مذموم منصوبہ ہے۔ واضح ہو کے بحیرہ عرب میں واقع جزائر لکشدیپ کی 97 فی صد آبادی مسلمان ہے۔ یہ ایک مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام علاقہ ہے۔

ایل ڈی اے آر کا مجوزہ ضابطہ مرکزی حکومت کے ذریعے نامزد منتظم اور اس کے واسطے سے مرکزی حکومت کو بے دریغ طاقت عطا کرتا ہے۔ یہ مسودہ لکشدیپ میں موجود زمین کی ملکیت اور اس کے استعمال کے حق کو براہ راست خطرے میں ڈالتا ہے جس سے حکومت اور اس کے تمام اداروں کو کسی بھی شخص کی زمین کو اپنی ملکیت میں لینے اور اس میں براہ راست مداخلت کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔


اس مسودے کی دفعہ 29 حکومت کو ’ترقیاتی‘ سرگرمیوں کے لیے کسی بھی اراضی کو حکومت کی نظر میں موزوں نظر آنے پر استعمال کرنے کہا اختیار دیتی ہے۔ ایسے میں زمین کے مالک کی مرضی کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ متذکرہ مسودہ میں ’عوامی استعمال‘ کی مبہم اصطلاح کو جان بوجھ کر استعمال کیا گیا ہے جس سے منتظم اور دیگر حکام آسانی سے اس کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

اگر اس مسودے پر عمل درآمد شروع ہوگیا تو یہ لکشدیپ کے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال نازک ماحولیاتی نظام کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ یہ ہندوستان کے ماحولیات اور قدرتی تنوع کو بچانے کے آئینی حکم کی واضح خلاف ورزی ہے۔ لکشدیپ کے بدنام زمانہ منتظم پرفل پٹیل بدنظمی کا اپنا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد اُنہوں نے سب سے پہلے جزائر میں "غنڈا ایکٹ" لگا دیا تھا۔ یہ اس لحاظ سے عجیب بات ہے کہ لکشدیپ ایسی جگہ ہے جہاں جیلیں تقریباً خالی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور ضابطہ لائے جس کے تحت دو سے زیادہ بچے رکھنے والے افراد پنچایت انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ جانوروں کے تحفظ کے قانون کے ذریعے گائے کے گوشت پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب کہ یہ جزائر اکثریت مسلم آبادی والے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی حرکتوں اور قواعد و ضوابط کو مقامی لوگوں پر زبردستی نافذ کر دیا گیا ہے۔


ہمیں تشویش ہے کہ نباتات اور حیوانات سے مالا مال اور اپنی مخصوص ثقافت اور ورثہ رکھنے والے ان جزائر کو ایک کھوکھلے ترقیاتی ایجنڈے کے تحت مغلوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارے آئین میں مقامی لوگوں اور ان کی زمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے دفعات بنائی گئیں ہیں۔ یہ مسودہ فطرت کے تحفظ کے ساتھ ترقی کے آئینی جذبے کے ساتھ واضح طور پر خیانت کرتا ہے۔

لہٰذا اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کا سختی سے مطالبہ ہے کہ مجوزہ ظالمانہ ایل ڈی اے آر 2021 کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ چونکہ منتظم پرفل پٹیل واضح طور پر جزیرے کے معاملات سنبھالنے میں نا اہل ثابت ہوئے ہیں انہیں فوری طور پر واپس بلالیا جانا چاہیے۔ ہم لکشدیپ کے عوام پر اس طرح کے مکروہ قوانین کے لزوم اور نااہل انتظامیہ کے تقرر کے خلاف ان کی حق بجانب جدوجہد میں یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم دیگر شہریوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کے حوالے سے حساس ہوں اور اپنے ماحول کا بھی خیال رکھیں۔ ہم یقینی طور پر لوگوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر اس کے بدلے ترقی و سیاحت کے کھوکھلے نعروں کو قبول نہیں کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔