پنڈت جواہر لال نہرو کی آخری وصیت... برسی کے موقع پر خصوصی پیش کش

جواہر لال نہرو کی آخری وصیت، جو انھوں نے 21 جون 1954 کو لکھی تھی اور اسے ان کے انتقال کے بعد 3 جون 1964 کو نشر کیا گیا تھا

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

مجھے، میرے ملک کے عوام نے، میرے ہندوستانی بھائیوں اور بہنوں نے اتنی محبت اور اپنائیت دی ہے کہ میں چاہے جتنا کچھ کروں، وہ اس کے ایک چھوٹے سے حصے کا بھی بدلا نہیں ہو سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کے بدلے کچھ دینا ممکن نہیں۔ اس دنیا میں بہت سے لوگ ہوئے، جن کو اچھا سمجھ کر، بڑا مان کر، ان کی عزت کی گئی، عبادت کی گئی، لیکن ہندوستان کے لوگوں نے چھوٹے اور بڑے، امیر اور غریب سب طبقوں کے بہنوں اور بھائیوں نے مجھے اتنا زیادہ پیار دیا کہ جس کا بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے اور میں اس کے نیچے دب گیا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ میں اپنی زندگی کے باقی سالوں میں اپنے ملک کے باشندوں کی خدمت کرتا رہوں گا اور ان کی محبت کا اہل ثابت ہوؤں گا۔ بے شمار دوستوں اور ساتھیوں کے میرے اوپر اور بھی زیادہ احسان ہیں۔ ہم بڑے بڑے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے، شریک رہے، مل جل کر کام کیا۔ یہ تو ہوتا ہی ہے کہ جب بڑے کام کیے جاتے ہیں، ان میں کامیابی بھی ہوتی ہے، ناکامیابی بھی ہوتی ہے۔ لیکن ہم سب شریک رہے، کامیابی کی خوشی میں بھی اور ناکامیابی کے غم میں بھی۔

میں چاہتا ہوں اور سچے دل سے چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد کوئی مذہبی رسمیں ادا نہ کی جائیں۔ میں ایسی باتوں کو مانتا نہیں ہوں اور صرف رسم سمجھ کر ان میں بندھ جانا، دھوکے میں پڑنا مانتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میری آخری رسومات ادا کر دی جائیں۔ اگر بیرون ملک میں مروں تو میرے جسم کو وہیں سپرد آتش کر دیا جائے اور میری باقیات کو الٰہ آباد بھیج دیا جائے۔ ان میں سے مٹھی بھر گنگا میں ڈال دی جائیں اور ان کے بڑے حصے کے ساتھ کیا کیا جائے، میں آگے بتا رہا ہوں۔ ان کا کچھ بھی حصہ کسی بھی حالت میں بچا کر نہ رکھا جائے۔

گنگا میں باقیات (ہڈیوں) کا کچھ حصہ ڈلوانے کے پیچھے جہاں تک میرا تعلق ہے، کوئی مذہبی خیال نہیں ہے۔ اس کے بارے میں میرا کوئی مذہبی جذبہ نہیں ہے۔ مجھے بچپن سے گنگا اور جمنا سے لگاؤ رہا ہے، اور جیسے جیسے میں بڑا ہوا، یہ لگاؤ بڑھتا رہا۔ میں نے موسموں کے بدلنے کے ساتھ ان میں بدلتے ہوئے رنگ اور روپ کو دیکھا ہے، اور کئی بار مجھے یاد آئی اس تاریخ کی، ان روایات کی، مذہبی داستانوں کی، ان نغموں اور کہانیوں کی جو کہ کئی صدیوں سے ان کے ساتھ جڑ گئی ہیں اور ان کے بہتے ہوئے پانی میں گھل مل گئی ہیں۔

گنگا تو خصوصاً ہندوستان کی ندی ہے، عوام کی محبوب ندی ہے، جس سے لپٹی ہوئی ہیں ہندوستان کی ذاتیاتی یادیں، اس کی امیدیں اور اس کا خوف، اس کی کامیابی، اس کی فتح و شکست۔ گنگا تو ہندوستان کی قدیم ثقافت کی علامت رہی ہے، نشانی رہی ہے، ہمیشہ بدلتی، پھر وہی گنگا کی گنگا۔ وہ مجھے یاد دلاتی ہے ہمالیہ کی، برف سے ڈھکے میدانوں کی، جہاں کام کرتے میری زندگی گزری ہے۔ میں نے صبح کی روشنی میں گنگا کو مسکراتے، اچھلتے کودتے دیکھا ہے، اور دیکھا ہے شام کے سائے میں اداس، کالی سی چادر اوڑھے ہوئے، بھید بھری، جاڑوں میں سمٹی سی آہستہ آہستہ بہتی خوبصورت دھارا، اور برسات میں دوڑتی ہوئی، سمندر کی طرح چوڑا سینہ لیے اور ساگر کو برباد کرنے کی طاقت لیے ہوئے، یہی گنگا میرے لیے نشانی ہے ہندوستان کی تاریخ کی، یادگار کی، جو بہتی آئی ہے اب تک، اور بہتی چلی جا رہی ہے مستقبل کے مہاساگر کی طرف۔

بھلے ہی میں نے پرانی روایات، رسوم و رواج کو چھوڑ دیا ہو، اور میں چاہتا بھی ہوں کہ ہندوستان ان سب زنجیروں کو توڑ دے جن میں وہ جکڑا ہے، جو اس کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے اور ملک میں رہنے والوں میں پھوٹ ڈالتی ہے، جو بے شمار لوگوں کو دبائے رکھتی ہے اور جو جسم و روح کی ترقی کو روکتی ہے۔ یہ سب میں چاہتا ہوں، پھر بھی میں یہ نہیں چاہتا کہ میں خود کو ان پرانی باتوں سے بالکل الگ کر لوں۔ مجھے فخر ہے اس شاندار جانشینی کا، اس وراثت کا جو ہماری رہی ہے اور ہماری ہے، اور مجھے یہ بھی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ میں بھی، ہم سبھوں کی طرح، اس زنجیر کی ایک کڑی ہوں، جو کہ کبھی نہیں اور کہیں نہیں ٹوٹی ہے اور جس کا سلسلہ ہندوستان کے ماضی کی تاریخ کے شروع سے چلا آتا ہے۔ یہ سلسلہ میں کبھی نہیں توڑ سکتا، کیونکہ میں اس کی بے حد قدر کرتا ہوں، اور اس سے مجھے ترغیب، ہمت اور حوصلہ ملتا ہے۔ میری اس امید کی تصدیق کے لیے اور ہندوستان کی ثقافت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ میری بھسم (باقیات) کی ایک مٹھی الٰہ آباد کے پاس گنگا میں ڈال دی جائے، جس سے کہ وہ اس مہاساگر میں پہنچے جو ہندوستان کو گھیرے ہوئے ہے۔ میرے بھسم کے باقی حصے کا کیا کیا جائے؟ میں چاہتا ہوں کہ اسے ہوائی جہاز میں اونچائی پر لے جا کر بکھیر دیا جائے، ان کھیتوں پر جہاں ہندوستان کے کسان محنت کرتے ہیں، تاکہ وہ ہندوستان کی مٹی میں مل جائے اور اسی کا حصہ بن جائے۔

(نہرو کی ملک کو سونپی گئی آخری وصیت، جو انھوں نے 21 جون 1954 کو لکھی تھی اور اسے ان کے انتقال کے بعد 3 جون 1964 کو نشر کیا گیا)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔