اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت اس دور کا سب سے اہم فریضہ: مولانا حکیم الدین قاسمی

اپنے خطاب میں مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نے کہا کہ آزادی وطن کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے دینی تعلیم کی تحریک کی بنیاد رکھی اور اسے نسل نو کی تعمیر کی اساس قرار دیا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کی تحریک کو مستحکم کرنے کے مقصد سے آج چار مینار مسجد ابوالفضل اوکھلہ میں علاقہ کے ذمہ داروں اور بااثر علماء کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں بطور مہمان خصوصی مولانا حکیم الدین قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند شریک ہوئے۔ اس موقع پر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی شاخ ’جنوبی دہلی‘ کے لیے مجلس عاملہ کا انتخاب عمل میں آیا، بعد میں مجلس عاملہ نے مولانا محمد بلال صاحب کو دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء حلقہ جنوب مشرقی دہلی کا صدر منتخب کیا۔اس کے علاوہ مولاناشمیم احمد قاسمی امام وخطیب جامع مسجد ذاکر نگر جنرل سکریٹری،مولانا شہزاد ومولانا حسام الدین نائب صدر اور حاجی شکیل احمد خازن مقرر ہوئے۔

اپنے خصوصی خطاب میں مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نے کہا کہ آزادی وطن کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے دینی تعلیم کی تحریک کی بنیاد رکھی اور اسے نسل نو کی تعمیر کی اساس قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اکابر بالخصوص حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ،مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ نے بچوں کے لیے کتابیں لکھیں اور اس تحریک کو ملک کے کونے کونے تک پہنچایا۔ انھوں نے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کے سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کے سابق استاذ مولانا سید مہدیؒ کے بشارتی خواب کا بھی تذکرہ کیاجس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مفتی صاحب کو یاد کیا تھا۔


مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ایمان کی حفاظت کریں۔آج جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، وہ کسی سے پوشید ہ نہیں ہے، آج کے دورمیں ائمہ حضرات کو خصوصی توجہ لائی جائے کہ وہ معیاری مکاتب قائم کریں۔ امیدہے کہ اللہ تعالی آپ سب کی مدد فرمائیں گے۔

انھوں نے اس موقع پر الجزائر کے دو بڑے عالم دین مولانا بشیر ابراہیمی اور مولانا عبدالحمید بن بادیس کا تذکرہ کیا، جنھوں اپنی فکری و دینی جدو جہد سے وہاں انقلاب برپا کردیا تھا۔ ابتدا میں یہ دونوں مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں رہنے لگے، بعد میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے ان کو الجزائر بھیجا، جہاں انھوں نے فرانسیسی سے جنگ لڑی اور گھر گھر تک قرآن کی تعلیم پھیلائی۔


اس موقع پر مولانا قاری عبدالسمیع جنرل سکریٹری دینی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے ریاست بھرمیں جاری تحریکات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ دہلی میں اب مختلف علاقوں میں ماڈل مکاتب قائم کیے جارہے ہیں، انھوں نے کہا جمعیۃ علماء ہند کے اس خواب کو دہلی میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا کہ ہر مسلم بچہ مکتب ضرور جائے۔ مولانا عظیم اللہ صدیقی علماء ہند نے اپنے بیان میں دینی تعلیمی بورڈ کی تحریکات کا تذکرہ کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے سیئنر آرگنائزر مولانا ضیا ء اللہ قاسمی سمیت بڑی تعداد میں اجلاس میں مقامی علماء اور ائمہ کرام موجود تھے۔ جو حضرات ارکان عاملہ کے طور پر شریک ہوئے ان کے نام حسب ذیل ہیں حاجی محمد شکیل، مولانا شمیم، حافظ دانش، مولانا حسام الدین، مولانا عالم، مولانا فروغ احمد ندوی، اختر ندیم، مولاناشاہد سرور، مولانا معروف، مولانا قاسم، مولاناشعیب، قاری عبدالحفیظ،جناب طارق، جناب عظیم الدین، مولانا محمد طیب، قاری ربیع الحسن، مولاناعبداللہ،مولانا شہزاد، مولانا راشد، مفتی گلفام، مولانا ارشاد، مولانا عبدالعلا م ندوی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔