ازبکستان کے ’غالب محلہ‘ میں یاد کیے گئے غالب

پروگرام لال بہادر شاستری سنٹر نے محلے کے عوام، لوکل باڈی گورنمنٹ اور لائسیوم اسکول کے تعاون سے کیا گیا۔ اس موقع پر ’غالب محلہ‘ کی صدر ثانیہ نے غالب کی شخصیت اور شاعری پر روشنی ڈالی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

پروفیسر چندر شیکھر، کلچرل اٹیچی، ہندوستانی سفارت خانہ ، ازبکستان کی اطلاع کے مطابق ازبکستان کے غالب محلہ میں غالب کی یوم وفات (15 فروری) کی مناسبت سے ایک ادبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ پروگرام لال بہادر شاستری سنٹر نے محلے کے عوام، لوکل باڈی گورنمنٹ اور لائسیوم اسکول کے تعاون سے کیا۔ اس موقع پر غالب محلے کی صدرثانیہ صدر صادقاؤ نے غالب کی شخصیت اور شاعری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں غالب محلے کے قیام اور اس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ازبکستان میں اردو اور غالبیات کو فروغ دینے کے لیے اس ادارے کا اہم کردار رہا ہے۔

اس موقع پر ہندوستانی سفیر کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے پروگرام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے قران کا ایک نفیس نسخہ اور غالب کی کتابیں غالب محلہ کو تحفتاً دیں۔ ازبکستان کی اردو اسکالرڈاکٹر محیا نے غالب کی ایک غزل ـ’سب کہاں لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیںـ‘ پڑھ کرسنایا اور سامعین کے لیے اس کا ازبکی زبان میں ترجمہ بھی پیش کیا۔ پروفیسر قمر رئیس کے بعد پہلی مرتبہ یہاں غالب پر ادبی وثقافتی پروگرام منعقد ہوا جس میں یہاں کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔