جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام قومی یکجہتی و سدبھاؤنا پروگرام کا انعقاد
مولانا حکیم الدین قاسمی نے مشائخ چشت کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑنا، نفرتوں کو محبت میں بدلنا اور برگشتہ روحوں کو ایک رشتۂ الفت میں پرونا سب سے بڑی عبادت ہے۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے قومی یک جہتی و سدبھاؤنا پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں باہمی اتحاد و محبت ایک زندہ اور مضبوط حقیقت ہے جسے کچھ طاقتیں مٹانی چاہتی ہیں، لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے یہ باتیں 8 فروری کو علاقہ بانس گاؤں پورینی میں جمعیۃ علماء (علاقہ بانس گاؤں پورینی) کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان قومی یکجہتی و سدبھاؤنا پروگرام میں کہیں، جس میں علمائے کرام، سماجی قائدین، عوامی نمائندگان اور وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
مولانا محمد حکدیم الدین قاسمی نے پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مختلف علاقے شدید قدرتی آفات سے متاثر ہوئے تو جمعیۃ علماء ہند نے فوری طور پر وہاں متعدد راحتی کیمپ قائم کیے، جہاں مذہب، ذات اور قوم کی کسی تفریق کے بغیر متاثرین کی خدمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کیمپوں میں جس اخلاص اور ایثار کے جذبے کے ساتھ خدمات انجام دی گئیں، اس نے دلوں کو جوڑنے کا کام کیا اور عوام نے جمعیۃ کو محبت کے ساتھ ’خدمت والی جماعت‘ کا لقب دیا۔ مولانا حکیم الدین قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین نے ہمیشہ تقسیم وطن اور دو قومی نظریے کی مخالفت کی اور متحدہ قومیت، قومی اتحاد اور ملکی سالمیت کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کا تاریخی قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ ہندو-مسلم اتحاد اس ملک کی روح ہے، اور اگر اس اتحاد سے دستبرداری اختیار کی جائے تو گویا ہندوستان کی روح سے دستبرداری ہوگی۔
مولانا حکیم الدین قاسمی نے انھوں نے مشائخ چشت کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑنا، نفرتوں کو محبت میں بدلنا اور برگشتہ روحوں کو ایک رشتۂ الفت میں پرونا سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے ہمارے اکابرین نے صدیوں تک اس سرزمین پر عام کیا اور جس کی بدولت ہندوستان میں محبت، رواداری اور باہمی احترام کی روایت قائم رہی۔

ازیں قبل ابتدائی خطاب میں مولانا معروف غازی پوری نے جمعیۃ علماء ہند کا تعارف کراتے ہوئے اس کی سن تاسیس، فکری اساس اور تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جمعیۃ نے آزادی سے لے کر آج تک ملک کی سالمیت اور قومی ہم آہنگی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا مہدی حسن عینی، کنوینر سدبھاؤنا منچ، جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ موجودہ حالات میں نفرت کا خاتمہ سب سے بڑا سماجی فریضہ ہے، جس کے لیے مکالمہ، نکڑ سبھائیں اور باہمی روابط انتہائی مؤثر ذریعہ ہیں۔
مفتی محفوظ الرحمن صاحب قاسمی نے قرآن مجید کی روشنی میں امن و اتحاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ مولانا محمد جمال قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع بارہ بنکی نے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ اسلام کی بنیاد ہی امن، مفاہمت اور معاہدات پر ہے۔ صدر اجلاس مفتی محمد صہیب قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں جمعیۃ علماء علاقہ بانس گاؤں پورینی کی دینی، سماجی اور فلاحی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کارکنان کے اخلاص کی ستائش کی۔
چندرشیکھر آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سماج میں نفرت کی اصل جڑ سیاست ہے، جو ووٹ کی خاطر انسانوں کو آپس میں لڑاتی ہے۔ ایڈووکیٹ بالک رام سروج نے کہا کہ آزادی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ علماء نے ملک کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں پیش کیں اور باہمی بھائی چارہ ہی قومی استحکام کی بنیاد ہے۔ آخر میں جمعیۃ علماء وسط زون کے صدر مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی نے امن و امان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے سماجی رواداری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ مولانا حسان قاسمی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، جبکہ مفتی ظفر صاحب کی دعا پر یہ بابرکت مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اجلاس کی نظامت مولانا ارشد نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ اس موقع پر مولانا شعیب قاسمی ناظم دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند، مولانا ذبیح اللہ قاسمی، مولانا نور احمد ندوی، مولانا تاج محمد قاسمی، مولانا سعید مظاہری، مولانا علیم الدین، مولانا عمار، حافظ برکت اللہ، حاجی رئیس، مولانا سلیم، مولانا خالد، مولانا سہیل، مولانا ارشد رئیس، مولانا آصف ندوی، حافظ توقیر، پردھان جنید، بھائی ذکی اللہ اور پولیس محکمہ کے افسران بطور خاص موجود رہے۔ پروگرام کا آغاز قاری عبدالمتین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد مولوی طہٰ ندوی نے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی۔