مفتی ولی اللہ کی پھانسی کی سزا کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ایسے متعدد معاملے ہیں جن میں ذیلی عدالتوں نے سزائیں دیں مگر جب وہ معاملے اعلیٰ عدالت میں گئے تو مکمل انصاف ہوا۔

مولانا ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: غازی آباد کی خصوصی سیشن عدالت کے جج جتندر کمار سنہا نے 6 جون کو 2006 میں ہوئے سنکٹ موچن مندر سلسلے وار بم دھماکہ معاملے کے اکلوتے ملزم مفتی ولی اللہ کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ مفتی ولی اللہ کا تعلق اترپردیش کے پھول پور سے ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دس سالوں سے ملزم کو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے قانونی امداد فراہم کی جا رہی تھی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس معاملے میں غازی آباد سیشن کورٹ کے ذریعہ مفتی ولی اللہ کو دی گئی پھانسی کی سزا پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ذیلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اعلیٰ عدالت سے ان کو مکمل انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متعدد معاملے ہیں جن میں ذیلی عدالتوں نے سزائیں دیں مگر جب وہ معاملے اعلیٰ عدالت میں گئے تو مکمل انصاف ہوا۔


مولانا ارشد مدنی نے اپنے بیان میں آگے کہا کہ اس کی ایک بڑی مثال اکشر دھام مندر حملہ کا معاملہ ہے، جس میں ذیلی عدالت نے مفتی عبدالقیوم سمیت تین افراد کو پھانسی اور چار لوگوں کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ لیکن جمعیۃ علماء ہند کی قانونی امداد کے نتیجہ میں جب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں گیا تو یہ سارے لوگ نہ صرف باعزت بری ہوئے بلکہ بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھانسنے پر عدالت نے گجرات پولیس کی سخت سرزنش بھی کی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ اس مقدمہ میں بھی ہمیں اور مقدمات کی طرح کامیابی حاصل ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔