عمران حسین نے کی فاطمہ اکیڈمی کی تعریف، کہا ’’کورونا دور میں کمپیوٹر کلاسز چلانا بہترین سماجی خدمت‘‘

عمرن حسین نے یقین دلایا کہ فاطمہ اکیڈمی کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے وہ انفرادی و سرکاری حیثیت میں جو بھی ممکن تعاون ہو سکے گا، اُسے فراہم کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

تصویر بذریعہ فاطمہ اکیڈمی
تصویر بذریعہ فاطمہ اکیڈمی
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: کورونا وباء نے انسان کی زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے۔ بدلی ہوئی صورتحال میں بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنا اسکول اور والدین دونوں کے لئے چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صاحب حیثیت تو تعلیم کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں لیکن متوسط اور کم آمدنی والے والدین کیا کریں یا ان کے بچوں کی تعلیم کس طرح جاری رہے گی، ان سب سوالوں کا جواب اور درپیش مسائل کاایک حل لال کنواں میں واقع فاطمہ اکیڈمی نے اپنے قیام کی گیارہویں سالانہ تقریبات میں پیش کیا ہے۔

عمران حسین نے کی فاطمہ اکیڈمی کی تعریف، کہا ’’کورونا دور میں کمپیوٹر کلاسز چلانا بہترین سماجی خدمت‘‘
عمران حسین نے کی فاطمہ اکیڈمی کی تعریف، کہا ’’کورونا دور میں کمپیوٹر کلاسز چلانا بہترین سماجی خدمت‘‘
عمران حسین نے کی فاطمہ اکیڈمی کی تعریف، کہا ’’کورونا دور میں کمپیوٹر کلاسز چلانا بہترین سماجی خدمت‘‘

اس موقع پر منعقد ’ڈیجیٹل کری ایشنز‘ پروگرام میں دہلی سرکار کے وزیر خوراک عمران حسین نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور فاطمہ اکیڈمی کے فاﺅنڈر اعجاز نور، خرم رضا، محمد جاوید، توفیق صدیقی، دیگر ممبران و طلبہ کی ستائش کی۔ اپنے خطاب میں عمران حسین نے اکیڈمی کی ایک دہائی سے زیادہ جاری کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح فاطمہ اکیڈمی والڈ سِٹی کے طلبہ کو فری کوچنگ، قرآن کلاسز، کمپیوٹر ٹریننگ، ڈرامہ، آرٹ اینڈ کرافٹ ورکشاپ، مہندی و فیشن ڈیزائننگ و دیگر ہُنر سکھانے میں مصروف ہے اور اس جیسے اداروں کی شہر کے مختلف علاقوں میں اشد ضرورت ہے۔

عمران حسین نے کہا کہ کورونا کے دور میں بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے کمپیوٹر کلاسز کا اہتمام ایک بہترین سماجی خدمت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فاطمہ اکیڈمی کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے وہ انفرادی و سرکاری حیثیت میں جو بھی ممکن تعاون ہو سکے گا، اُسے فراہم کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس موقع پر والدین نے وزیر موصوف سے فاسٹ انٹرنیٹ اسپیڈ اور طلبہ کے لئے فری ریچارج کا مطالبہ کیا۔ اس پروگرام میں ایم سی ڈی سِٹی ایس پی زون کے چیئرمین محمد صادق نے بھی شرکت کی اور اپنے خطاب میں فاطمہ اکیڈمی کی کارکردگی کی ستائش کی۔

پروگرام کے آغاز میں علامہ اقبال کی لافانی تخلیق ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ کو نئے انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد کورونا دور میں احتیاطی تدابیر اپنانے پر مبنی ایک اسکِٹ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد پیش کیے گئے پروگرام میں طلبہ کو آن لائن کلاسز میں درپیش پریشانیوں جیسے سلو انٹرنیٹ کنیکشن اور ڈیٹا ریچارج کو نمایاں کیا گیا۔ طلبہ نے ایک فیشن شو بھی پیش کیا، جس میں انہوں نے اخبار و دیگر اشیاء کو استعمال کر کے اکیڈمی سے حاصل کیے اپنے آرٹ اینڈ کرافٹ ہُنر کا بھی مظاہرہ کیا۔ کمپیوٹر سینٹر کے طلبہ نے لاک ڈاﺅن کے بعد مختصر عرصے میں جو بھی کمپیوٹر ایپلی کیشنز سیکھیں ہیں اُن پر مبنی ایک ڈیجیٹل پرزینٹیشن پیش کیا، جس میں انہوں نے ٹیکسٹ، گرافکس، فلم میکنگ، ایڈیٹنگ و ساﺅنڈ مکسنگ کا مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں طلبہ نے اپنے پروفائل پر مبنی پوسٹرز کی نمائش بھی کی۔

پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے محمد جاوید اور توفیق صدیقی نے بتایا کہ فاطمہ اکیڈمی آن لائن کلاسز کو یقینی بنانے کے لئے بچوں کو فری وائی فائی کنیکشن فراہم کر رہی ہے۔ کمپیوٹر سینٹر میں اُن ایپلی کیشنز کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے طلبہ کو اپنا اسکول کا کام کرنے میں سہولت ہو۔ ساتھ ہی ساتھ سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کے پروگرام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پوری طرح ’کانسیپٹ سے لیکر پرفارمینس تک، فاطمہ اکیڈمی کے طلبہ نے ہی انجام دیا۔ ہمیں فخر ہے کہ فاطمہ اکیڈمی کے وہ طلبہ جو دس سال پہلے جڑے تھے وہ آج اس پروگرام کے آرگنائزر ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ایاز، اقراء، ثنا یونس، اقراءجاوید، اِرم، زید اور سعد کا خاص طور پر ذکر کیا۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں شہر کی مختلف تعلیمی، سماجی و فلاحی تنظیموں کے عہدیداران و ممبران کے علاوہ مختلف علاقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

پسندیدہ ترین
next