مختلف ریاستوں میں مظلوموں کی املاک پر بلڈوزر کارروائی سے متعلق سماعت ملتوی

شاہین باغ والے معاملے میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا تو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق ہائی کورٹ جائیں گے۔

بلڈوزر، تصویر آئی اے این ایس
بلڈوزر، تصویر آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: دہلی کے جہانگیر پوری، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، اور اتراکھنڈ وغیرہ ریاستوں میں مظلوموں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پرآج مرکزی حکومت کی جانب سے حلف نامہ داخل نہیں کئے جانے کی وجہ سے سماعت ٹل گئی۔ حالانکہ عدالت نے اسٹے کو برقرار رکھا ہے۔

اسی درمیان شاہین باغ میں غیر قانونی بلڈوزر چلنے کے خلاف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی جانب سے داخل پٹیشن، جس میں جمعیۃ علماء ہند نے بھی مداخلت کار کی حیثیت سے پٹیشن داخل کی تھی، پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے سماعت کرنے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے اور اگر دہلی ہائی کورٹ سے انہیں راحت نہیں حاصل ہوتی ہے تو وہ سپریم کورٹ آئیں۔ عدالت نے کہا کہ آج عرضی گزاروں میں کوئی بھی متاثر شامل نہیں ہے، لہذا عدالت کسی بھی طرح کی راحت دینے کے حق میں نہیں ہے۔


جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈووکیٹ نظام الدین پاشا اور ایڈوکیٹ صارم نوید نے دو رکنی بینچ کے جسٹس ناگیشور راؤ اور جسٹس گوَئی کو بتایا کہ انہوں نے آل انڈیا سطح پر جاری انہدامی کارروائی کے خلاف پٹیشن داخل کی ہے اور آج ہی انہوں نے شاہین باغ میں جاری انہدامی کارروائی پر اسٹے کے لئے بھی عدالت سے گزارش کی ہے۔ ایڈووکیٹ نظام پاشاہ نے عدالت کو بتایا کہ متاثرین کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو متاثرین کو بھی فریق بنایا جائے گا۔ دو رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ نظام پاشا کو حکم دیا وہ انہدامی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ آنے سے قبل ہائی کورٹ جائیں، عدالت کو سخت ایکشن لینے پر مجبور نہ کریں۔

وکلاء کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو حکم دیا کہ وہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک شاہین باغ میں کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی انجام نہ دینے کے لئے اتھاریٹی کو پیغام دیں۔ عدالت نے کہا کہ سیاسی و غیر سیاسی آرگنائزیشن کو کورٹ سے رجوع ہونے کی بجائے متاثرین کو عدالت آنا چاہئے تاکہ ان کی شکایتوں پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔


مختلف ریاستوں میں مظلوموں کی املاک پر جاری بلڈوزر کی کارروائی کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پٹیشن داخل کی گئی ہے جس میں قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے شہر کھرگون میں کی گئی انہدامی کارروائی کے خلاف داخل پٹیشن میں 60 صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کیا گیا ہے جس میں کھرگون کے مسلمانوں کی املاک کی تفصیلات ہیں جنہیں غیر قانونی طریقے سے منہدم کیا گیا تھا۔ حلف نامہ میں ان تمام لوگوں کی تفصیلات ہیں جن کی املاک پر بغیر نوٹس کے بلڈوزر چلایا گیا۔ اسی طرح ان لوگوں کی بھی تفصیلات ہیں جنہیں کئی ماہ قبل نوٹس دیا گیا تھا اور انہیں اپنی با ت رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

آج کی عدالتی کارروائی کے بعد صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے جہانگیرپوری انہدامی کارروائی پر اسٹے برقرار رکھنے کا عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق متاثرین کی جانب سے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے شاہین باغ والے معاملے میں بھی اسٹے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن عدالت نے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور حکم کے مطابق ہائی کورٹ سے متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے انہیں فریق بنا کرعدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔