"مودی حکومت کے اشارے پر دہلی پولس نے کانگریس لیڈران و کارکنان کو گرفتار کیا"

چودھری انل کمار کا کہنا ہے کہ "وزارت داخلہ کے ماتحت دہلی پولس نے کسانوں کے ملک میں کسانوں کی حمایت کرنے والے کانگریس کارکنان پر طاقت کا استعمال کیا اور مارچ نکالنے پر پابندی لگا دی۔"

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

تنویر

مودی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں بغیر اپوزیشن پارٹیوں سے بحث کیے کسان مخالف بلوں کو پاس کرنے کے خلاف دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار جیسے ہی پرامن طریقے سے کسان مزدور نیائے مارچ کے لیے راج گھاٹ پہنچے، لیکن وہاں کثیر تعداد میں پہنچ کر دہلی پولس نے کسانوں کے ساتھ ساتھ کانگریس کارکنان کی گھیرابندی کی اور پھر انھیں گرفتار کر لیا۔ اس تعلق سے کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولس نے یہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر کیا۔

"مودی حکومت کے اشارے پر دہلی پولس نے کانگریس لیڈران و کارکنان کو گرفتار کیا"

دراصل کسانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے بڑی تعداد میں کانگریس لیڈران و کارکنان نے پرامن مارچ نکالا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انھیں گرفتار کر کے دہلی کے مختلف پولس اسٹیشنوں میں لے جایا گیا۔ بڑی تعداد میں موجود کسان اور کانگریس کارکنان راج گھاٹ سے راج نیواس تک نیائے مارچ کر کے کسان مخالف بلوں کو واپس لینے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ صدر جمہوریہ کو نامزد عرضداشت سونپنا چاہتے تھے۔ کانگریس دہلی صدر چودھری انل کمار نے بعد میں عرضداشت لیفٹیننٹ گورنر کے حوالے کیا۔

"مودی حکومت کے اشارے پر دہلی پولس نے کانگریس لیڈران و کارکنان کو گرفتار کیا"

کانگریس کارکنان و لیڈران کی گرفتاری سے متعلق چودھری انل کمار نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ وزارت داخلہ کے ماتحت دہلی پولس کسانوں کے ملک میں کسانوں کی حمایت کرنے والے کانگریس کارکنان پر طاقت کا استعمال کیا اور مارچ نکالنے پر پابندی لگا دی ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ہمارا نعرہ 'جے جوان، جے کسان' گونجتا ہے، لیکن ہندوستان میں ہی کسانوں کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

"مودی حکومت کے اشارے پر دہلی پولس نے کانگریس لیڈران و کارکنان کو گرفتار کیا"

دہلی کانگریس صدر چودھری انل نے کہا کہ بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت دوسرے سرکاری اداروں اور محکموں کی طرح زراعتی سیکٹر کو بھی کارپوریٹس کے ہاتھوں میں سونپنے کے لیے پرعزم نظر آ رہی ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دینے سے انکار کرنے کے لیے ایم ایس پی کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس طرح سے زرعی بل کے ذریعہ کسانوں کی آمدنی کے آخری پیسے تک کا حقدار کارپوریٹ سیکٹر بن جائے گا۔

next