دہلی یونیورسٹی میں تقریب برائے تقسیمِ اسناد، اردو صحافی سید عینین علی حق کو بھی ڈگری تفویض

تقریب برائے تقسیم اسناد میں مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے طلباء کو 156 میڈلز اور 36 دیگر ایوارڈ پیش کیے۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: آج دہلی یونیورسٹی کے 97 ویں کانووکیشن (تقریب برائے تقسیم اسناد) میں 1،78،719 طلبا کو آن لائن و آف لائن ڈگری دی گئیں۔ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پی سی جوشی نے بتایا کہ دہلی یونیورسٹی ایسا کرنے والا ملک کا پہلا تعلیمی ادارہ بن گیا ہے۔ ملک میں کووڈ 19 کی وبا کے سبب کانووکیشن تقریب کا انعقاد آن لائن و آف لائن دونوں سطح پر کیا گیا تھا۔

دہلی یونیورسٹی میں منعقد تقریب برائے تقسیم اسناد میں شعبہ اردو کے 19 پی ایچ ڈی طلباء کو ڈگری دی گئی جس میں اردو صحافی سید عینین علی حق کا بھی نام شامل ہے۔ انھوں نے آزاد ہندوستان میں فسادات اور دہشت پسندی سے متعلق افسانے کے موضوع پر اپنی پی ایچ ڈی ڈاکٹر کاظم کی نگرانی میں مکمل کی۔ سید عینین نے سنہ 2009 میں بطورِ صحافی اپنے سفر کا آغاز اخبار مشرق سے کیا تھا، پھر روزنامہ انقلاب، روزنامہ صحافت، نیٹورک 18 اور اب عالمی سہارا میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سید عینین نے 2013 میں ایم فل مکمل کیا، اور پی ایچ ڈی کے لیے سنہ 2014 میں داخلہ لیا۔ انھوں نے اکتوبر 2019 میں اپنی پی ایچ ڈی جمع کی تھی۔

تمام پی ایچ ڈی طلباء کو یو پی ایس سی کے چیئرمین پی کے جوشی نے دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ اعزاز سے نوازا۔ ان میں سید عینین علی حق کے علاوہ عمران احمد، محمد حسین، شکیل احمد، سالم سلیم، طارق، عادل احسان، عالیہ سمیت 19 طلباء کو بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ اس دوران پروفیسر ارتضی کریم، ڈین فکلٹی آف آرٹس اور صدر شعبہ اردو بھی موجود رہے۔

کانووکیشن کے دوران دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پی سی جوشی نے کہا کہ ’’نہ صرف دہلی یونیورسٹی بلکہ تمام یونیورسٹیوں کی تاریخ میں پہلی بار ایک بٹن کلک کرتے ہوئے تقریبا 1،80،000 طلباء کو ان کی میل میں مختلف شعبوں میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری دی گئیں۔ یہ ہم سب کے لیے تاریخی قدم ہے۔ کانووکیشن کی تقریب میں مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے طلباء کو 156 میڈلز اور 36 دیگر ایوارڈ پیش کیے۔ تقریب کے دوران چھ سو ڈاکٹریٹ ڈگری اور 44 ڈی ایم / ایم سی ایچ ڈگری بھی دی گئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔