آزاد مدارس سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ دستور ہند کی فتح

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے زور دیا کہ حکومت اور انتظامیہ دینی مدارس کے خلاف منمانے، غیر قانونی اور امتیازی اقدام سے باز آئیں۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آزاد اور غیر ملحق دینی مدارس کے بارے میں صادر کیے گئے تاریخی فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دستور ہند کی بالادستی اور آئینی اصولوں کی فتح ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ اُن تمام حکومتوں کے لیے ایک تازیانہ ہے جو آزاد دینی مدارس اور مکاتب کو بند کرنے جیسے اقدامات کو اپنی کامیابی بتا رہی تھیں، حالانکہ یہ نہ صرف غیر آئینی تھے بلکہ بالآخر خود ان کے لیے ناکامی اور سبکی کا باعث بنے۔

مولانا مدنی نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند شراوستی کے 30 مدارس کی جانب سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں فریق رہی ہے اور اسی طرح اتراکھنڈ حکومت کے طرز عمل کے خلاف بھی قانونی اور جمہوری جدوجہد کر رہی ہے۔ اس فیصلے سے ہماری ان کوششوں کو واضح تقویت ملی ہے۔ تاہم مولانا مدنی نے دینی مدارس کے ذمہ داروں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ بدستور اپنے داخلی نظام کو بہتر کرنے پر کام کرتے رہیں تاکہ مخالفین کو دوسرے بہانے تراشنے کا موقع نہ ملے۔


مولانا مدنی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ محض عدم منظوری کی بنیاد پر کسی مدرسے کو بند کرنا، سیل کرنا یا اس کی تعلیمی سرگرمیوں کو روکنا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اتر پردیش غیر سرکاری عربی و فارسی مدارس ریگولیشن میں ایسا کوئی اختیار موجود نہیں جس کی بنیاد پر انتظامیہ غیر منظور شدہ مدرسے کو بند کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ نے درحقیقت  سپریم کورٹ کے اس آئینی اصول کی توثیق کی ہے جس کے مطابق وہ اقلیتی تعلیمی ادارے جو نہ ریاستی امداد چاہتے ہیں اور نہ منظوری، آئین ہند کے آرٹیکل (1)30 کے تحت مکمل تحفظ کے مستحق ہیں۔

مولانا مدنی نے حکومت اتر پردیش اور تمام ریاستی حکومتوں کو متوجہ کیا کہ وہ اس فیصلے اور سپریم کورٹ کے طے شدہ آئینی اصولوں کی روشنی میں اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں اور مدارس کے خلاف کسی بھی منمانے، غیر قانونی اور امتیازی اقدام سے باز آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند آئین ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے اقلیتوں کے تعلیمی، مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔ مولانا مدنی نے اس موقع پر اس مقدمہ کے وکیلوں اور مقدمہ میں فریق مدرسہ کے صبر و تحمل اور عدالتی جدوجہد کی ستائش کی اور ان کی کامیابی پر مبارک باد دی۔