بن بھول پورہ فساد میں ماخوذ 2 مسلم نوجوانوں کو ہائی کورٹ سے ملی ضمانت
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وکلاء کی محنت اور تنظیمی کارکنان کی جدوجہد کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: نینی تال ہائی کورٹ نے بن بھول پورہ، ہلدوانی (اتراکھنڈ) میں 8 فروری 2024 کو ہوئے پرتشدد واقعات میں ماخوذ 2 مسلم نوجوان محمد نظام ولد محمد اسلام مرحوم اور محمد شارق صدیقی ولد فدا حسین کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے مقدموں کی پیروی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر مقرر کردہ وکلاء ایڈووکیٹ وکاس کمار گیلانی اور ایڈووکیٹ سعید احمد کر رہے تھے۔ فیصلہ جسٹس پنکج پروہت اور جسٹس منوج کمار تیواری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنایا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں ایڈیشنل سیشن جج ہلدوانی نے ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کردی تھی، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ دوسری طرف استغاثہ نے بن بھول پورہ میں مسجد اور مدرسے کی انہدامی کارروائی کے دوران ماخوذ مسلم افراد پر پولیس پر حملہ، پتھراؤ، آتش زنی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور پٹرول بم پھینکنے جیسے سنگین الزامات لگائے تھے اور یو اے پی اے کی سنگین دفعات بھی عائد کی گئی تھیں۔ اس وقت مسجد اور مدرسہ کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف لوگوں میں سخت ناراضگی تھی۔ اس درمیان تشد د کے کچھ واقعات بھی پیش آئے جن کا الزام یکطرفہ طور پر مقامی مسلمانوں کے سر عائد کر دیا گیا اور ہمیشہ کی طر ح پولیس محکمہ نے بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں کے خلاف براہِ راست کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی شناخت کے حوالے سے استغاثہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ ابتدا میں محمد نظام کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھا، لیکن ایک چشم دید گواہ کے بیان پر 11 فروری 2024 کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس کے قبضے سے دیسی ساختہ پستول برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر کہا کہ کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے۔ اسی طرح محمد شارق کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، انہیں ایک کانسٹیبل کے بیان پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس سے ایس ایل آر میگزین اور کارتوس برآمد ہوئے، لیکن سماعت کے دوران جمعیۃ کے وکلاء نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایل آر نیم فوجی دستوں کو دی جاتی ہے، پولیس کو نہیں، جس سے الزام مشکوک ثابت ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں نوجوان ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ہیں اور براہِ راست شواہد کی عدم موجودگی میں ضمانت پر رہا کیے جانے کے مستحق ہیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ضمانت تک محدود ہے اور مقدمے کے حتمی فیصلے پر اس کا اثر نہیں ہوگا۔
اس مقدمے کی نگرانی مرکز سے جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور قانونی امور کے نگراں ایڈووکیٹ نیاز احمد فاروقی کررہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر جمعیۃ علماء ہلدوانی کے صدر قاری عبدالمعید اور دیگر ارکان نے متاثرین کی معاونت کی۔ جمعیۃعلماء ہند کا ایک وفد سانحہ کے فوری بعد ہی متاثرہ علاقہ کے دورہ پر گیا تھا اور متاثرین کی ابتدائی مدد بھی کی گئی تھی۔ بعد میں قانونی اقدامات کیے گئے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وکلاء کی محنت اور تنظیمی کارکنان کی جدوجہد کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔