ہاتھرس کی ’نربھیا‘ نے یوگی کی ہیکڑی نکال دی... اعظم شہاب

آج جبکہ یوگی آدتیہ ناتھ اہنکار کی بلند چوٹی پر براجمان ہیں، والمیکی سماج کی ایک بیٹی نے اپنی جان دے کر ان کے اہنکار کے سنگھاسن کو ہلا دیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

دسمبر 2012 یعنی 8 سال قبل دہلی میں ہوئے نربھیا اجتماعی عصمت دری کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ دہلی سمیت ملک کے ہر بڑے شہر میں اس کے خلاف آواز بلند ہوئی تھی، لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے، کینڈل مارچ نکالے گئے تھے، پورا ملک نربھیا کے گھر والوں کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا، آج کی حکمراں جماعت بی جے پی کے لوگ تو نربھیا کو انصاف دلانے کے لیے باقاعدہ ایک مہم چلائے ہوئے تھے۔ بالآخر انصاف ہوا اور مارچ 2020 میں اس جرم کے مرتکبین اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ دہلی کے اس واقعے کو فلیش بیک میں رکھتے ہوئے اب ذرا دہلی سے محض 160 کلومیٹر دور ہاتھرس ضلع کے بولگڈھی گاؤں چلتے ہیں، جہاں 14 ستمبر 2020 کو والمیکی برادری کی ایک 19 سالہ لڑکی کے ساتھ نہ صرف اجتماعی عصمت دری کی گئی، بلکہ اس پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ دہلی کے صفدر گنج اسپتال میں 29 ستمبر کو اس کی موت ہوگئی۔

اب ذرا نربھیا کے واقعے کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے یہ تصور کریں کہ اگر اس وقت اس گھناؤنے جرم کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبا دیا جاتا، اگر لوگوں کو احتجاج سے روک دیا گیا ہوتا، اپوزیشن یعنی کہ بی جے پی کے جو لیڈران بڑھ چڑھ کر نربھیا کے گھر والوں سے ملاقات کر رہے تھے اور تصویریں میڈیا میں شیئر کر رہے تھے ان کی ملاقاتوں پر روک لگا دی گئی ہوتی، میڈیا کے لوگوں کو اس کے گھروالوں سے ملنے سے روکا گیا ہوتا یا اگر اس وقت کی حکومت نربھیا کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش میں لگ گئی ہوتی تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ کیا نربھیا کے مجرم اپنے انجام کو پہنچ پاتے؟ لیکن بدقسمتی سے ہاتھرس معاملے میں ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے۔ گوکہ اپوزیشن اور میڈیا کے لوگوں کو مقتولہ کے گھر والوں سے ملنے کی اجازت دے دی گئی، مگر یہ اجازت چارو ناچار دی گئی ہے۔

اترپردیش کی اجے کمار بشٹ المعروف یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ابتداء میں اس جرم کے مرتکبین کو بچانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس نے اس کی ایف آئی آر تک لکھنے میں چار پانچ دنوں تک ٹال مٹول کی، مگر جب معاملہ سنگین رخ اختیار کرگیا تو بادل نخواستہ ایف آئی آر درج کرنی پڑی۔ لیکن اس ایف آئی آر کے باوجود یوگی حکومت اور پولیس کا تعاون ان ٹھاکر برادری کے ساتھ ہی رہا جو بی جے پی کے روایتی ووٹرس ہیں۔ یعنی کہ جرم کی سنگینی ایک طرف، یوگی جی کی پوری کوشش اپنے ووٹروں کو بچانی کی رہی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا بولگڈھی کے اطراف کے درجن بھر گاؤں والے اپنی پنچایت کے ذریعے علانیہ طور پر ملزمین کی حمایت کا اعلان کرسکتے تھے؟ ان گاؤں والوں کو یہ موقع یوگی جی نے اس طرح فراہم کیا کہ اپنی پولیس کے ذریعے یہ اعلان کروا دیا کہ متاثرہ کی عصمت دری ہوئی ہی نہیں۔ اس بنیاد پر ٹھاکر برادی کے لوگوں نے اسے اپنے خلاف سازش سمجھ لیا اور ملزمین کی حمایت کا اعلان کردیا۔ جبکہ یہ بات میڈیکل کی معمولی شدبد رکھنے والے کو بھی معلوم ہے کہ عصمت دری کے معاملے میں 72 گھنٹے کے اندر میڈیکل ایگزامنیشن کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ مقتولہ کا دوبارہ میڈیکل ایگزامنیشن کے امکان کو ختم کرنے کے لیے یوگی کی بہادر پولیس نے راتوں رات اس کے اہلِ خانہ کی عدم موجودگی میں لاش کو نذرِ آتش بھی کردیا۔ جبکہ والمیکی سماج کی یہ روایت ہے کہ ان کے یہاں غیرشادی شدہ لڑکی کو جلایا نہیں بلکہ دفنایا جاتا ہے۔ مگر پولیس نے اوپر کے احکام کی پاسداری میں اس کا بھی لحاظ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یوگی جی کی حکومت نے اسی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر اس واقعے کو عصمت دری کے بجائے آپسی رنجش قرار دینے کے لیے ایک پی آر ایجنسی تک کی خدمات حاصل کرلی، جس نے بی جے پی آئی ٹی سیل کی مدد سے متاثرہ و اس کے اہلِ خانہ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی انتھک کوشش کی۔ مگر خون پھر خون ہی ہوتا ہے جو اپنے قاتل کے گریبان سے ایسے چمٹ جاتا ہے کہ لاکھ کوشش کے باوجود پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یوگی جی کی اس پی آر ایجنسی کی کوششوں کا بھی یہی انجام ہوا کہ بجائے یوگی جی کے جنگل راج کے کوراَپ کرنے کے بجائے اس نے انہیں اور بھی اجاگر کردیا۔ یوگی کی پولیس نے متاثرہ خاندان کے نارکوٹسٹ کا اعلان کیا توخود یوگی جی کے نارکوٹسٹ کی مانگ اٹھنے لگی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یوگی جی کا نارکوٹسٹ کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اس واقعے کے ملزمین کو بچانے کے لیے کس طرح کے احکامات پولیس کو دیئے تھے۔

ہاتھرس کے اس دلدوز واقعے پر پردہ ڈالنے اور یوگی جی کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہیں، مقتولہ کا خون ان سب پردوں کو چاک کرکے ابل پڑ رہا ہے۔ اس کی لیپا پوتی کے لیے یوگی جی نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان کرکے بولگڈھی میں میڈیا ودیگر باہری لوگوں کو جانے سے روک دیا تھا۔ 2 اکتوبر کو گاؤں کے باہر تعینات پولیس والوں کا کہنا تھا کہ ایس آئی ٹی کے لوگ تفتیش کر رہے ہیں، اس گاؤں میں کسی کو بھی جانے پر پابندی ہے۔ مگر دوسرے روز یعنی کہ 3 اکتوبر کو ہی یہ بات میڈیا میں آگئی کہ ایس آئی ٹی کا کوئی رکن 2 اکتوبر کو گاؤں گیا ہی نہیں۔ پھر بتایا گیا کہ چونکہ گاؤں اور اس کے اطرف میں دفعہ 144 لاگو کر دی گئی ہے اس لیے کوئی بھی گاؤں میں نہیں جاسکتا، مگر راہل گاندھی نے یہ کہہ کر اس بہانے کی بھی ہوا نکال دی کہ وہ اکیلے ہی گاؤں جائیں گے۔ مگر ان کے اور ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کے ساتھ پولیس کی زیادتیوں نے ملک کو دکھادیا کہ یوگی جی اپنی مجرمانہ منصوبہ بندی کے بے نقاب ہونے سے روکنے کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں۔

ہاتھرس کے اس معاملے نے یہ بھی اجاگر کر دیا ہے کہ 8 سال قبل نربھیا کے معاملے میں بی جے پی کا احتجاج مقتولہ کو انصاف دلانا نہیں بلکہ حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ اسے معلوم ہے کہ ہاتھرس کے اس سانحے پر عوامی احتجاج اس کی مکروہ سیاست بے نقاب کردے گا۔ اسی لیے وہ اپنی زرخرید میڈیا کو بھی اس کے کوریج سے روک رہی ہے، اور اپوزیشن کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ مگر یوگی جی اپنے اہنکار میں یہ بھول گئے کہ وہ جس رام راجیہ کی بات کر رہے ہیں، اسی رام کا رامائن ایک والمیکی نے ہی لکھا تھا۔ آج جبکہ یوگی آدتیہ ناتھ اہنکار کے بلند چوٹی پر براجمان ہیں، والمیکی سماج کی ایک بیٹی نے اپنی جان دے کر ان کے اہنکار کے سنگھاسن کو ہلا دیا ہے۔

next