تعزیت نامہ: ٹھاکر جسونت سنگھ راٹھور کا سیاسی سفر... اعظم شہاب

لال کرشن اڈوانی کے بعد جسونت سنگھ دوسرے بڑے رہنما تھے جو سنگھ پریوار کی تنگ ذہنی کا شکار ہوئے۔ انہوں نے بی جے پی کے امیدوار کی بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے آخری الیکشن لڑنا زیادہ مناسب سمجھا۔

جسونت سنگھ، تصویر سوشل میڈیا
جسونت سنگھ، تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

وزیر اعظم نریندر مودی کی مدت کار معروف سیاسی رہنماوں کی اموات کے لیے بھی یاد کی جائے گی۔ اس فہرست میں سابق صدر مملکت پرنب مکھرجی کے بعد تازہ اضافہ سابق مرکزی وزیر جسونت سنگھ کا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی ارتھی کو وزیر اعظم مودی کندھا دے چکے ہیں جن کی کابینہ میں جسونت سنگھ نے وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کے اہم عہدوں کو سنبھالا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو جس طرح کا غیر متزلزل اعتماد ارون جیٹلی پر تھا اسی طرح کا بھروسہ آنجہانی جسونت سنگھ پر اٹل بہاری واجپئی کیا کرتے تھے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ارون جیٹلی کو وزیر دفاع کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ بنایا گیا اور ان کا بھی پچھلے سال انتقال ہو گیا۔ اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی دبئی میں دورے پر تھے۔ انہوں نے میت میں شرکت کے لیے دہلی آنے کی زحمت نہیں کی حالانکہ ائیر انڈیا کا مہاراجہ ان کی خدمت میں موجود تھا اور دہلی صرف 3 گھنٹے کے فاصلے پر تھی۔ اس وقت سیاسی دنیا کی دوستی کی ناپائیداری کا ایک نمونہ ساری دنیا کے سامنے آگیا تھا۔

وزیر اعظم کے دو اور ساتھی سابق وزیر خارجہ سشما سوراج اور سابق وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پھر سے وزیر اعلیٰ بنائے جانے والے منوہر پریکر بھی انہیں داغ، مفارقت دے گئے اور ابھی حال ہی میں مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے سریش انگاڈی کا کورونا سے انتقال ہوگیا۔ اتنے سارے ساتھیوں گنوانے والا شاید ہی کوئی وزیر اعظم ہندوستانی تاریخ میں گزرا ہو۔ ایسے میں 82 سال کے سابق وزیر جسونت سنگھ کا انتقال شاید ان کے لیے کوئی بہت بڑی بات نہ ہو جو پچھلے 6 برسوں سے بیمار تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 7 اگست 2014 کو جسونت سنگھ حمام میں گر گئے تھے اور اس دوران ان کے سر پر سنگین چوٹ آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں علاج کے لئے دہلی میں فوج کے ریسرچ اور ریفرل اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ تب سے وہ کوما کی حالت میں تھے۔ ایک گمنامی اور کسمپرسی کے عالم میں ایک اتنے بڑے سیاسی رہنما کی موت دنیا کی بے ثباتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جسونت سنگھ کے انتقال پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرنے والے ٹوئٹ میں لکھا کہ 'جسونت جی نے ہمارے ملک کی خدمت پوری محنت سے کی، پہلے ایک فوجی کے طور پر اور بعد میں سیاست کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کے دوران۔ اٹل جی کی حکومت میں انہوں نے اہم محکموں کو سنبھالا اور مالیات، دفاع اور خارجی امور میں ایک مضبوط چھاپ چھوڑی۔ ان کے انتقال سے دکھی ہوں'۔ یہ مختصر تعزیت جسونت سنگھ کی سیاسی و سماجی زندگی کا احاطہ نہیں کرتی۔ راجستھان کے باڑمیر ضلع کے جسول گاوں میں ٹھاکر سردار سنگھ راٹھور کے یہاں جسونت نامی بچے کا جنم ہوا۔ راجپوت خون انہیں فوج میں لے گیا لیکن 1960 میں وہ اختیاری سبکدوشی لے کر سماجی خدمت کی دنیا میں آگئے۔ جسونت سنگھ روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے۔ ان کے پاس چونکہ دولت کی فراوانی تھی اس لیے ان پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں لگا۔ جسونت سنگھ کی ایک خوبی یہ تھی کہ انہوں نے سنگھ کی شاکھا میں آنکھ نہیں کھولی۔ ان کا فکری ارتقاء آزادانہ ماحول میں ہوا اس کے باوجود ان کا وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور وزیردفاع کے عہدوں پر فائز ہوجانا، ان کی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

جسونت سنگھ موجودہ سیاستدانوں کی مانند صرف جوڑ توڑ کے چانکیہ نہیں تھے جنہیں انتخابات جیتنے کے علاوہ کسی اور کام میں نہ تو دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی مہارت۔ جسونت سنگھ کو ان کے گہرے مطالعہ اور وسیع علم و فضل کے سبب پلاننگ کمیشن کا چیرمین بھی بنایا گیا۔ انہیں بہترین رکن پارلیمان کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ امریکہ، روس اور پاکستان سے بہترین تعلقات استوار کرکے انہوں نے خوب ناموری جٹائی لیکن اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ تنازعات کے لیے بھی یاد رکھے جائیں گے۔ائیر انڈیا کے اغواء شدہ جہاز کے مسافروں کی رہائی کے لیے انہوں نے مولانا مسعود اظہر کو اپنے ساتھ لے کر قندھار کا سفر کیا۔ بہت سارے لوگوں نے ان کے طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے پر تنقید کی کیونکہ بعد میں افغانستان کا اقتدار بدل گیا۔ لیکن اب تو امریکہ نے بھی طالبان سے تعلقات استوار کرلیے ہیں اور آگے حکومتِ ہند کے لیے بھی اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ 'جسونت جی کو سیاست اور سماج کے معاملوں پر ان کے منفرد نقطہ نظر کے لئے یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی کو مضبوط بنانے میں اپنا اہم تعاون دیا'۔ اس بیان میں جس منفرد نقطۂ نظر کا ذکر کیا گیا ہے اس کا اظہار جسونت سنگھ نے تقسیم ہند کے نازک موضوع پر بیباکانہ کتاب لکھ کر کیا۔ انہوں نے قیام پاکستان کی ذمہ داری محمدعلی جناح کے بجائے پنڈت نہرو پر ڈالی اور قائد اعظم کی دل کھول کر تعریف کرنے کی بھی جرات رندانہ کر ڈالی۔ ابھی تو وزیر اعظم ان کی تعریف کر رہے ہیں، لیکن اس وقت انہیں اس جرم میں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ لال کرشن اڈوانی کے بعد جسونت سنگھ دوسرے بڑے رہنما تھے جو سنگھ پریوار کی تنگ ذہنی کا شکار ہوئے۔ اس کے جواب میں جسونت سنگھ نے بھی اپنی واپسی کے تمام امکانات کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا ہم راجپوت اپنی انا کو ناک سے ایک بالشت آگے رکھتے ہیں۔ مگر ایک سال بعد پارٹی نے ناک رگڑ کر انہیں پھر سے بھرتی کرلیا اور وہ بھی اپنی انا کو بھول کرواپس آگئے۔ دوسال بعد انہیں نائب صدر کا امیدوار بنایا گیا، لیکن حامد انصاری نے ان کو شکست سے دوچار کردیا۔

آج پردھان سیوک جی جسونت سنگھ کے سانحہ ارتحال پر آنسو بہا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ کہ ان کا عروج اور جسونت سنگھ کا زوال ایک ساتھ ہوا۔ 2014 میں جب انتخابات کا اعلان ہوا تو بی جے پی نے جسونت کی کرم بھومی باڑمیر سے کسی اور کو ٹکٹ دے کر انہیں بڑودہ سے انتخاب لڑنے کا پابند کیا۔ جسونت سنگھ نے محسوس کیا کہ ان کی شہرت کسی اور کی جھولی میں ڈال کر انہیں غیروں کے ٹکڑوں کا محتاج بنایا جا رہا ہے۔ راجپوت خون نے اس اہانت آمیز سلوک کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا، لیکن نتائج نے ثابت کردیا کہ ان کی محنت پر کسی اور کا قبضہ مکمل ہوچکا تھا۔ وہ بی جے پی کے خلاف ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنا آخری انتخاب ہار گئے۔ اس ناکامی کے تین ماہ بعد وہ ٹھوکر کھاکر گرے اور کوما میں چلے گئے۔ اس سانحہ کے بعد 6 سال وہ زندگی سے جنگ لڑتے رہے اور بالآخر اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ دیا۔ جسونت سنگھ کی زندگی میں ان لوگوں کے لیے ایک نشانِ عبرت ہے جو اقتدار کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اسی کے لیے جییتے اور مرتے ہیں۔ جسونت سنگھ کی موت پر فانی بدایونی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

فانی غم ہستی نے زندہ ہی مجھے سمجھا

جب تک میرے مرنے میں تاخیر نظرآئی

next