ڈٹینشن سینٹر، غازی آباد سے جدہ تک... اعظم شہاب

یہ عجب اتفاق ہے کہ ہندوستان سے باہر بھیجنے کے لیے حراستی کیمپ بنانے سے قبل باہر کے ممالک میں موجود ہندوستانی حراستی کیمپوں میں پہنچ گئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستانی سیاست کے بازی گر ہیں کیونکہ وہ اپنے بیان اور اقدام سے عوام کو چونکا دیتے ہیں اور جادوگر یہی کرتا ہے۔ وہ کبھی موڈ میں آتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ’اچھے دن آنے ہی والے ہیں‘ اور جب موڈ خراب ہوتا ہے تو اچانک ’نوٹ بندی کا فرمان‘ جاری فرما دیتے ہیں۔ ہر دو صورت میں عوام حیران و پریشان ہو جاتے ہیں۔ دہلی کی انتخابی مہم کے دوران پچھلے سال دسمبر میں انہوں نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ 2014 سے این آر سی پر کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق، اس کا اطلاق سپریم کورٹ کے حکم پر آسام میں ہوا تھا اور آسام کے باہر اسے نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ مودی جی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ کانگریس اور اس کے ’شہری نکسل ساتھی‘ این آر سی پر ملک کے مسلمانوں کو ’ڈٹینشن سینٹر‘ (حراستی مرکز) کا خوف دکھا رہے ہیں، جب کہ ان کی حکومت کے قیام کے بعد آج تک کبھی بھی این آر سی کے لفظ پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حراستی مرکز بھیجنا تو دور کی بات ہے، ملک میں تو کوئی حراستی مرکز ہی نہیں ہیں۔

مودی اور یوگی کا معاملہ ’تم ڈال ڈال تو ہم پات پات‘ کا سا ہے۔ وزیر اعظم کے مذکورہ بیان سے تین ماہ قبل 16 ستمبر کو یوگی جی نے کہا تھا، ’’ان چیزوں کو مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جب اتر پردیش کو این آر سی کی ضرورت ہوگی تو ہم وہ کریں گے۔ پہلے مرحلے میں یہ آسام میں ہوا ہے اور جس طرح سے اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے، وہ ہمارے لئے مثال بن سکتا ہے۔‘‘ ایک سال کے بعد یوگی جی نے یہ ضرورت محسوس کرلی اور پچھلے ہفتے یہ اعلان فرما دیا کہ اتر پردیش کا پہلا ڈٹینشن سینٹر اب پوری طرح تیار ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک خط بھیج کر اس سینٹر کو شروع کرنے کی اجازت طلب کی، تاکہ اس میں ان ’غیر ملکیوں‘ کو رکھا جائے گا، جنہیں واپس ان کے وطن بھیجنا ہو۔ اس کارِ خیر کے لیے یوگی سرکار نے راجدھانی نئی دہلی سے متصل غازی آباد میں واقع ایس سی؍ ایس ٹی امبیڈکر ہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر کے طور پر تبدیل کردیا ہے۔ یوگی سرکار کے مطابق اس سینٹر میں وہ ’غیر ملکی‘ بھی ہوں گے جو ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہوں گے اور انہیں ’ان کے وطن‘ واپس بھیجنا ہوگا۔ 100؍افراد کی اس اوپن جیل میں تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور وہاں رہنے والوں کے لئے چند شرائط، ہدایات، اصول و ضوابط بھی ہوں گے۔

یوگی سرکار کے اس ’مدبرانہ‘ فیصلے میں ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ غازی آباد کے نند گرام میں بی ایس پی نے ایس اسی ؍ایس ٹی طلباء کے لیے امبیڈکر ہاسٹل تعمیر کیا تھا مگر ایس پی یا بی جے پی نے ا سے بند ہی رکھا۔ بی ایس پی کی مایاوتی کو بھی چونکہ طلباء کی فلاح وبہبود میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے وہ خاموش رہیں۔ اب جبکہ یوگی سرکار نے اسے ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، مایاوتی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو دلت مخالف پالیسی قرار دے کر دوبارہ اس عمارت کو ہاسٹل بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ اپنے آپ کو باہوبلی سمجھنے والے یوگی مہاراج کے ہوش ٹھکانے آگئے اور انہوں نے بھی اپنے گرو مودی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے این آر سی کے ڈٹینشن سینٹر(حراستی مرکز ) کے قیام معاملے میں یو ٹرن لے لیا۔ حکومت نے غازی آباد کے نندگرام میں واقع ایس سی ؍ایس ٹی طلبہ ہاسٹلز کو اب ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ڈراپ کردیا ہے یعنی اب این سی آرغازی آباد میں ریاست کا پہلا ڈٹینشن سینٹر قائم نہیں ہوگا۔ ضلع مجسٹریٹ اجے شنکر پانڈے نےحکومت کی ہدایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نندگرام میں واقع امبیڈکر ایس سی؍ایس ٹی ہاسٹلز کو اب ڈٹینشن سینٹر کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔

کورونا بحران کے دوران اتر پردیش کی حکومت حراستی کیمپ بنانے کے لیے پریشان ہیں لیکن اس بابت ایک چونکانے والی خبر جدہ سے آگئی۔ بے روزگاری کے حوالے سے فی الحال سعودی عرب کے حالات بھی خراب ہیں اور وہاں برسرروزگار کئی ہندوستانی کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں کام نہیں ہونے کی وجہ سے سینکڑوں ہندوستانی مزدور بھیک مانگنے کے لیے مجبور ہوگئے۔ سعودی عرب میں چونکہ بھیک مانگنے پر پابندی ہے اس لیے تقریباً 450 مزدوروں کو سعودی انتظامیہ نے گرفتار کر ڈٹینشن سنٹر میں ڈال دیا۔ سعودی انتظامیہ نے جن مزدوروں کو ڈٹینشن سنٹر میں ڈالا ہے ان میں سے بیشتر کا ورک پرمٹ ختم ہو چکا ہے۔ وہاں بند ہندوستانی مزدوروں میں سے زیادہ تر کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ سوئے اتفاق سے ڈٹینشن سنٹر بھیجے گئے مزدوروں میں سب سے زیادہ 39 کا تعلق اتر پردیش سے ہے، 10 بہار، 5 تلنگانہ، 4-4 مہاراشٹر، جموں و کشمیر، کرناٹک اور 1 آندھرا پردیش سے ہے۔

یہ سبھی مزدور کافی مایوس ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو وائرل کرکے اپنی حالت زار دنیا تک پہنچائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت چلی جانے کے بعد پیدا حالات کے سبب انھیں بھیک مانگنی پڑی اور یہی ان کا جرم ہے۔ ہندوستانی مزدوروں نے یہ سنگین الزام لگایا ہے کہ انڈونیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ کے افسران نے اپنے مزدوروں کی مدد کی اور انھیں وہاں سے نکال لیا، لیکن ہندوستانی وہیں پھنسے رہے۔ حکومت ہند نے وندے بھارت کے نام سے جو نوٹنکی کی اس کا فائدہ صرف وہی اٹھا پائے جن کے اندر مہنگے ہوائی ٹکٹ خریدنے کی سکت تھی۔ جن کے پاس اس کا پیسہ نہیں تھا ان کے اچھے دن نہیں آئے۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ہندوستان سے باہر بھیجنے کے لیے حراستی کیمپ بنانے سے قبل باہر کے ممالک میں ہندوستانی حراستی کیمپوں میں پہنچ گئے۔ اب اگر یوگی سرکار ان کو جدہ سے بلا کر عارضی طور پر ان ہاسٹلس میں رکھ دے جو پچھلے 9 سال سے خالی پڑے ہیں تو شاید مایاوتی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا اور مزدور ان دونوں کو دعا دیں گے۔ لیکن کیا مودی سرکار ان کو اپنے وطن واپس لائے گی؟ اس لیے وہ بیچارے نہ تو افغانی غیر مسلم ہیں اور نہ پاکستانی۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے بھی نہیں ہے بلکہ ہندوستانی ہیں اس لیے ان کو سی اے اے کا فائدہ بھی نہیں ملے گا۔

next