منی پور کو سمجھنا کیوں نہیں آسان!... نندیتا ہکسر
منی پور میں بھلے ہی نئی حکومت آ گئی ہو، حکومت ہند اور انٹلیجنس ایجنسیوں کی سالوں سے چلی آ رہی ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی نے یہ پختہ کر دیا ہے کہ منی پور کے لڑنے والے گروپوں میں کوئی اتحاد نہ ہو

کوکی-زو بی جے پی رکن اسمبلی نیمچا کپگین کے منی پور کی نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے ایک دن بعد 5 فروری کو ریاست کے چوراچندپور اور توئیبونگ میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ کوکی-زو برادری کے کئی افراد نے اسے کسی تحریری سیاسی معاہدے کے بغیر حکومت سے باہر رہنے کے اجتماعی فیصلے سے غداری قرار دیا۔ کوکی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے 6 فروری کو 24 گھنٹے کے بند کی اپیل کی اور آئندہ بھی احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔
جو لوگ منی پور کی ثقافتی باریکیوں سے واقف نہیں ہیں، وہ 4 فروری کو امپھال راج بھون میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں پوشیدہ علامتوں کو شاید نہ سمجھ پائے ہوں۔ یمنام کھیم چند سنگھ نے منی پور کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا، جبکہ کپگین اور لوسی دکھو نے نائب وزرائے اعلیٰ کے طور پر۔ سنگھ میتئی ہیں، کپگین کُکی-زو برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں اور دکھو ماؤ ناگا ہیں۔ یہ شناخت کی سیاست کی تازہ مثال ہے، جسے کسی مستقبل پسندانہ سوچ کے بغیر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ سوچ ایسی ہونی چاہیے تھی جو طویل عرصہ سے جاری تشدد کی گرہوں کو کھول سکے۔ لیکن 3 بڑی برادریوں سے ایک وزیر اعلیٰ اور 2 نائب وزرائے اعلیٰ کی تقرری کوئی حل نہیں، کیونکہ منی پور میں مسئلہ محض نسلی تصادم سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
جب 2023 میں منی پور سرخیوں میں تھا، تب بیشتر ہندوستانی اس ریاست، اس کے جغرافیے اور آبادی کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ اس کی صدیوں پر محیط پیچیدہ تاریخ کے بارے میں تو بالکل نہیں۔ میڈیا نے اس تصادم کو میتئی اور کوکی-زو کے درمیان نسلی جھگڑے یا پھر پہاڑی قبائل اور میدانی علاقوں کے لوگوں کے درمیان تنازع کے طور پر پیش کیا۔ ایک حد تک یہ درست تھا، کیونکہ بیشتر میتئی وادیٔ امپھال میں رہتے ہیں، جبکہ کوکی-زو قبائلی برادریاں آس پاس کی پہاڑیوں میں آباد ہیں۔ تصادم کی فوری وجہ کوکی-زو اور ناگا (دونوں قبائل) کی طرف سے میتئی برادری کو درج فہرست قبائل کے زمرے میں شامل کیے جانے پر اعتراض تھا۔ تاہم یہ سادہ سی کہانی تصادم کے ابتدائی چند دنوں میں ہی غلط ثابت ہو گئی۔ تشدد کے پہلے 3 دنوں میں وادی میں 300 سے زائد میتئی گرجا گھروں کو خود میتئی انتہا پسند گروہوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے ہندوستان کے بنی مناشے برادری کے بحران میں ہونے کی خبریں شائع کی۔ ’شاوی اسرائیل‘ ایک این جی او ہے جو یہودی برادریوں کے ’گمشدہ قبائل‘ کو اسرائیل واپس آنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے مطابق بنی مناشے قبیلے کے ایک ہزار سے زائد افراد، جو ان کی کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، تشدد کے باعث بے گھر ہو گئے۔ برادری کے ایک رکن کی موت ہو گئی، ایک کو سینے میں گولی لگی اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اسرائیل سے موصول رپورٹس کے مطابق 2 سینیگوگ اور ایک مکواہ (مذہبی غسل خانہ) جلا دیے گئے۔ اگر یہ تصادم واقعی میتئی اور کوکی-زو برادریوں کے درمیان ہوتا، تو میتئی انتہا پسند گروہوں نے میتئی خاتون پولیس افسر (تھوناؤجم برندا) پر حملہ کیوں کیا، جس نے ریاست میں نارکو ٹیررزم کے روابط کو بے نقاب کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ اس غیر قانونی تجارت کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے؟
یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ میڈیا رپورٹس میں کوکیوں کو اپنے ہی ملک میں مہاجر کیوں بتایا جانے لگا۔ بعض صحافیوں نے الگ الگ واقعات پر توجہ مرکوز کی۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہر ایک واقعہ ہولناک تھا، لیکن کوئی بھی ایک واقعہ اس تصادم کی اصل نوعیت اور اس کے اسباب کو واضح نہیں کر سکتا تھا۔ اب جبکہ منی پور سرخیوں سے باہر ہو چکا ہے، لوگ بڑی حد تک اسے بھول گئے ہیں۔ تاہم منی پور میں رہنے والے لوگ آج بھی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ مئی 2023 کے تصادم کے دوران سب سے زیادہ نقصان کوکی-زو برادری کو ہوا، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی ایک برادری کو ’معصوم متاثرہ‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قبل میں ریاست میں تشدد ہندوستانی سکیورٹی فورسز (جن میں فوج بھی شامل تھی) اور مقامی عسکریت پسند گروہوں کے درمیان ہوتا تھا۔ آج عسکریت پسند گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور ہندوستانی مسلح افواج سے بھی۔ ریاست میں بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود آ رہا ہے، جس سے تشدد معمول کی بات بن چکا ہے۔ سیاسی پارٹیوں، مسلح گروہوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کو منی پور میں شناخت کی سیاست کو حل کے طور پر دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔ ہر شناخت کو عملی اور علامتی طور پر ایک ہتھیار کی شکل میں استعمال کیا گیا ہے۔ حالات اس لیے بھی سنگین ہو گئے ہیں کہ اسے مسلح گروہوں کی حمایت حاصل ہے، جو نہ صرف جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں بلکہ انہیں استعمال کرنے میں بھی کوئی جھجک نہیں رکھتے۔ شناخت کی سیاست انتظامیہ میں بھی سرایت کر چکی ہے، جس کی مثال آسام رائفلز اور منی پور پولیس کے درمیان تنازع سے ملتی ہے۔
منی پور میں سرگرم مسلح گروہوں کی درست تعداد کا تعین مشکل ہے، لیکن حالیہ رپورٹس میں 5 سے 10 بڑے گروہوں کا ذکر ہے، جن میں یونائٹیڈ نیشنل لبریشن فرنٹ، پیپلز لبریشن آرمی، کانگلی پاک کمیونسٹ پارٹی، کانگلی یاوول کانبا لوپ اور پیپلز ریولیوشنری پارٹی آف کانگلی پاک شامل ہیں۔ یہ گروہ 2023 کے تشدد کے بعد مزید فعال ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ارامبائی تنگول اور میتئی لیپون جیسے گروہ بھی ہیں۔ مزید برآں، تقریباً 30 کوکی مسلح گروہ ہیں، جن میں کوکی نیشنل آرمی، زومی ریولیوشنری فرنٹ اور چن کوکی ریولیوشنری فرنٹ شامل ہیں۔
صورت حال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے منی پور میں شورش سے نمٹنے میں انٹلیجنس ایجنسیوں کا کلیدی کردار۔ ان کے کام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں شفافیت کی یہ کمی نہایت سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک رپورٹ (جو مبینہ طور پر لیک شدہ انٹلیجنس پر مبنی تھی) میں کہا گیا کہ ’ڈرون پر مبنی بم، پروجیکٹائل، میزائل اور جنگلاتی جنگ کی تربیت یافتہ 900 سے زائد کوکی عسکریت پسند میانمار سے منی پور میں داخل ہو گئے ہیں۔‘
16 ستمبر 2024 کا ایک نوٹ منی پور کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو بھیجا گیا تھا اور جس پر وزیر اعلیٰ کے سکریٹری ننگتھاؤجم جیفری کے دستخط تھے، لیک ہو گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ ابتدا میں حکام نے لیک ہونے کی تصدیق کی، لیکن بعد میں اس کی صداقت سے انکار کر دیا۔ اس سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ کسی بڑی سازش کا حصہ تھا۔ یہ محض ایک مثال ہے کہ کس طرح خبر کا لیک ہونا، پھر اس کی تردید اور غیر یقینی کی فضا میں قابل اعتماد معلومات کی عدم موجودگی ایسے خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتی ہے جسے طویل عرصے سے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا گڑھ بتایا جاتا رہا ہے۔ مزید ایک وجہ یہ ہے کہ منی پور شمال مشرق میں واقع ہے، جو اسے جغرافیائی و سیاسی اعتبار سے حساس بناتا ہے۔ میانمار، چین اور بنگلہ دیش میں ہونے والی پیش رفت کا ریاست پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اگرچہ منی پور کی سرحد بنگلہ دیش سے نہیں ملتی، لیکن وہاں کی ہر علاقائی بے چینی یہاں کی صورتِ حال کو مزید خراب کرتی ہے۔
کچھ مسلح منی پوری گروہوں کے رہنماؤں نے چین میں پناہ لے رکھی ہے۔ نتیجتاً چین-میانمار سرحد کے قریب غیر قانونی منڈیوں سے منی پور کے باغیوں کو اسلحہ فراہم ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ’2025 کے آغاز سے میانمار نے چینی سکیورٹی کمپنیوں کو اپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس سے چین کی جانب سے ہندوستانی سرحدوں کی نگرانی، باغی گروہوں کی مدد اور منی پور سمیت پڑوسی ریاستوں میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ تاریخی رپورٹس میانمار کے کاچن باغیوں جیسے گروہوں کے ذریعے شمال مشرق میں سرگرم عسکریت پسندوں کو چینی امداد کی تصدیق کرتی ہیں۔‘
پھر آتا ہے مادر وطن سے جڑا تنازعہ۔ کوکی مسلح گروہ ایسے نقشے بناتے ہیں جن میں ناگا آبادی والے وسیع علاقے شامل ہوتے ہیں، جس سے ناگا برہم ہوتے ہیں۔ میتئی ایسے ریاستی تصور کو فروغ دیتے ہیں جس میں پہاڑی علاقے شامل ہوں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ماضی میں ناگاؤں پر حکمرانی کی تھی، یہ بھی ناگاؤں کے غصے کی ایک وجہ ہے، جبکہ ناگاؤں کا کوکیوں کو ’مہاجر‘ کہنا دونوں برادریوں کے درمیان جھڑپوں کی بڑی وجہ ہے۔ ’ماینگ‘ برادری، یعنی مارواڑی جیسے غیر منگول باشندے جو دہائیوں سے منی پور میں مقیم ہیں، ان تمام خیالی مادر وطن کے تصورات سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ انہیں کسی میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ اور منی پور کے مسلمان؟ ان کا بھی اپنا ایک خیالی مادر وطن ہے۔
ہندوستانی حکومت اور انٹلیجنس ایجنسیوں کی برسوں پر محیط ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ ان گروہوں کے درمیان کوئی یکجہتی نہ ہو۔ ان کے باہمی جھگڑے پہلے بھی ہوتے تھے، لیکن آج جس نوعیت کے جان لیوا حالات ہیں، وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔