فیس بُک کا ’بی جے پی کنکشن‘ کیا گل کھلائے گا؟... سہیل انجم

بہر حال بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے ششی تھرور کو ہٹانے کے مطالبے اور اس پورے معاملے کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اسے چور کی داڑھی میں تنکا بھی کہا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ جس نے اس پر اثر ڈال دیا اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ جس نے اسے نظرانداز کیا شکست اس کا مقدر بن گئی۔ نریندرمودی نے اسی وقت سوشل میڈیا کی اہمیت پہچان لی تھی جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انھوں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات کے اسمبلی الیکشن میں سوشل میڈیا کا جم کر استعمال کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں انھیں شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ لہٰذا جب 2014 کے پارلیمانی انتخابات کا بگل بجا اور نریند رمودی کو بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دے دیا گیا تو انھوں نے اپنے سابقہ تجربات سے فائدہ اٹھایا اور اس بار کہیں بڑے پیمانے پر الیکشن میں سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔

وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے بعد انھوں نے کیلی فورنیا کے ایک دورے میں فیس بُک کے بانی اور سی ای او مارک زوکربرگ سے ملاقات کی اور ان سے والہانہ انداز میں گفتگو کی۔ مارک زوکربرگ ایک انتہائی کامیاب بزنس مین ہیں اور مودی بھی چھوٹے بزنس مین نہیں ہیں۔ وہ گجراتی ہیں اور بزنس گجراتیوں کی نس نس میں رواں رہتا ہے۔ بعض سیاسی مشاہدین نے اسی وقت یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی فیس بک سے بہت کچھ فائدہ اٹھانے والی ہے۔ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کی اہمیت بہت بعد میں سمجھی۔ اس وقت تک بی جے پی اور اس کے آئی ٹی سیل نے سوشل میڈیا پر اپنے پنجے گاڑ دیئے تھے۔

سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ افراد نے اپنی سیاست اور اپنے نظریات کے فروغ کے لیے فیس بک کا جم کر استعمال کیا۔ بے روزگار نوجوانوں کی ایک ٹرول برگیڈ بنائی گئی جو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے علاوہ فیس بک پر بھی زبردست انداز میں سرگرم رہتی ہے۔ خود بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی بھی فیس بک کا جم کر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس طرف کسی کی نظر اس وقت تک نہیں گئی جب تک کہ امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ نہیں شائع کر دی۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہندوستان میں فیس بک کی پبلک پالیسی ڈائرکٹر انکھی داس نے بی جے پی رہنماؤں کی نفرت انگیز پوسٹس کو ہٹانے سے انکار کیا اور انھوں نے اس کی دلیل یہ دی کہ اگر ہم نریندر مودی کی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کریں گے تو ہندوستان میں کمپنی کے مفادات پر اثر پڑے گا۔ ہندوستان فیس بک کے لیے ایک بہت بڑا بازار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ہندوستان میں فیس بک صارفین کی تعداد 346 ملین ہے اور یہ تعداد 2023 میں 444 ملین ہونے جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان صارفین میں ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو سنگھ پریوار سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا بی جے پی لیڈروں کے نفرت انگیز بیانات کو فیس بک سے ہٹانے کے لیے اس سلسلے میں وضع کردہ قوانین کو نافذ نہیں کیا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے تلنگانہ سے بی جے پی کے واحد ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کی مثال پیش کی اور کہا کہ ان کا بیان مسلمانوں کے خلاف اور نفرت انگیز تھا اور تشدد کو ہوا دینے والا تھا لیکن فیس بک سے اسے ہٹانے سے انکار کیا گیا۔ ٹی راجہ سنگھ کی جس پوسٹ کا حوالہ دیا گیا ہے اس پر کئی صحافیوں نے مضمون قلمبند کیا تھا لیکن اس کا بھی فیس بک پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ کمپنی کے ایک اندرونی ذریعے نے امریکی اخبار کو بتایا کہ انکھی داس نے بی جے پی اور ہندوتوا برگیڈ کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔

جب بی جے پی لیڈروں نے لو جہاد سے متعلق اشتعال انگیز بیانات فیس بک پر پوسٹ کیے تو ان کو بھی نہیں ہٹایا گیا اور جب مسلمانوں کو کرونا پھیلانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانے لگا تو ایسی پوسٹس کو بھی فیس بک پر باقی رہنے دیا گیا۔ جبکہ دوسری پارٹیوں کی اس قسم کی پوسٹس کو ہٹا دیا جاتا تھا۔ مذکورہ ذریعے نے اخبار کو یہ بھی بتایا کہ الیکشن کے دوران انکھی داس نے اپنے عمل سے بی جے پی کی حمایت کی۔ بی جے پی ایم پی اننت ہیگڑے مسلمانوں کے خلاف زہریلے بیانات دینے کے لیے بدنام ہیں۔ ان کے بیانات بھی ڈلیٹ نہیں کیے گئے۔

حالانکہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد فیس بک نے وضاحت کی ہے کہ اس کی پالیسی سب کے لیے برابر ہے اور اس پلیٹ فارم پر کسی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ فیس بک اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں کسی کی سیاسی وابستگی یا اس کی پوزیشن کا لحاظ نہیں کرتا۔ دراصل یہ ایک لولا لنگڑا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد بی جے پی کے بعض لیڈروں کے بیانات فیس بک سے ڈلیٹ کیے گئے۔

خیال رہے کہ انکھی داس اور رشمی داس دو جڑواں بہنیں ہیں۔ رشمی داس انکھی داس سے دو منٹ بڑی ہیں۔ اس تنازعے کے منظر عام پر آنے کے بعد جہاں فیس بک کی جانب سے وضاحت کی گئی وہیں رشمی داس نے یہ انکشاف کیا کہ ان کا تعلق بی جے پی کی طلبہ شاخ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے رہا ہے اور انھوں نے اپنا یہ تعلق کبھی نہیں چھپایا۔ دونوں بہنیں جے این یو کی تعلیم یافتہ ہیں۔ اسی درمیان ایک خبر آئی کہ انکھی داس نے اے بی وی پی سے وابستہ ایک تنظیم کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اس کی تردید اے بی وی پی نے بھی کی ہے اور رشمی داس نے بھی جو کہ ایک میڈیا ادارہ چلاتی ہیں۔ رشمی داس کے اس انکشاف کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انکھی داس نے یقیناً بی جے پی کی حمایت کی ہوگی اور ہیٹ اسپیچ سے متعلق پالیسی کو بی جے پی لیڈروں کے بیانات کے خلاف استعمال نہیں کیا ہوگا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کا بی جے پی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے امریکی اخبار کی رپورٹ پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے کیمبرج انالیٹکا کا ذکر کیا اور کہا کہ الیکشن کے دوران کانگریس نے اس کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھایا تھا۔ حالانکہ کانگریس نے اسی وقت اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی جب یہ الزام لگایا گیا تھا۔ لیکن روی شنکر پرساد وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔ بلکہ اس کے برعکس میڈیا میں روی شنکر پرساد اور انکھی داس کی ایک ساتھ تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔

سینئر کانگریس رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمنٹ کی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے فیس بک کے ذمہ داروں کو دو ستمبر کو طلب کیا ہے تاکہ ان سے سوال جواب کیا جا سکے اور مذکورہ الزام پر ان کا موقف جانا جا سکے۔ ان کے اس قدم پر فیس بک کی جانب سے ایک بار پھر صفائی پیش کی گئی ہے لیکن بی جے پی کے کچھ لیڈروں کو اس سے کافی پریشانی محسوس ہو رہی ہے۔ اسی لیے انھوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے نام ایک مکتوب لکھ کر ششی تھرور کو چیئرمین شپ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ششی تھرور نے اس سلسلے میں بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کے خلاف تحریک مراعات کا نوٹس دیا ہے۔

بہر حال بی جے پی کے لیڈروں کی جانب سے ششی تھرور کو ہٹانے کے مطالبے اور اس پورے معاملے کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اسے چور کی داڑھی میں تنکا بھی کہا جا سکتا ہے۔

Published: 23 Aug 2020, 9:59 PM
next