’گھرمیں نہیں کھانے کو، امّاں چلیں بھنانے کو‘

یہ بات تسلیم کرنے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہونی چاہیے کہ مودی حکومت ملک کی گرتی معیشت کو نہ سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسا کوئی تجربہ کار ہے جو اسے سنبھال سکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

یہ کہاوت تو آپ سنی ہی ہوگی کہ ’گھر میں نہیں کھانے کو اور اماں چلیں بھنانے کو‘۔ آج کل مرکز کی مودی حکومت اسی کہاوت کا عملی نمونہ بنی ہوئی۔ ملک پانچویں معاشی درجے سے کھسک کر ساتویں پائیدان پر پہنچ چکا ہے، بیروزگاری نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، نچلے کاروباریوں سے لے کر آٹوموبائیل سیکٹر تک تاریخی خسارے سے جوجھ رہے ہیں، بینکوں کا این پی اے بڑھتا جارہا ہے، ریزور بینک کے محفوظے تک کو نکالنے کی نوبت آن پڑی ہے، جی ڈی پی سنبھالے نہیں سنبھل رہی ہے اور پردھان سیوک جی ملک کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ معلوم نہیں کس ناہنجار نے مودی حکومت کو یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ ملک کی موجودہ معاشی بدحالی کو ماہرین کی مدد سے دور کرنے کی کوشش نہ کرے وگرنہ اس کی حکومت خطرے میں پڑجائے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھکمری کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ملک میں ہندو مسلمان، انڈیا پاکستان، مودی کو ایوارڈ و کشمیر، این آر سی و بابری مسجد جیسے موضوعات پر گودی میڈیا معاف کیجئے گا قومی میڈیا پر خوب دھڑلے سے بحثیں ہو رہی ہیں اور جب ملک کی معیشت کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ سب کچھ بہتر ہے۔

سوشل میڈیا پر تو گری ہوئی جی ڈی پی کو کچھ اس انداز میں پیش کیا جارہا ہے
سوشل میڈیا پر تو گری ہوئی جی ڈی پی کو کچھ اس انداز میں پیش کیا جارہا ہے

سمجھ میں نہیں آتا کہ یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے سے دہاڑتے ہوئے مہاشے جی نے ملک کو 5 ٹریلین ڈالراکونامی بنانے کا وعدہ کیا تھا یا جی ڈی پی کو 5 پر لانے کا۔ کیونکہ 5 ٹریلین ڈالر اکونامی کا تو کچھ پتہ نہیں ہے، البتہ جی ڈی پی 5 تک ضرور پہنچ چکی ہے۔ اوریہ بھی کہ جو 5 فیصد جی ڈی پی کی بات کی جارہی ہے وہ بھی درحقیقت 5 فیصد نہیں ہے بلکہ ڈھائی فیصد ہے۔ کیونکہ موجودہ جی ڈی پی کی پیمائش مودی حکومت کے Calculation کے مطابق کی جارہی ہے، جس کے بار میں مودی حکومت کے سابق معاشی مشیر اروند سبرانیم نے جنوری 2019 میں ہی یہ انکشاف کردیا تھا کہ مودی حکومت نے جی ڈی پی کی پیمائش میں ڈھائی فیصد سے زائد کا شمار کرتے ہوئے نمبرس کے ساتھ ہیرا پھیری کرتے ہوئے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو گزشتہ 6 سال ہی نہیں بلکہ 17سالوں میں جی ڈی پی کی حالت اتنی بری کبھی نہیں رہی اور اتنی نیچے کبھی نہیں گری۔ یہاں تک کہ 2003 میں بھی جی ڈی پی کی اتنی بری حالت نہیں تھی جب جی ڈی پی 5 فیصد تھی۔ کیونکہ اس وقت جی ڈی پی کا شمار سابقہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

2020 کے پہلے سہ ماہی جسے Q1 FY 2020 کہا جاتا ہے، اس کی جو رپورٹ سامنے آئی ہے، وہ ملک کی نبض کے رک جانے کا اشارہ کر رہی ہے، لیکن مودی حکومت کے لئے سب ’کشل منگل‘ ہے۔ اس سہ ماہی میں مینو فیکچرنگ کے سیکٹر میں صرف صفر پوائنٹ 6 فیصد کی افزائش دکھائی ہے جو گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں 12.1 فیصد تھی۔ زرعی شعبے میں اس سہ ماہی میں صرف 2 فیصد کی افزائش سامنے آئی ہے جبکہ ایک سال قبل یہ 5.1 تھی۔ اسی طرح تعمیراتی شعبہ بھی محض 2 فیصد سے بڑھا ہے۔ اس سیکٹر میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے، جبکہ ملک کے بڑے شہروں میں فی اسکوائرفٹ پر حکومت کی جانب سے 5 سے 6 ہزار روپئے مختلف ٹیکس وصول کرتی ہے۔ بلڈروں نے سرمایہ کاروں کی مدد سے عمارتیں تو کھڑی کردی ہیں، لیکن ان کا کوئی خریدار نہیں ہے جس کے نتیجے میں دن بہ دن یہ سیکٹر تباہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن ملک کی اصل تصویر کو اجاگر کرنے والے اعداد وشمار کو اول تو حکومت پبلک ڈومن میں آنے نہیں دینا چاہتی اور اگر کبھی کسی کی ’غلطی‘ سے کچھ باہر آ بھی جاتا ہے تو وہ اس قدر Manipulated ہوتا ہے کہ اصل حقیقت سامنے آہی نہیں پاتی۔ اس کے باوجود جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ نہایت بھیانک صورت حال کا اعلامیہ ہے۔

’گھرمیں نہیں کھانے کو، امّاں چلیں بھنانے کو‘

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کا گزشتہ کل ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے گرتی ہوئی جی ڈی پی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنبھالنے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے، لیکن مودی حکومت کی اقتصادی بد انتظامی کے سبب آج یہ پستی کی جانب جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو ملک بہت زیادہ دنوں تک یہ بحران برداشت نہیں کرسکے گا۔

یہی انتباہ گزشتہ تین سالوں سے ملک کے بیشتر ماہرین معاشیات دے رہے ہیں کہ ملک کی معیشت تباہی کی جانب جارہی ہے، اگر اسے فوری طور پر نہیں سنبھالا گیا تو حالت بہت بدتر ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہی ہماری قومی میڈیا تھی جہاں انہیں مودی حکومت کے مخالفین کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان لوگوں کا وہ تین سالہ قبل کا انتباہ آج اپنی تمام تر سفاکی کے ساتھ ملک کے سامنے منہ کھولے کھڑا ہے۔کیا مودی حکومت اسے محسوس کرے گی یا ایک بار پھر قومی میڈیا کے ذریعے ہندومسلم اور نیشنل واینٹی نیشنل کی بحث چھیڑ دیا جائے گا۔ تو پھرمترولگ جاوکام سے۔

Published: 1 Sep 2019, 9:10 PM