انتقامی سیاست کو چھوڑ کر ماہرین اقتصادیات کی سنے مودی حکومت: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کی اقتصادی صورت حال پر نشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کو پیدا کرنے کی ذمہ دار مودی حکومت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کی معیشت میں گراوٹ پر مودی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی معیشت میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے، لیکن مودی حکومت کی اقتصادی بدانتظامی کے سبب یہ آج کساد بازاری سے لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک اقتصادی بدانتظامی کا شکار ہوا ہے۔ حکومت کو کسی طرح کی سیاست کئے بغیر ملک کو اقتصادی بحران سے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے، کیونکہ ملک طویل اقتصادی بحران کو برداشت نہیں کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ملک کی معیشت اس وقت انتہائی تشویش ناک دور سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا 5 فیصد رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک ایک خوفناک مندی کی طرف گامزن ہے۔ ہندوستان کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت رکھنا ہے لیکن مودی حکومت کے بے حد خراب انتظام نے ملک کو مندی میں جھونک دیا ہے۔

خصوصی طور پر سب سے زیادہ پریشان کن بات تخلیق کاری کے شعبہ میں آئی سست روی ہے جس کی شرح نمو محض 0.6 فیصد تک گر چکی ہے۔ اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ معیشت نوٹ بندی اور بے حد لاپروائی سے نافذ جی ایس ٹی جیسی انسانی غلطیوں سے ابھی تک ابر نہیں پائی ہے۔

گھریلو مانگ کم ہو گئی ہے اور کھپت (کمزمپشن) 18 مہینے کی کمترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ نومینل گروتھ 15 سال کی کمترین سطح پر ہے۔ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں زبردست گراوٹ ہے۔ ٹیکس وصولی بے حد مایوس کن ہے کیوں چھوٹے بڑے تمام کارروباری ٹیکس ٹیررازم کا شکار ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو بھروسہ ختم ہو رہا ہے۔ کسی بھی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے یہ بے حد کمزور بنیاد کے اشارے ہیں۔

مودی حکومت کی پالسیوں سے بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں اور ہم روزگار سے پاک معیشت بنتے جا رہے ہیں۔ تنہا آٹوموبائل سیکٹر میں ہی تقریباً ساڑے تین لاکھ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورت حال ہے، جس کا سیدھے طور پر اثر کارکنوں اور مزدوروں پر پڑ رہا ہے۔

دیہی ہندوستان میں حالات اور بھی خراب ہیں۔ کسانوں کو واجب دام نہیں مل پا رہ ہیں اور دیہی آمدنی میں لگاتار گراوٹ درج کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کی شرح نمو، جسے مودی حکومت گاجے باجے کے ساتھ پیش کرتی ہے، اس کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور ان کی آمدنی میں لگاتار کمی آ رہے ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کی تقریباً نصف آبادی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

تمام اداروں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ آر بی آئی کی صورت حال بھی تشویش ناک ہو گئی ہے۔ خصوصی طور پر خزانے سے 1.76 لاکھ کروڑ مودی حکومت کو دینے کے بعد۔ اتنا ہی نہیں حکومت اس رقم کا کیا کرے گی، اس کا روڈ میپ بھی ابھی کسی کے پاس نہیں ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ حکومت کے دور میں اعداد و شمار کی ہیر پھیر سے ہندوتان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔ بجٹ میں کئے گئے اعلان اور پھر انہیں واپس لینے کے اعلانات نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا بھروسہ درکا دیا ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے بعد ہندوستان کو اپنے درآمد کے شعبہ میں جو فائدہ اٹھانا چاہئے تھا وہ اس سے چوک گیا ہے۔

ہمارے نوجوان، زرعی مزدور، صنعت کار اور حاشیہ پر موجود طبقہ اس سب سے کہیں بہتر کا حقدار ہے۔ گرتی ترقی کے موجودہ دور میں ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ انتقامی سیاست کو چھوٹ کر دانشمندگان اور ماہرین کی آواز کو سنے تاکہ معیشت کے اس بحران سے ملک کو نکالا جا سکے۔

Published: 1 Sep 2019, 12:10 PM