بات تشویش سے بہت آگے نکل چکی ہے!... اعظم شہاب

ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے تشویش ہونا لازمی ہے لیکن موجودہ صورت حال میں بات تشویش سے آگے نکل چکی ہے۔

مسلمان، تصویر ویپن
مسلمان، تصویر ویپن
user

اعظم شہاب

بات اگر تشویش کی حد تک ہوتی تو بھی برداشت کی جاسکتی تھی، کیونکہ آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے لئے تشویش مزید تشویش حیرت انگیز نہیں ہے۔ لیکن اب بات تشویش سے بہت آگے نکل چکی ہے اور اگر سچائی کے ساتھ اعتراف کیا جائے تو مایوسی کی حد میں داخل ہوچکی ہے، ایسی مایوسی جہاں حوصلہ ہار جایا جاتا ہے۔ ہم مسلمان اس ملک میں آج اس مقام پر پہنچا دیئے گئے جہاں آئینی طور پر مساوات ویکساں حقوق کی حاملیت کے باوجود دیوار سے لگا دیئے گئے ہیں۔ حکمراں طبقہ اگر ہمیں اپنا مخالف سمجھ کر ہمارے ساتھ نفرت وتعصب کو اپنی سیاسی ضرورت سمجھتا ہے تو حزبِ مخالف ہمیں اس لئے مجبور سمجھتا ہے کہ ہم اسے چھوڑ کر جائیں گے کہاں۔

اپنے ساتھ ہونے والی حق تلفی اور ظلم کی فریاد لے کر اگر ہم عدالت جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ہر موقف درست بلکہ آئینی بھی، لیکن فیصلہ آستھا کی بنیاد پر ہوگا۔ معمولی الزامات میں برسوں سے جیل میں قید اپنے نوجوانوں کی رہائی کی اگر ہم فریاد کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان پر ایسی سنگین دفعات لگائیں گئی ہیں کہ رہائی کیا، ضمانت بھی ممکن نہیں ہے۔ اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری بنائے جانے کی حکومتی کوشش کے خلاف اگر ہم جمہوری طریقے سے آواز بلند کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ شہر کے چوراہوں پر ہماری تصویروں کے پوسٹر چسپاں کر دیئے جاتے ہیں اور ہماری جائیدادیں ضبط کی جانے لگتی ہیں۔ اکثریتی طبقے کی شرانگیزی کے موقع پر اگر ہم اپنے گھروں میں دبکے بھی رہ جائیں تو بھی ہمارے گھروں پر بلڈوزر چلا دیئے جا رہے ہیں۔


یہ جو جے این یو میں گوشت وسبزی کے نام پر اے بی وی پی نے تشدد برپا کیا ہے کیا یہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا نظر آ رہا ہے؟ دراصل اس کے پیچھے بھی ہم سے نفرت ہی کارفرما ہے کیونکہ گوشت خوری ہم سے منسوب کردی گئی ہے۔ رام نومی کے دوران ہونے والے فسادات میں پتھراؤ بھی ہم پر ہوئے، حملے بھی ہم ہی پر ہوئے، مگر پولیس نے کارروائی بھی ہم پر کی اور بلڈوزر بھی ہمارے ہی گھر پر چلے۔ کرناٹک، دہلی و مہاراشٹر میں لاؤڈاسپیکر پر اذان کی مخالفت کیا صرف صوتی آلودگی کی وجہ سے ہے؟ کیا لاؤڈاسپیکر کا استعمال صرف اذان کے لئے کیا جاتا ہے؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ لاؤڈاسپیکر پر صرف اذان کا ہی ایشوبنایا جا رہا ہے؟ اگر ہمارے اذان سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے توکیا ہنومان چالیسہ بجانے سے وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے؟ اگر اذان کے جواب میں ہنومان چالیسہ بجایا جاتا ہے تو کیا گنیش چترتھی و نوراتری وغیرہ پر بجنے والے لاؤڈاسپیکر کے موقع پر ہمیں قرآن کی تلاوت، نعت ومنقبت کی بھی آزدی ملنی چاہئے۔ اگر سکھ برادری کو اپنی پگڑی، ہندو طبقے کے لوگوں کو بھگوا گمچھا ڈال کر اسکول وکالج میں تعلیم حاصل کرنے میں امن وامان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا، ڈریس کوڈ کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو پھر یہ معاملہ حجاب کے ہی ساتھ کیوں؟

دہلی میں ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی للکار لگانے والوں کے بارے میں اگر ایک جانب پولیس یہ رپورٹ پیش کرتی ہے کہ کوئی ہیٹ اسپیچ نہیں ہوئی تو دوسری جانب جہانگیر پوری میں شوبھا یاترا کے دوران علانیہ ہتھیار لہرانے اور مسلم مخالف نعرے لگانے والوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ناگپور کے نمکین ریفریشمنٹ بنانے والی کمپنی ہلدی رام اگر اپنے کسی پروڈکٹ کے پیکٹ پر عربی رسم الخط میں پروڈکٹ سے متعلق معلومات درج کر دیتی ہے تو ہنگامہ مچ جاتا ہے کیونکہ عربی رسم الخط کو مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اسی پیکٹ پر بنگالی یا تامل میں لکھی تحریروں پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اکھنڈ بھارت کی بات کرتے ہوئے مسلمانوں کو در پردہ یہ دھمکی دینے سے بھی نہیں چوکتے کہ ہم ہاتھ میں ڈنڈا بھی رکھیں گے۔ اب بھلا ان سے یہ کون پوچھے کہ وہ ڈنڈا کس لئے رکھیں گے؟ معلوم نہیں انہیں کہاں سے یہ گمان ہوگیا ہے کہ مسلمان اکھنڈ بھارت کے خلاف ہیں۔


کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے انڈین ایکسپریس میں جو مضمون لکھا ہے اور جس کے بعد ملک کی 13؍ اہم سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے عوام سے امن وامان کی مشترکہ اپیل کی ہے، اس مضمون کا تھیم فرقہ واریت ہی ہے لیکن مہاراشٹر جہاں کانگریس حکومت میں شامل ہے، وہاں وہ یہ تک نہیں کر پا رہی ہے کہ فرقہ پرستی پھیلانے والے چند کاکروچوں کو اٹھاکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی پہنچا دے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کی سب سے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ دیگر13؍غیر بی جے پی پارٹیوں کو اس سنگینی کا احساس ہے تو اس کے سدباب کے لئے کیا کر رہی ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ سرکاری مشینری ومیڈیا کا اپنے مقصد کے لئے بے دریغ استعمال کر رہی ہے، لیکن جہاں غیر بی جے پی حکومتیں ہیں وہاں سرکاری مشینری ومیڈیا کا استعمال کون سی جمہوریت کی بقا وآئین کے تحفظ کے لئے ہو رہا ہے؟ اس صورت حال نے مجھ جیسے نہ جانے کتنوں کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالات کی اس سنگینی کا اندازہ بیشتر لوگوں کو ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ مایوسی کے گرداب میں ڈوبتے جا رہے مسلمانوں کو اس کیفیت سے نکالنے کے لئے کیا لائحہ عمل ہے؟ کیا ملک میں آئین کی حکمرانی کا دعویٰ کرنے والے اس کا کوئی علاج تجویز فرمائیں گے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔