’کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں‘... اعظم شہاب

22 کروڑ لوگوں کو ابھی تک ویکسین دی گئی ہے، جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دسمبر تک 108؍ کروڑ لوگوں کو ویکسین دے دی جائے گی، لیکن اعداد وشمار اور ویکسینیش کی رفتار اس کے جھوٹا ہونے کی چغلی کھا رہے ہیں

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

واقعی کمال کے ہیں ہمارے پردھان سیوک جی کے نو رتن بھی۔ مودی جی کا قد بڑھانے کی ہڑبڑاہٹ میں وہ ایسی ایسی اول جلول حرکتیں کر جا رہے ہیں جس سے مودی جی مزید دوچار پائیدان نیچے اترجاتے ہیں۔ پورے کورونا بحران میں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب رہنے والا سنگھ پریوار مودی جی کی ساکھ سدھارنے کے لیے منتھن پر منتھن کیے جا رہا ہے، مگر ان کے نو رتن اپنی ناعاقبت اندیشی سے مٹی مزید پلید کیے دے رہے ہیں۔ اب یہی ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ کو ہی لے لیجیے۔ بھلا ان سے بڑھ کر مودی جی کا خیرخواہ کون ہوسکتا ہے؟ مگر انہوں نے بھی گرتی دیوار کے پلاسٹر کو انگلی سے کرید دیا۔ بے چارے شاہ جی چلے تھے مودی جی کے سر کورونا کی روک تھام کا سہرا باندھنے، مگر معلوم ہوا کہ پگڑی کی ہی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔

گجرات میں آکسیجن پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے اگر وہ یہ کہہ کر ہی اپنی بات ختم کر دیتے کہ کورونا نے ترقی یافتہ ممالک میں بھی سنگین صورت حال پیدا کردی اور اس سے ہمارا ملک بھی محفوظ نہیں ہے، تو بھی کچھ نہ بگڑتا بلکہ اس پر شاہ جی کی صاف گوئی کی تعریف ہی کی جاتی، مگر انہوں نے یہ کہہ کر مودی جی کی بے عزتی کا سامان پیدا کر دیا کہ مودی جی کی قیادت میں کورونا کی دوسری لہر کو روکنے کی لڑائی بہت کامیابی سے لڑی گئی اور دنیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ہمارے ملک میں لوگوں کو ویکسین دی گئی۔ اب بھلا شاہ جی کو کون سمجھائے کہ دوسری لہر کے ابتدائی دنوں میں آکسجین کی قلت، ادویات کے فقدان، اسپتالوں میں جگہوں کی کمی، سڑکوں پر جلتی چتاؤں اور گنگا میں بہتی لاشوں کو کامیابی نہیں ناکامی کہتے ہیں اور اس ناکامی کی تمام تر ذمہ داری مودی جی کی قیادت والی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے، جس نے قدرتی آفات کے ایکٹ کے تحت کورونا سے روک تھام سے متعلق تمام وسائل و ذرائع کو اپنے اختیارات میں لیتے ہوئے ریاستوں کو مرکز کی مدد کا محتاج بنا دیا تھا۔


کورونا کی روک تھام کے لیے کوئی مخصوص دوا ابھی تک نہیں بنائی جاسکی ہے، بس صرف ویکسین کا ہی آسرا ہے جس سے اس وبا پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ ویکسین کے بعد کورونا سے متاثر ہونے کا امکان تقریباً 60 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ مگر خود کو ’ویکسین گرو‘ کہلوانے والے ہمارے پردھان سیوک نے اس ویکسین کا جو کھیل کھیلا اس نے پورے ملک میں ہاہاکار مچا دیا۔ وزیر داخلہ اس پر بھی اگر حکومت کی خامیوں کو تسلیم کرلیتے یا اس کی غیرمنصوبہ بندی کا اعتراف کرلیتے تو بھی مودی حکومت کا بھرم کسی حدتک قائم رہ جاتا، کیونکہ بند مٹھی لاکھ کی ہوتی ہے۔ مگر امت شاہ صاحب نے ویکسینیش کا ریکارڈ بھی مودی جی کے نام کرکے کھلی مٹھی خاک کی کر دی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ گودی میڈیا کے بھی کچھ پلیٹ فارموں پر امریکہ وبرطانیہ میں ویکسیینیشن کا موازنہ ہندوستان سے ہونا شروع ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر تو اس موازنے کی بھرمار سی نظر آجاتی ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ہندوستان میں ویکسینیشن کی کیا شرح ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ہندوستان میں ویکسینیشن ہونے کے امت شاہ صاحب کے بیان پر اگر ایک اچٹتی سی نظر بھی ڈال لی جائے تو غبارہ پچک جاتا ہے۔ دنیا بھر میں آج بھی امریکہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بنا ہوا ہے۔ کم ازکم ورلڈ میٹر کے مطابق تو یہی صورت حال ہے۔ لیکن اگر امریکہ میں ویکسینیشن کے پروگرام کو دیکھیں تو وہاں ابھی تک 88 فیصد لوگوں کو کورونا کے ٹیکے دیئے جاچکے ہیں۔ برطانیہ میں یہ شرح 96 فیصد ہے۔ اس کے برخلاف ہندوستان میں یہ شرح 4.2 فیصد ہے۔ گزشتہ 4 جون تک ملک بھر میں کل 22 کروڑ ویکسین کا استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی جنوری سے جب سے ویکسینیشن شروع ہوا ہے، ابھی تک محض 22 کروڑ لوگوں کو ویکسین دی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 13؍کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں 22 کروڑ لوگوں کے ویکسینیشن کو دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ہونے والا ویکسینیشن قرار دیا جاسکتا ہے؟


دو روز قبل مودی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس سال کے آخر تک ملک کے 108؍ کروڑ لوگوں کو کورونا کی ویکسین دے دی جائے گی۔ لیکن اگر اعدادوشمار پر ایک نظر ڈالیں تو یہاں بھی حکومت کا یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور نظر آتا ہے۔ 16؍جنوری سے ملک میں ویکسین دینے کا پروگرام شروع ہوا اور مئی تک یہ تعداد 22 کروڑ تک پہنچی۔ ملک کے 108؍ کروڑ لوگوں کو ویکسین دینے کے لیے 216؍ کروڑ ڈوز کی ضرورت ہوگی جس کے لیے ہرماہ کم ازکم 40 کروڑ ویکسین بنانی ہوگی۔ گوکہ محکمہ صحت نے 8 کمپنیوں کی فہرست بھی دی ہے جو ویکسین فراہم کریں گی، لیکن ان 8 کمپنیوں میں سے 5 کمپنیوں کے ویکسین کو ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے۔ صرف 3 کمپنیوں کو منظوری ملی ہوئی ہے جس میں 2 کی ویکسین عوام کو دی جا رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ مزید کچھ کمپنیوں کی ویکسین کو منظوری مل جائے، لیکن ویکسینیشن کی جو رفتار ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو کیا 6 سے7 ماہ میں ملک کے 108؍کروڑ لوگوں کو ویکسین دی جاسکے گی؟

ملک میں کورونا کی صورت حال گوکہ کچھ کنٹرول میں نظر آرہی ہے، لیکن اس پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے کہ متاثرین اور اموات کی تعداد کو چھپایا گیا ہے۔ ہمارے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی جی تو اعلان فرماچکے ہیں کہ یوپی کورونا فری ہوچکا ہے۔ مگر جو لوگ اس وبا کو جھیل رہے ہیں وہ بخوبی سمجھتے ہیں یوگی جی کو کورونا سے زیادہ آنے والے الیکشن کی فکر ہے۔ ہمارے امت شاہ چونکہ ماہر انتخابات ہیں، اس لیے ان کے بھی پیشِ نظر آئندہ سال پانچ ریاستوں کے انتخابات ہی ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے جھوٹ کا ہی سہارا لیا جاسکتا ہے۔ مگر جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں، ان کے بارے میں اگر امت شاہ صاحب ذرا بھی غور کرلیتے تو شاید مودی حکومت کی قیادت میں کورونا پر کامیابی سے قابو پانے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ سچائی یہ ہے کہ کورونا کی روک تھام کے معاملے میں مودی حکومت نے ریاستوں کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہے۔ کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین کی فراہمی کے لیے مودی حکومت نے ریاستوں کو اپنے طور پر ویکسین کا انتظام کرنے کے لیے کہہ دیا۔ ریاستوں نے گلوبل ٹینڈر جاری کیا تو معلوم ہوا کہ کمپنیاں صرف مرکزی حکومت کو ہی ویکسین فراہم کریں گی۔ ایسی صورت میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ ریاستوں کی ویکسین کی ضرورت پوری کرتی، مگر یہاں تو ویکسین ویکسین کھیلا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امت شاہ کا بیان اور محکمہ صحت کا دعویٰ ہیڈلائن مینجمنٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔