حکومت نہ بھولے کہ اقتدار کا نشہ تباہ کن بھی ہوتا ہے... سہیل انجم

مرکزی حکومت یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اس نے آب حیات پی لیا ہے، اسے کوئی بھی تخت سے جدا نہیں کرسکتا۔ لیکن ایسی حکومتوں کو یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ متکبر حکومتوں کا تخت ان کے لیے تختہ دار بھی بن جاتا ہے

کسان تحریک / تصویر آئی اے این ایس
کسان تحریک / تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

آزاد ہند کی سرزمین نے ایسی متکبر، مغرور، گھمنڈی اور ڈھیٹ حکومت نہیں دیکھی تھی۔ جانے کتنی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ جانے کتنی آئیں گی اور چلی جائیں گی۔ لیکن اس سے قبل کسی بھی حکومت یا حکمراں نے ایسی ڈھٹائی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا جیسی موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ شاید اس حکومت نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس نے امرت پی لیا ہے اور اب اسے دنیا کی کوئی طاقت اقتدار سے بے دخل نہیں کر سکتی۔ ایسی ہی حکومتوں اور ایسے ہی حکمرانوں کے لیے حبیب جالب نے کہا تھا کہ: تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا، اس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا۔ جب کوئی حکمراں خود کو خدا سمجھنے لگے تو سمجھ جائیے کہ اس کے دن پورے ہونے والے ہیں۔

ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے بھی شاید خود کو خدا سمجھ لیا ہے اس لیے وہی کر رہے ہیں جو ان کا دل چاہتا ہے یا جو ان کی سیاست کو سوٹ کرتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے لیے آر ایس ایس نے بی جے پی کے توسط سے کیا کیا نہیں کیا۔ اس کے لیڈروں نے خود کو چوکیدار اور سیوک یا خادم کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ اگر انھیں چوکیدار بنا دیا جائے تو وہ دیش کی سیوا کریں گے اور اسے ترقی کے ایورسٹ پر پہنچا دیں گے۔ عوام نے ان کے وعدوں اور ان کی باتوں پر یقین کیا اور انھیں ایک نہیں دو دو بار ایوان اقتدار تک پہنچا دیا۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی ان رہنماؤں نے سب کچھ فراموش کر دیا اور ہندوستان جیسے سیکولر ملک کو ایک فاشسٹ ملک میں بدلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے انھوں نے ملک کے سرمایہ داروں کا دامن تھاما۔ ایسی پالیسیاں مرتب کی گئیں اور ایسے فیصلے کیے گئے جو کارپوریٹ گھرانوں اور صنعت کاروں کے مفادات کو پورا کریں۔ اس نے اس کے عوض کارپورٹ گھرانوں سے مختلف ناموں سے خوب چندے لیے۔ ان سے سرمایہ حاصل کیا اور اپنی حکومت کے استقلال اور ملک کی تمام ریاستوں پر قبضہ کرنے کے لیے اس سرمائے کا استعمال شروع کر دیا۔ سرمایہ داروں کو بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے کے قرضے دیئے گئے جو وہ لے کر ملک سے فرار ہو گئے۔ مفرور سرمایہ داروں کو وطن واپس لانے میں اس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے جس کی ضرورت ہے۔

موجودہ حکومت کی چالاکی دیکھیے کہ وہ نام غریبوں اور کمزور طبقات کا لیتی ہے مگر کام امیروں کے کرتی ہے۔ ہم لوگ بچپن سے یہ پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ ہندوستان ایک کرشی پردھان دیش ہے۔ یعنی یہاں کی روزی روٹی کا بنیادی شعبہ کھیتی کسانی ہے۔ ملک میں کسانوں کی جتنی بڑی تعداد ہے اتنی کسی اور طبقے کی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اب تک جو فیصلے کیے تھے ان سے اتنی بڑی تعداد متاثر نہیں ہو رہی تھی جتنی کہ متنازع زرعی قوانین کی منظوری سے ہو رہی ہے۔ حکومت نے انتہائی عجلت میں تین زرعی قوانین پارلیمنٹ میں بحث کرائے بغیر منظور کر لیے۔

ماہرین اور کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین مکمل طور پر صنعت کاروں اور کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اگر یہ نافذ ہو گئے تو کسانوں کی زمینوں اور ان کی فصلوں پر کارپوریٹ گھرانوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ کسانوں کی فصلوں یا اجناس کی حکومت کی جانب سے ایک قیمت مقرر کی گئی ہے جسے ایم ایس پی یا کم سے کم سپورٹ پرائس کہا جاتا ہے۔ کسان حکومت کے زیر انتظام منڈیوں میں لے جا کر اپنی فصلیں مقررہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ لیکن اب جو قوانین بنائے گئے ہیں ان میں ایم ایس پی سے کم قیمت پر بھی خریداری ہو سکے گی۔ اور صرف حکومت ہی نہیں بلکہ صنعت کار اور سرمایہ دار بھی خریداری کر سکیں گے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ غلہ خرید کر ان کی ذخیرہ اندوزی بھی کر سکیں گے تاکہ جب ان کی قلت ہو جائے تو وہ من پسند داموں پر انھیں فروخت کر سکیں۔ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کی مخالفت کسان کر رہے ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ ایم ایس پی ختم نہیں کی جائے گی۔ وہ اس سلسلے میں تحریری یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں قوانین واپس لے۔ وہ اس سے کم پر تیار نہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب کسانوں اور غریبوں کا نام لینے والی حکومت قوانین واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ شاید وہ سمجھتی ہے کہ جس طرح سی اے اے اور این آر سی مخالف ملک گیر احتجاج کو کرونا کے نام پر ختم کرا دیا گیا اسی طرح اس احتجاج کو بھی ختم کرا دیا جائے گا۔ پولیس کی جانب سے کسانوں کے خلاف پینڈمک ضابطوں کی خلاف ورزی کے تحت مقدمات بھی درج کرا دیئے گئے ہیں۔ لیکن ابھی حیدرآباد میں ہوئے مقامی انتخابات میں بی جے پی رہنماؤں کے پروگراموں اور روڈ شوز کے دوران بھیڑ یا اس سے قبل بہار کے انتخابات کے دوران ہزاروں کی بھیڑ کے سلسلے میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

سی اے اے او راین آر سی کا ذکر آگیا ہے تو تھوڑی سی روشنی اس پر بھی ڈال دی جائے۔ موجودہ حکومت نے ہٹ دھرمی کرکے جو قوانین بنائے ہیں انھی میں سی اے اے اور این پی آر و این آر سی بھی ہیں۔ سی اے اے قانون مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس قانون کو منظور ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ گیارہ دسمبر 2019 کو اسے منظور کیا گیا تھا اور 13 دسمبر سے اس کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ سے احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو نہ صرف پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں پھیل گیا تھا۔

ماہرین آئین و قانون اور ہندوستان کی روایات پر گہری نظر رکھنے والوں کا بار بار کہنا تھا کہ یہ قانون خلافِ آئین ہے اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے منافی ہے۔ لیکن حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگی اور کووڈ کی وبا اس کے لیے ایک سنہرا موقع ثابت ہوئی۔ اس کی آڑ میں پورے ملک میں چلنے والے دھرنوں اور مظاہروں کو ختم کرا دیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دھرنوں اور مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کرکے ان کی گرفتاریاں کی گئیں اور اب بھی انھیں مختلف بہانوں سے پریشان کیا جا رہا ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسانوں کا احتجاج ختم ہونے کے بعد بہت سے کسان لیڈروں اور اس احتجاج کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بہر حال یہ تو دو ایک مثالیں ہیں ورنہ اگر ہم اس حکومت کے تمام فیصلوں اور پالیسیوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ حکومت غریبوں اور دبے کچلے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ امیروں اور سرمایہ داروں کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے رویے کا مطالعہ کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی ہٹ دھرم حکومت ہے جو یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ وہ جو چاہے کرے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ اگر چہ الیکشن میں منتخب ہو کر آئی ہے لیکن وہ ہمیشہ کے لیے آئی ہے اور اس کو بے دخل کرنا اب کسی کے بس میں نہیں ہے۔

اسی سوچ نے اسے مغرور و متکبر بنا دیا ہے اور اسے نہ عوام کی ناراضگی کی پروا ہے نہ عالمی اداروں کی۔ عالمی اداروں اور تنظیموں نے کس طرح سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کی تھی اور اسے خلاف آئین و قانون قرار دیا تھا لیکن حکومت نے کسی بھی مخالفت پر کان نہیں دھرا۔ اب کسانوں کی حمایت دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ہو رہی ہے لیکن حکومت پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ وہ یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اس نے آب حیات پی لیا ہے اور اسے کوئی بھی تخت سے جدا نہیں کر سکتا۔ لیکن ایسی حکومتوں کو یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ متکبر حکومتوں کا تخت ان کے لیے تختہ دار بھی بن جاتا ہے اور اقتدار کا نشہ تباہ کن بھی ہوتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next