حکومت کو عوام کی نہیں مودی کی امیج کو بچانے کی فکر... سہیل انجم

تجزیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کی دلچسپی عوام کی زندگیاں بچانے میں نہیں بلکہ مودی کی امیج کو بچانے میں ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

کورونا وائرس کی پہلی لہر زیادہ ہلاکت خیز نہیں تھی۔ اس کی شدت کم تھی اور اس میں ہلاکتیں کم ہوئی تھیں۔ اسی دوران ملک میں دو ویکسین بھی تیار ہو گئیں۔ جب کرونا کے کیسیز کم ہو گئے اور ہلاکتیں بھی نچلی سطح پر آگئیں تو حکومت نے سمجھا کہ ہم نے کورونا پر فتح پالی ہے۔ لہٰذا وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر اپنی امیج بنانے کی مہم شروع کر دی اور اس کے لیے انھوں نے ویکسین ڈپلومیسی کا راستہ چنا۔ اس راستے پر چلتے ہوئے ہندوستان نے 80 سے زائد ملکوں کو ویکسین کی چھ کروڑ سے زائد خوراکیں سپلائی کر دیں۔

لیکن جب دوسری لہر آئی تو اس نے جہاں عوامی زندگی کو اپنی چپیٹ میں لے لیا وہیں کورونا سے لڑنے کی حکومت کی تیاریوں کی پول بھی کھول دی۔ اسی درمیان پانچ ریاستوں میں انتخابات کرائے گئے اور ہری دوار میں کمبھ میلہ لگایا گیا۔ ان دونوں واقعات نے کورونا کی وبا کو پھیلنے میں اس قدر مدد دی کہ اب نہ صرف شہر اور قصبے بلکہ دیہی علاقے بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔ شہروں کی حالت تو لوگ دیکھ رہے ہیں دیہی علاقوں کی صورت حال اور بھی ابتر ہے۔ شہروں میں صحت نظام کچھ نہ کچھ تو قائم ہے لیکن دیہات میں بالکل ہی معدوم ہے۔ گاؤں دیہات میں نہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، نہ علاج اور نہ ہی ویکسی نیشن۔ لوگ مر رہے ہیں لیکن اس کی تفصیلات بھی اس طرح سامنے نہیں آرہی ہیں جیسی کہ شہروں کی آرہی ہیں۔

اس دوسری لہر نے جہاں انسانی جانوں کو نگلنا شروع کیا، وہیں اس نے حکومت کی تیاریوں کی پول کھولنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ کو بھی بری طرح بٹہ لگایا۔ وہ جو پوری دنیا میں اپنا ڈنکہ بجانے کی کوشش کر رہے تھے، ان کی امیج بری طرح پامال ہو گئی۔ ایک امریکی ایجنسی ’’مارننگ کنسلٹ‘‘ کی ایک تازہ رپورٹ آئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مودی کی مقبولیت میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ اگست 2019 کے بعد سے لے کر اب تک ان کی ریٹنگ میں 22 پوائنٹ کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال جہاں سوال پوچھنے والوں میں سے 89 فیصد نے کہا تھا کہ مودی حکومت کورونا سے اچھی طرح نمٹنے میں کامیاب رہی ہے وہیں اب یہ تعداد گھٹ کر 59 فیصد ہو گئی ہے۔

اسی درمیان عالمی میڈیا نے دوسری لہر کے لیے مودی حکومت کی ناکامی کو ذمہ دار قرار دیا اور ایک اخبار آسٹریلین نے تو مودی کو ’’سپر اسپریڈر‘‘ یعنی ’’سب سے زیادہ کورونا پھیلانے والا شخص‘‘ قرار دے دیا۔ عالمی میڈیا کی اس رپورٹنگ نے مودی کی امیج کو اور دھچکہ لگایا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو ہندوستان کے تمام سفیروں کو یہ ہدایت دینی پڑی کہ وہ میڈیا کی ان کے بقول اس یکطرفہ رپورٹنگ کا جواب دیں اور ہندوستانی حکومت کی مثبت امیج پیش کرنے کی کوشش کریں۔

کورونا سے ہونے والی اموات، صحت نظام کی ابتری اور عالمی میڈیا کی رپورٹنگ نے ہندوستانی عوام کے درمیان مودی حکومت کی ایک منفی شبیہ بنانی شروع کر دی۔ یعنی عوام کے ذہنوں میں اب یہ بات بیٹھنے لگی کہ مودی کورونا وبا پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ اس پورے عرصے میں وزیر اعظم مودی اگر کہیں نظر آئے تو مغربی بنگال کے الیکشن میں۔ کورونا سے نمٹنے کے سلسلے میں نہ تو وہ کہیں دکھائی دیئے اور نہ ہی وزیر داخلہ امت شاہ۔ لہٰذا عوام اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہوئے کہ حکومت کو ان کی فکر نہیں ہے۔

جب یہ رائے پورے ملک میں پھیلنے لگی تو حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ لہٰذا اس منفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدلنے کی ایک مہم شروع کر دی گئی جسے ’’پازیٹی وٹی‘‘ کا نام دیا گیا اور عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی جانے لگی کہ وہ سوچنے کا اپنا منفی زاویہ بدلیں اور مثبت انداز میں سوچیں۔ یہ کہا جانے لگا کہ سسٹم یعنی حکومت کا نظام ناکام ہے اور وہی لوگوں کو مار رہا ہے۔ یعنی مودی حکومت نہیں بلکہ یہ نام نہاد سسٹم اس صورت حال کا ذمہ دار ہے۔

اس کے لیے گودی میڈیا کو خوب استعمال کیا گیا۔ ایسے مضامین لکھوائے اور چھپوائے گئے جن میں سسٹم کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور حکومت کو کامیاب بتایا جانے لگا۔ پرکاش جاوڈیکر، پربھو چاولہ، سمبت پاترا اور رام مادھو جیسے لوگ اخباروں میں مضامین چھپوا کر مودی حکومت کی تعریفیں کرنے لگے۔ یہ بتایا جانے لگا کہ وزیر اعظم مودی نے بہت پہلے ہی ریاستی حکومتوں کو چھ مرتبہ دوسری لہر کی وارننگ دے دی تھی لیکن یہ ریاستی حکومتیں ہیں جو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہیں۔ اسی درمیان بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے ایک پانچ روزہ لیکچر سیریز شروع کی گئی۔ جس میں سنگھ پریوار سے قربت رکھنے والے گرو شری شری روی شنکر، سد گرو جگی واسدیو، نویدتا بھڑے اور عظیم پریم جی جیسے لوگوں سے لیکچر دلوائے گئے۔

اس مہم کے دوران یہ بتانے کی کوشش کی جانے لگی کہ ریاستی حکومتیں ناکام رہیں۔ ملک کے سائنس داں ناکام رہے۔ ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں ناکام رہیں۔ انھوں نے بر وقت زیادہ ویکسین نہیں بنائی اور عوام بھی ناکام رہے۔ انھوں نے لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔ حال ہی میں آر ایس ایس کے دوسرے نمبر کے مکھیا چنے جانے والے دتاتریا ہوسبولے نے یہ تک کہہ دیا کہ ملک دشمن اور تخریبی قوتیں ملک میں منفی سوچ پیدا کر کے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

لیکن اسی درمیان ایک دھماکہ ہو گیا۔ یہ مہم چل ہی رہی تھی کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے لیکچر سیریز کے دوران اپنی تقریر میں ایک بم گرا دیا۔ انھوں نے کورونا کی دوسری لہر کی تباہ کاری کے لیے عوام کے ساتھ ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ عوام سے بھی غفلت ہوئی ہے اور حکومت سے بھی۔ حالانکہ 2014 کے بعد سے ہی آر ایس ایس مکمل طور پر مودی حکومت کی پشت پر کھڑی رہی ۔ اس نے ہر محاذ پر حکومت کی حمایت کی۔ غالباً یہ پہلا موقع تھا جب آر ایس ایس کے سربراہ نے کھل کر حکومت پر نکتہ چینی کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس کی کم از کم دو وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ آر ایس ایس کو عوام کے درمیان سے یہ فیڈ بیک ملا کہ لوگ حکومت کی کارکردگی سے بہت ناراض ہیں اور اس صورت حال کے لیے وزیر اعظم مودی کو ہی ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جب آر ایس ایس کے اندرونی ذرائع سے ایسی رپورٹ ملی تو موہن بھاگوت سامنے آگئے اور انھوں نے حکومت پر نکتہ چینی کرکے گویا ایک طرح سے عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے یہ سوچ کر حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا کہ اس سے لوگوں کی ناراضگی کچھ کم ہوگی۔

دوسری وجہ شاید یہ رہی کہ اس طرح وہ حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ اسے کورونا کی مہاماری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موہن بھاگوت نے بظاہر عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا لیکن حقیقتاً انھوں نے بھی مودی کی امیج بچانے کی مہم میں ہاتھ بٹایا اور بالواسطہ طور پر مودی کی حمایت کی ہے۔ کیونکہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کا مطلب مودی کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہے۔ بلکہ پورے سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ بظاہر ان کا بیان حکومت کے خلاف ہے لیکن بہ باطن انھوں نے بھی مودی کی حمایت کی ہے۔

اسی درمیان بی جے پی نے ایک ایسی حرکت کر دی جو اس پر بھاری پڑ گئی۔ بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے ایک نام نہاد ’’ٹول کٹ‘‘ کا پرچار کر دیا اور کہا کہ یہ ٹول کٹ کانگریس نے مودی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔ اس ٹول کٹ کو کئی وزرا نے بھی ٹوئٹ کیا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ کانگریس مودی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کہاں تک جا سکتی ہے۔ کانگریس نے سختی کے ساتھ اس کی تردید کی اور کئی لوگوں کے خلاف رپورٹ بھی درج کرائی۔

اس کے بعد فیس بک نے بھی اس ٹول کٹ کو فرضی قرار دے دیا اور اسے ’’مینی پولیٹڈ میڈیا‘‘ یعنی جوڑ توڑ کرکے تیار کیا جانے والا مسالہ بتا دیا۔ اس پر حکومت تلملا اٹھی اور آئی ٹی وزیر روی شنکر نے کہہ دیا کہ فیس بک کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ یہ اصلی ہے یا نقلی بلکہ یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔ بہر حال فیس بک نے اپنی ذمہ داری نبھا دی۔ حالانکہ فیس بک کے آر ایس ایس اور بی جے پی سے گہرے تعلقات ہیں۔ لیکن یہ ایسا معاملہ تھا کہ اس کو اسے فرضی بتانا ہی پڑا۔ اس تجزیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کی دلچسپی عوام کی زندگیاں بچانے میں نہیں بلکہ مودی کی امیج کو بچانے میں ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔