یوگی حکومت میں کرپشن کا بول بالا... سہیل انجم

اتر پردیش کے تمام محکموں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ کوئی بھی محکمہ رشوت ستانی سے پاک نہیں ہے۔ پولیس کے بعد رشوت خوری کا جو سب سے بڑا اڈہ ہے وہ گرام پنچایتوں کے بلاک ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

جب 2014 کا پارلیمانی الیکشن ہونے والا تھا تو بی جے پی برسراقتدار آنے کے لیے بری طرح بے چین تھی۔ مرکز میں کانگریس کی قیادت میں حکومت چل رہی تھی۔ کانگریس کو مسلسل دو پارلیمانی انتخابات میں کامیابی ملی تھی۔ دونوں مدتوں میں ڈاکٹر من موہن سنگھ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ کانگریس کی اس شاندار کامیابی کا کریڈٹ کانگریس صدر اور یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کو گیا تھا۔ کیونکہ انھوں نے انتھک محنت کرکے پارٹی کو کامیابی دلائی تھی۔ وہ ایک مخلوط حکومت تھی۔ اس میں کانگریس کے علاوہ دیگر پارٹیاں بھی شامل تھیں۔ دس سال کے دور حکومت میں بعض مرکزی وزرا اور بالخصوص اے راجہ کے اوپر رشوت ستانی کے الزامات لگے تھے اور وزیر اعظم نے ان کو کابینہ سے برطرف کر دیا تھا۔

اپوزیشن بالخصوص بی جے پی نے یو پی اے حکومت میں کرپشن یا بدعنوانی کا ایسا شور مچایا کہ عوام نے اس کے الزامات کو درست مان لیا۔ سی اے جی کی رپورٹ کو بری طرح ہائی لائٹ کیا گیا۔ اے راجہ کے خلاف کیس چلا اور انھیں جیل جانا پڑا۔ حالانکہ بعد میں عدالت نے پایا کہ کرپشن کا الزام بے بنیاد تھا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ آر ایس ایس کے اشارے پر انا ہزارے نے رام لیلا گراونڈ میں بھوک ہڑتال کی تھی اور اس وقت کا پورا میڈیا چوبیس گھنٹے اس کی کوریج کر رہا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی شکست اور بی جے پی کی فتح ہو گئی اور وہ برسراقتدار آگئی۔ اروند کیجریوال نے ایک سیاسی پارٹی بنائی۔ وہ دہلی اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوئی اور عام آدمی پارٹی کی حکومت بن گئی۔ اتفاق سے دوسری مرتبہ بھی عام آدمی پارٹی کو کامیابی مل گئی۔

ابتدا میں مرکز کی بی جے پی حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی اور خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کی حکومت میں کرپشن کا نام و نشان نہیں ہے۔ حالانکہ الزامات لگنے شروع ہو گئے تھے۔ لیکن ایک پریس کانفرنس میں راج ناتھ سنگھ نے یہ کہہ کر اس حکومت کی پالیسی واضح کر دی تھی کہ اس حکومت میں کسی سے استعفیٰ نہیں لیا جائے گا۔ اور وہی آج تک ہو رہا ہے۔ کرپشن یا بدعنوانی کے بے تحاشہ الزامات لگ رہے ہیں لیکن کسی سے استعفیٰ نہیں لیا جا رہا یا کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔ اب تو مودی بھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ان کی حکومت میں کرپشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حالانکہ اب عوام کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ مرکز کی حکومت ہو یا ریاستوں میں بی جے پی حکومتیں ہوں کوئی بھی بدعنوانی سے پاک نہیں ہے۔ آئے دن بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں وزرا اور پارٹی لیڈروں پر بدعنوانی کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔

بدعنوانی اور جرائم کے سلسلے میں اور خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کے سلسلے میں اترپردیش کی یوگی حکومت سرفہرست ہے۔ آئے دن خواتین کی عصمت دری اور قتل کے واقعات ہو رہے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف بھی جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے پولیس محکمہ کو بہت زیادہ اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ پولیس کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بدعنوانی شباب پر ہے۔

ابھی راقم الحروف اترپردیش کے چار اضلاع بستی، سدھارتھ نگر، سنت کبیر نگر اور مہاراج گنج کا پندرہ روزہ دورہ کرکے لوٹا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے دو روز لکھنؤ میں بھی قیام کیا۔ اس دورے میں یہ معلوم ہوا کہ ریاست میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں تو جنگل راج ہے۔ ذاتی انتقام کی ہوا بھی تیزی سے بلکہ آندھی کی طرح بہہ رہی ہے۔ متعدد افراد نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں میں عوام اتنے پریشان نہیں تھے جتنے کہ اس حکومت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے سرکاری محکموں میں جو کام مفت ہو جاتا تھا اب اسی کام کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے جو کام پانچ سو روپے کی رشوت سے بن جاتا تھا اب پانچ ہزار روپے رشوت میں بھی نہیں بنتا۔ کوئی بھی معاملہ ہو پولیس فوراً پہنچ جاتی ہے اور بغیر رشوت لیے فیصلہ نہیں کرتی۔ پولیس کو اس قدر آزادی حاصل ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ پولیس کو اس کی بھی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک شخص کے خلاف کوئی بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ جب یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں آئے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت میں جرائم پیشہ افراد کو کہیں اور چلے جانا پڑے گا۔ ورنہ ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انھوں نے پولیس کو یہ کہہ کر آزادی دے دی تھی کہ ’’ٹھونک دو‘‘۔ اس ٹھونک دو پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔ کسی شریف آدمی کی کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے۔

دیگر تمام محکموں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ کوئی بھی محکمہ رشوت ستانی سے پاک نہیں ہے۔ پولیس کے بعد رشوت خوری کا جو سب سے بڑا اڈہ ہے وہ گرام پنچایتوں کے بلاک ہیں۔ اس وقت ریاست میں پنچایت انتخابات ہونے والے ہیں۔ زبردست گہما گہمی ہے۔ حالانکہ پنچایت انتخابات پارٹی بنیاد پر نہیں ہوتے لیکن عملاً پارٹیاں ہی الیکشن لڑاتی ہیں۔ ان انتخابات کی روشنی میں یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ عوام میں کس پارٹی کی پوزیشن اچھی ہے اور کس کی خراب۔

دیہی علاقوں کی ترقی اور بے روزگاروں کو روزگار، بے گھروں کو گھر اور ضعیفوں اور بیواؤں کو پینشن دینے کی جو اسکیمیں سابقہ حکومتوں نے شروع کی تھیں وہ تو اب بھی چل رہی ہیں لیکن ان سے حقدار لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ کچھ اسکیمیں مرکزی حکومت کے تحت ہیں اور کچھ ریاستی حکومت کے تحت۔ تمام اسکیمیں بدعنوانی کے دلدل میں دھنسی ہوئی ہیں۔ منریگا کے تحت بے روزگاروں کو روزگار دینے کا معاملہ ہو یا بے گھروں کو آواس دینے کی اسکیم یا پھر نل، ٹوائلٹ اور پینشن کی اسکیمیں ہوں۔ ان تمام اسکیموں کے پیسے بلاک کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر بہت سے گرام پردھان غبن کر لے رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رشوت کی بنیاد پر بجٹ جاری ہوتا ہے اور اس میں بلاک اہلکاروں سے لے کر بعض ضلع افسران تک کا حصہ ہوتا ہے۔

فلاحی و امدادی اسکیموں کے لیے بلاک کے سکریٹری کے دستخط سے بجٹ جاری ہوتا ہے اور پیسہ بینک سے نکالا جاتا ہے۔ کس اسکیم کا پیسہ نکالنے میں کتنی رشوت دینی ہوگی یہ نرخ پہلے سے طے ہے۔ اس طرح نیچے سے لے کر اوپر تک رشوت خوری کا بازار گرم ہے۔ بعض پردھان تو عوام کا کوئی کام نہیں کرتے اور سرکاری اہلکاروں کی مدد سے لاکھوں کروڑوں روپے ڈکار جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو کچھ کماتے ہیں انھیں پیسوں سے ووٹ خریدتے ہیں اور الیکشن میں انہی پیسوں کا استعمال کرکے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

ایسے ایسے واقعات سننے میں آئے کہ حیرت زدہ رہ جانا پڑا۔ مردہ افراد کے نام پر بھی پیسے نکالے جاتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کئی پردھان تو بلاک اہلکاروں کے ساتھ مل کر دوسری گرام سبھاؤں کے پیسے بھی نکال لیتے ہیں۔ یہ پیسے آواس کے نام پر ہوتے ہیں، ٹوائلٹ کے نام پر ہوتے ہیں، اور پینشن وغیرہ کے نام پر ہوتے ہیں۔ ان راشی اور خاطی افراد کے خلاف اگر اوپر شکایت کی جاتی ہے تو کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ بعض ضلع افسران کے بارے میں سنا گیا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ہی لوگوں یعنی سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کیسے کر سکتے ہیں۔ اس سے ہمارے ایک بھائی کی نوکری چلی جائے گی۔

دراصل ایسا کہنے والے اہلکاروں کے سامنے اپنا حصہ ہوتا ہے۔ اگر رشوت خوری بند ہو جائے تو ان کی بھی آمدنی ختم ہو جائے گی۔ اور وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ غرضیکہ پوری ریاست میں رشوت خوری اور بدعنوانی کی گنگا جمنا بہہ رہی ہے اور سرکاری اہلکار اس میں خوب غوطے لگا رہے ہیں خوب اشنان کر رہے ہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ان تمام باتوں کا علم وزیر اعلیٰ کو نہ ہو۔ ان کو خوب معلوم ہے۔ لیکن انھوں نے سب کو چھوٹ دے رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے ایماندار اور شریف آدمی مارا جا رہا ہے۔ تاہم رشوت ستانی کے اس دور میں بعض ایسی مثالیں بھی ہیں کہ پردھان نے تمام پیسے عوامی کاموں پر صرف کر دیئے جس کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔ لیکن ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ورنہ سب کے سب رشوت ستانی کے دریا میں غسل فرما رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔