سخنِ حق کو فضیلت نہیں ملنے والی... سراج نقوی

اگر عام آدمی کے ذہن میں حصول انصاف کے تعلق سے عدم اعتبار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو یہ فطری ہے اور قبل اس کے کہ اس جذبے کا اظہار کوئی ناخوشگوار شکل اختیار کرے حکومت کو اپنے رویّے پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔

بنگال میں تشہیر کرتے وزیر اعظم مودی / ٹوئٹر
بنگال میں تشہیر کرتے وزیر اعظم مودی / ٹوئٹر
user

سراج نقوی

برسوں قبل لکھی گئی افتخار عارف کی ایک غزل کا مذکورہ مصرعہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ملک کے بیشتر آئینی ادارے اس وقت اپنے فرائض منصبی کو بھگوا طاقتوں کی خوشنودی تک محدود کر چکے ہیں۔ اقتدار کا محور عوامی مسائل کا حل نہ ہوکر چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا اور ان کی صنعتی آمریت قائم کرنا رہ گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عوام کے درمیان سے اٹھنے والی حق کی آوازوں کو ان سنا کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کی جائز تنقید پر بھی توجہ نہیں کی جا رہی۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش جو اس وقت یوگی کے رحم و کرم پر ہے اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔

وزیر اعلیٰ مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ اتر پردیش میں ’’ٹھوک دو‘‘ جیسی غیر جمہوری زبان بولنے والے مغربی بنگال کے ووٹروں کو بھی دھمکا رہے ہیں کہ دو مئی کے بعد ریاست میں بی جے پی سرکار بننے پر ٹی ایم سی کے غنڈوں کو جیل بھیج دیا جائیگا۔ یوگی بنگال میں اپنی ریلیوں میں یہ بھی کہہ رہے کہ ان کی پارٹی کی سرکار بننے پر ریاست میں اتر پردیش کی طرز پر’’رومیو اسکواڈ‘‘ قائم کیا جائے گا۔ یہ وعدہ کس تناظر میں کیا جا رہا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جمہوریت کو یرغمال بنانے کی کوششیں کرنے والے شاید یہ مان بیٹھے ہیں کہ ای وی ایم یا دیگر ہتھکنڈوں سے ملک کی کئی ریاستوں کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا یہ کھیل ہمیشہ اسی طرح جاری رہیگا۔ یہ لوگ شاید یہ بھی مان بیٹھے ہیں کہ طاقت کے بل پر عوام کی آواز کو دبانے اور آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی ان کی کوششیں ہمیشہ اسی طرح کامیاب ہوتی رہیں گی۔ بہرحال مغربی بنگال کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی بی جے پی کی کوششوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے یوگی بھی دل و جان سے لگے ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کی اپنی ریاست یعنی اتر پردیش میں حالات کئی اعتبار سے بد سے بدتر ہو تے جا رہے ہیں۔

ان حالات کے تناظر میں کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش معاملوں کی انچارج پرینکا گاندھی نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کورونا کے معاملے میں غیرذمہ داری سے کام لے رہے ہیں اور کورونا کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے متعلق گمراہ کن اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں پرینکا نے یہ بھی کہا کہ خود وزیر اعلی ٰکورونا سے متاثر افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس بات سے قطعی بے فکر ہوکر ریلیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

پرینکا گاندھی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ لکھنؤ کے آخری رسومات کے مراکز اور اسپتالوں میں لمبی ویٹنگ لسٹ ہے، اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو ٹوکن لے کر 12-12 گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ پرینکا کا الزام ہے کہ جن لوگوں کا کام جواب دہی اور شفافیت ہے، وہ خود غیر ذمہ دار ثابت ہو رہے ہیں۔ پرینکا نے مشورہ دیا کہ بحران کے وقت لیڈروں کو سچّائی اور درست طرز عمل کی مثال پیش کرنی چاہیے، تاکہ لوگ ان پر بھروسہ کر سکیں۔ اب پرینکا کو یہ کون سمجھائے کہ جن کا بھروسہ ای وی ایم، نوکر شاہی کی حاشیہ برداری اور آئینی اداروں کی عدم فعالیت یا انصاف کے تقاضوں سے ان کے انحراف پر ہو وہ عوام کے بھروسے کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ملک کی نصف درجن سے زیادہ ریاستوں میں ممبران اسمبلی کی وفاداریاں بدلوا کر ان ریاستوں کے اقتدار پر قبضہ نہ کیا جاتا۔

عوام کویاد ہوگا کہ یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ برس اسی ماہ یعنی اپریل میں اپنے والد کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات میں اس بنا پر شریک نہیں ہوئے تھے کہ ریاست میں اس وقت کورونا تیزی سے پھیل رہا تھا اور حالات بہت خراب تھے۔ انھوں نے اپنے اہل خانہ سے بھی کہا تھا کہ وہ آخری رسومات میں بھیڑ نہ بڑھائیں۔ اپنی عدم شرکت کے تعلق سے یوگی نے کہا تھا کہ ’’عالمی وبا کورونا کے خلاف ملک کی جنگ کو اتر پردیش کی 23 کروڑ عوام کے مفاد میں آگے بڑھانے کے احساسِ فرض کے سبب میں اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکا۔ بھکتوں نے یوگی کے اس قدم کی بھرپور ستائش بھی کی تھی۔

لیکن اب جبکہ ایک مرتبہ پھر ریاست میں کورونا کے تیزی سے پھیلنے کی خبریں آرہی ہیں اور حالات بگڑ رہے ہیں تو یوگی مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ ان کی مصروفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے گزشتہ جمعرات کے روز ہی بنگال میں تین انتخابی ریلیوں کو خطاب کیا۔ اکیلی ممتا بنرجی کو شکست دینے کے لیے بی جے پی کس قدر بوکھلاہٹ کی شکار ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن جہاں تک یوگی آدتیہ ناتھ کے انتخابی مہم میں مصروف رہنے کا تعلق ہے تو یقینی طور پر موجودہ حالات میں اس سے بچنے کی ضرورت تھی۔ اسی لیے پرینکا گاندھی ہی نہیں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی یوگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اکھیلیش کا کہنا ہے کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف اتر پردیش میں کورونا کا بحران خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اکھیلیش کہتے ہیں ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے، لیکن وبا پر کنٹرول کے لیے شفاف مہم چلانے کی بجائے یوگی دیگر ریاستوں میں مصروف ہیں۔ اکھیلیش کا الزام ہے کہ بی جے پی حکومت کی لاپرواہی کے سبب ہی کورونا کا انفیکشن تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اکھیلیش نے ریاست میں طبّی سہولیات کے فقدان کا الزام بھی حکومت پر لگایا اور کہا کہ سماجوادی حکومت میں جن طبّی سہولتوں کو شروع کیا گیا تھا بی جے پی حکومت نے انھیں بھی تباہ کر دیا ہے۔

سماجوادی پارٹی اور کانگریس کی تنقید سے قطع نظر الہ آباد ہائی کورٹ بھی مختلف معاملات میں یوگی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔ چند روز قبل ہی موقر انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی انتظامیہ کے ذریعہ قومی سلامتی قانون کے تحت درج 120 معاملات میں سے 94 مقدمات کو خارج کرکے حکومت اور انتظامیہ کی ایمانداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان مقدمات میں ملزم بنائے گئے افراد کی اکثریت کس طبقے یا فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی عرضیوں پر سنایا ہے جس میں انتظامیہ کے ذریعہ گرفتار ملزمان کی حراست کو حبس بیجا بتاتے ہوئے ان کی رہائی کی درخواست کی گئی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کی ضمانت نہ ہونے دینے کے لیے این ایس اے کے بار بار اور بے سبب استعمال پر عدالت نے ریاستی پولیس کی سخت سرزنش کی ہے، اور ایسے بیشتر مقدمات کو خارج کر کے ریاستی پولیس کی کارروائی پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ان معاملوں میں ضلع مجسٹریٹ نے اپنی عقل کا استعمال نہیں کیا۔

واضح رہے کہ جن معاملات میں پولیس نے این ایس اے کا استعمال کیا ہے ان میں گئو کشی کے معاملے سب سے زیادہ ہیں اور ان معاملوں میں ملزم بنائے گئے تمام افراد کا تعلق اقلیتی فرقے سے ہے۔ ریاستی حکومت اور انتظامیہ جس طرح پولیس انکاؤنٹر، ملزمان کی املاک کی قرقی اور این ایس اے یا یو اے پی اے قانون کا جس بے دریغ طریقے سے استعمال کر رہی ہے اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت ریاست میں عدلیہ کے اختیارات کا بھی خود ہی استعمال کرنے کی راہ پر ہے۔ ایسے میں اگر عام آدمی کے ذہن میں حصول انصاف کے تعلق سے عدم اعتبار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو یہ فطری ہے، اور قبل اس کے کہ اس جذبے کا اظہار کوئی ناخوشگوار شکل اختیار کرے حکومت کو اپنے رویّے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔