سپریم کورٹ کے فیصلے نے آج کے بدحواس وقت میں ٹھہر کر سوچنے کا موقع دیا

سپریم کورٹ نے جس طرح مہذب انداز میں مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے اس سے ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے کچھ راستہ ہموار ہوا ہے۔

دہلی میں حکومت سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر بحث شروع ہو گئی ہے اور اپوزیشن پارٹی برسراقتدار عام آدمی پارٹی کو کہہ رہے ہیں کہ اب وہ ڈرامہ چھوڑ کر کام کرنا شروع کرے کیونکہ یہ صاف ہو گیا ہے کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ ایک خواب ہے۔ اس کے لیے نعرہ لگانا وقت برباد کرنا ہے۔ لیکن کیا سوال یہ تھا؟ جو اصل سوال تھا اسے لے کر عدالت کی رائے صاف ہے... لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔

عدالت نے کہا ہے کہ چونکہ دہلی ملک کی راجدھانی ہے، اس کا معاملہ بہت خاص ہے۔ پولس، زمین کے استعمال اور معمول کے عوامی انتظامات کو چھوڑ کر بقیہ سبھی معاملے پر دہلی کی حکومت قانون بنا سکتی ہے اور فیصلہ بھی لے سکتی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر اس میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ ماہرین عدالتی فیصلے کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی حکومت دونوں کے لیے اپنی حد سمجھنے کا پیغام ہے۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دہلی حکومت کو بہت پرجوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کئی حدیں اس پر دہلی کے خصوصی حالات کے سبب نافذ ہوتی ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر چاہیں تو ابھی بھی کئی فیصلوں کو روک سکتے ہیں اور ان کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں۔

تکنیکی تفصیلات اور بھی ہوں گی لیکن اس طرح کے تنازعہ کے سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ گزشتہ چار سال سے مرکزی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ دہلی کی حکومت پر جو شکنجہ کسا ہے وہ ہندوستان کے جمہوری نظام کی روح کے خلاف ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ دہلی کی عوام کی بھی بے عزتی ہے جس نے انتخابات کے ذریعہ ایک حکومت تشکیل دی ہے۔ عوام کے ذریعہ منتخب حکومت کو ایک نوکرشاہ کے ذریعہ قابو میں کرنے کی مرکزی حکومت کی حماقت کے لیے اسے عدالت نے مذہب انداز میں پھٹکار لگائی ہے۔

دلچسپ یہ ہے کہ اس فیصلے کے وسیع سیاسی اور جمہوری معنوں پر بات کرنے کی جگہ کانگریس پارٹی کی لیڈر شیلا دیکشت بھی ایک نوکرشاہ کی طرح ہی بات کر رہی ہیں۔ پہلے بھی وہ کہہ چکی ہیں کہ انھوں نے قانونی حد کو سمجھتے ہوئے کام کیا تھا اور اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے رہتے ہوئے بھی انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے یہ نصیحت بھی دی کہ مکمل ریاست کا نعرہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ جانتے ہوئے کہ وہ کبھی سچ نہ ہوگا۔

شیلا جی کو پریشانی نہیں ہوئی تو اس کی وجہ ان کا صبر نہیں ملکہ مرکز میں امید کے مطابق ایک مہذب حکومت کا ہونا تھا۔ ہندوستان میں حالات ابھی بالکل الگ ہیں۔ مرکز میں ایک ایسی حکومت ہے جس نے اس ارادے کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی ہے کہ وہ ہندوستان پر پوری طرح سے قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لیڈر بار بار کہتے رہے ہیں کہ اس کے لیے ’سام دام دَنڈ بھید‘ کسی کا سہارا لیا جانا مناسب ہے۔

یہ یاد کر لینا ٹھیک ہوگا کہ دہلی کی انتخابی تشہیر میں بی جے پی کے اسٹار پرچارک نے دہلی کی عوام کو دھمکی دی تھی کہ بہتر ہو کہ وہ ایسی حکومت منتخب کرے جو اس کے خوف سے کام کرے۔ یکم فروری 2015 کو اخبارات ایک انتخابی ریلی میں دی گئی اس تنبیہ کو اس طرح ریکارڈ کرتے ہیں ’’اگر آپ بی جے پی کی حکومت کو منتخب کرتے ہیں تو یہاں وہ لوگ ہوں گے جنھیں مودی اور مرکزی حکومت کا خوف ہوگا۔ لیکن اگر کوئی ایسا ہو جس کے سر پر کوئی نہ ہو تو وہ صرف بربادی ہی لا سکتا ہے۔‘‘

دہلی کی عوام نے اس غرور کو پوری طرح سے ٹھکرا دیا۔ وزیر اعظم کے ایک حامی نے اس وقت مجھ سے کہا تھا کہ دہلی کی عوام نے انھیں جو تھپڑ مارا ہے اس کی گونج پورے ہندوستان میں سنائی دے گی۔ اسے وہ نہیں بھولے اور اس وقت سے دہلی کیع وام سے اس کی حماقت کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جھگڑا دہلی کی حکومت سے ہے لیکن اصل ناراضگی دہلی کی عوام سے ہے اور اسے ہر لمحہ سزا دی جا رہی ہے۔

شروع سے ہی سمجھ میں آ گیا کہ مرکزی حکومت کا ارادہ دہلی کی حکومت کو چلنے دینے کا نہیں تھا۔ وہ اپنا سکریٹری بحال کرے تو اس کے فیصلہ کو خارج کیا جا سکتا تھا۔ وہ صحت اور تعلیم سے متعلق کوئی فیصلہ کرے تو وہ منسوخ کیا جا سکتا تھا۔ مرکزی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ دہلی کی حکومت کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔

یہ بھی بڑی مایوسی کی بات ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ پر بیٹھے نوکرشاہوں نے مرکزی حکومت کے ملازموں کی طرح سلوک کیا اور تھوڑی بھی تہذیب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جب دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے باہری کمرے میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور اس کے ساتھ مخالفت کے لیے ہی بیٹھے تھے تو انھیں تہذیب کا خیال رکھتے ہوئے ہی سہی کم از کم ان سے ایک بار ملنا چاہیے تھا۔ اتنا بھی ان سے نہ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معمولی تہذیب بھی بھول گئے۔

دہلی کی حکومت بے قصور نہیں لیکن ہم شاید باقی حکومتوں سے وہ امید نہیں کرتے جو دہلی کی حکومت سے کر رہے ہیں۔ ہم نے شاید ہی کسی اور ریاست میں الزام لگتے ہی حکمراں پارٹی کے لیڈروں کی فوراً گرفتاری ہوتے دیکھی ہے۔ دہلی میں ایک نہیں کئی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سبھی قاعدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ممبران اسمبلی کی ایوان کی رکنیت رَد کی۔ وہ فیصلہ بھی بعد میں ہائی کورٹ نے خارج کیا۔ لیکن ان سب میں وقت لگا۔ بلکہ وقت برباد ہوا۔

ہائی کورٹ کے فیصلہ نے ایک بار پھر آج کے بدحواس وقت میں ٹھہر کر سوچنے کا موقع دیا ہے۔ حیرانی نہیں کہ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ سے الگ کانگریس کے ہی دوسرے لیڈر، پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ نے اس فیصلے کو اپنی ریاست کے لیے اہم قرار دیا۔ وہاں مرکزی ھکومت کی نمائندہ وہ ہیں جو ایک وقت دہلی کی وزیر اعلیٰ بناا چاہتی تھیں۔ وہ ریاستی حکومت کے اوپر اس کی مالک کی طرح پھٹکار جاری کر رہی ہیں۔

یہ مان بھی لیں کہ قانونی طور پر دہلی کی حکومت ہریانہ کی حکومت جیسے حقوق کا دعویٰ نہیں کر سکتی، لیکن یہ نہ بھولیں کہ آخر ان حکومتوں کو ان ریاستوں کی عوام نے منتخب کیا ہے۔ عوام کے انتخاب کو ایک نوکرشاہ نظر انداز کر سکتا ہے، یہ خیال ہی اپنے آپ میں خاصہ انقلابی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ مہذب سماج کو منظور تھا اور دہلی کے ہائی کورٹ کو بھی یہ جمہوریت کے خلاف نہ لگا۔ اس سے اس فکر انگیز حالات کا اندازہ ملتا ہے جس میں ہمارا سماج اور وہ ادارے پہنچ گئے ہیں جن پر جمہوریت کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔

جب ہم ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت یا پارٹی کے ہر قدم کی حمایت کی جاتی رہی ہے۔ صرف یہ کہ اس فیصلہ سے ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظتی کے جدوجہد کے لیے کچھ راستہ ہموار ہوا ہے۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی ہندوستان ایک غیر معمولی حالات میں ہے۔ مرکز میں ایک ایسی حکومت ہے جس کا جمہوری اقدار میں کوئی یقین نہیں۔ اس لیے اس کے ہر قدم کو شبہ کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سب سے زیادہ مقبول