تبلیغیوں کے بعد ڈاکٹر کفیل کی رہائی، اندھیرے میں امید کی کِرن... عبید اللہ ناصر

الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ماتھر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کہا کہ علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے تقریر کو پوری سنے بنا صرف جزیات سن کر ہی ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے لگا دیا، جو پوری طرح غلط ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عبیداللہ ناصر

گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جگنو کی روشنی بھی امید کی کرن ہوتی ہے ایسا ہی کچھ تبلیغی جماعت کے سلسلہ میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ اور ڈاکٹر کفیل کے سلسلہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے سلسلہ میں کہا جا سکتا ہے ورنہ گزشتہ چھ سات برسوں میں عدلیہ یہاں تک کہ عدالت عالیہ کے فیصلوں تک نے غیر سنگھی ذہنیت کے لوگوں اور مودی نوازوں کو چھوڑ کر عوام میں بیچینی پیدا کر دی ہے اور بہت سے فیصلوں پر تو خود سپریم کورٹ کے سبکدوش ججوں نے ہی سوال کھڑے کر دیئے ہیں لیکن اس معاملہ میں عوام کی بے بسی کا اندازہ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس سبھروال کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے کہ "ہم غلط ہو سکتے ہیں لیکن ہم حتمی ہیں۔ انصاف کا عالمی اصول یہ ہے کہ صرف انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ انصاف ہوا یہ دکھنا بھی چاہیے اور سپریم کورٹ کے بہت سے فیصلوں میں ایسا نہیں ہوا، یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ضلع عدالتوں کی تو بات ہی کرنا فضول ہے۔

تبلیغی جماعت کو ملک میں کورونا کی وبا کا ذمہ دار ٹھہرا کر متعصب ذہن کے لوگوں اور میڈیا نے کیا طوفان کھڑا کیا تھا اور کس طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ دنیا کے دیگر ملکوں میں یہ وبا چاہے جس وجہ سے پھیلی ہو لیکن ہندوستان آ کر یہ وبا نہ صرف مشرف بہ اسلام ہو گئی بلکہ اس نے تبلیغی جماعت میں شمولیت بھی کرلی، دنیا ہماری اس احمقانہ روش پر ہنس رہی تھی لیکن ہندوستان کا بہت ہی تعلیم یافتہ طبقہ اسے مسلمانوں کی سازش سمجھ کر غریب سبزی، پھل فروش مسلمانوں تک کو نشانہ بنا رہا تھا، بہار میں بر سر اقتدار جنتا دل یو کے قومی ترجمان الوک رنجن تبلیغیوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کی بات کر رہے تھے، کانپور میڈیکل کالج کی خاتون پرنسپل تک تبلغیوں کو مورد الزام ٹھہرا چکی تھیں، بی جے پی کے وزرائے اعلی مرکزی وزیر وغیرہ تو ایک منصوبہ اور سازش کے تحت یہ پبلسٹی کر ہی رہے تھے ایسے میں گرفتار تبلیغیوں کو رہا کرتے ہوئے اور ان پر درج ایف آئی آر خارج کرتے ہوئے اورنگ آ باد بنچ کے فاضل ججوں نے اسے غلط کہا۔ اسے شہری ترمیمی قانون کے خلاف چل رہے ملک گیر احتجاج سے جوڑنے کو سازش بتایا اس طرح نہ صرف سنگھی پروپگنڈہ کی ہوا نکال دی، بلکہ حکومت، میڈیا اور نفرت پرور عناصر کا چہرا بھی بے نقاب کر دیا۔ اس فیصلہ کے بعد دیگر ہائی کورٹوں نے بھی تبلیغیوں کی ضمانتیں منظور کیں، انصاف کا تقاضہ ہے کہ مذکورہ فیصلہ کی روشنی میں ملک بھر تبلیغی ارکان پر درج ایسے سبھی فرضی مقدموں کی ایف ائی آر رد کی جائیں اور گرفتار تبلیغیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

ڈاکٹر کفیل کا معاملہ بھی خاصہ دلچسپ بھی ہے اور عبرت ناک بھی۔ اگست 2017 میں گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن گیس کی کمی کی وجہ سے رات میں بڑی تعداد میں بچوں کی موتیں ہونے لگیں علی الصبح اسپتال کے شعبه اطفال کے ڈاکٹر کفیل کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ بھاگے بھاگے اسپتال آئے یہاں کا منظر دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے، اتنے بڑے اسپتال میں آکسیجن گیس کا ایک بھی سلنڈر نہیں تھا اور بچے اس کی کمی سے تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے۔ ڈاکٹر کفیل نے اپنے تعلقات سے مختلف پرائیویٹ نرسنگ ہوموں سے آکسیجن سلنڈر کا انتظام کیا، اپنے بینک کارڈ سے کئی درجن سلنڈر نقد خریدے اور بچوں کی جان بچانے کی مہم میں دیگر ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے ساتھ لگ گئے۔ ان کے اس کام کی خوب تعریف ہوئی، میڈیا نے بھی ان کو ہیرو بنا کے پیش کیا، اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھنے لگے کی مشرقی اتر پردیش کے سب سے بڑے اسپتال میں اچانک آکسیجن سلنڈروں کی ایسی قلت کیوں ہو گئی، بات یہ سامنے آئی کی آکسیجن سلنڈر سپلائی کرنے والی فرم کو مہینوں سے پیمنٹ نہیں کی گئی تھی اور وہ نوٹس پر نوٹس دے رہی تھی کہ پیسہ نہ ملا تو وہ آکسیجن سلنڈروں کی سپلائی روک دے گی اور پھر اس نے نوٹس پر عمل کر کے دکھا دیا۔ جس کا بھیانک انجام بچوں کی اموات کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ حکومت کی کھلی ہوئی لاپروائی تھی اور براہ راست ذمہ دار ہوتے تھے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، جو گورکھ پور سے ہی متعدد بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو چکے تھے اور وہاں کے مشہور مٹھ گورکھ ناتھ مندر کے مہنت بھی ہیں۔ یوگی جی کو اپنی یہ رسوائی اور ڈاکٹر کفیل کی تعریف اور نیک نامی برداشت نہیں ہوئی اور وہ جب اسپتال کے معائنہ کے لئے آئے تو اپنی بھڑاس ڈاکٹر کفیل پر نکالی اور بر سر عام کہا کہ بہت ہیرو بنتے ہو، تمہیں ٹھیک کر دوں گا اور پھر اسپتال میں آکسیجن سلنڈروں کی کمی کا ٹھیکرا ڈاکٹر کفیل پر پھوڑا گیا۔ انھیں نہ صرف معطل کر دیا گیا بلکہ انھیں گرفتار بھی کر لیا گیا اور شعبه جاتی جانچ بٹھا دی گئی۔ کئی مہینوں بعد ان کی ضمانت پر رہائی ہوئی اور شعبه جاتی جانچ میں بھی انھیں بری الزمہ قرار دیا گیا، لیکن یوگی حکومت نے اس جانچ کو منظور نہیں کیا اور اب تک ڈاکٹر کفیل کو ملازمت پر بحال نہیں کیا گیا۔

اسی دوران ملک میں شہری ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر تحریک شروع ہو گئی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کو نجی مخالفت سمجھا اور ایک دشمن کی طرح اس مہم میں شامل لوگوں کے خلاف محاذ کھول دیا اتر پردیش میں ہوئے احتجاج کو جس بے رحمی، درندگی، فرقہ پرستی اور ظلم سے کچلا گیا اس کی مثال آزاد ہندوستان میں نہیں ملتی۔ اتر پردیش میں احتجاج کے دوران 22 نوجوان ہلاک ہوئے، یوگی حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں اموات کی جانچ کی بھی ضرورت نہیں محسوس کی۔ بلکہ اسمبلی میں یہ تک کہہ دیا کہ جو مرنے آیا تھا اسے کون بچا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو دنگائی ہیں ان کی موت پر معاوضہ دینے کا کوئی قانون نہیں ہے، حالانکہ کسی عدالت نے انھیں دنگائی قرار نہیں دیا تھا اور انھیں یوگی جی نے بلند شہر میں ایک دنگے کے دوران جس میں ایک فرض شناس بہادر پولیس انسپکٹر سبودھ سنگھ شہید ہو گیا تھا اس میں شامل ایک لڑکے کی موت پر بھاری رقم کا معاوضہ بھی دیا تھا اور ضمانت کی راہ بھی ہموار کی تھی۔

بہت سے سماجی کارکنوں کی طرح ڈاکٹر کفیل نے بھی شہری ترمیمی قانون کے خلاف مہم میں شرکت کی اور کئی جگہ جلسوں کو خطاب کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی خطاب کیا لیکن علی گڑھ کی ضلع انتظامیہ نے ان کی تقریر کو اشتعال انگیز قرار دیا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ان کی گرفتاری کے لئے خصوصی ٹاسک فورس کی ایک ٹیم کو ممبئی روانہ کر دیا۔ کیونکہ ڈاکٹر کفیل ان دنوں ممبئی میں تھے ایسا لگتا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کوئی دہشت گرد ہوں جن کی گرفتاری اس انداز میں کی گئی۔ ممبئی سے انھیں لاکر متھرا جیل میں بند کر دیا گیا کچھ دنوں بعد چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی، لیکن جیل سے نکلنے سے پہلے ہی علی گڑھ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ان پر قومی سلامتی قانون لگا دیا، ہر بچہ بھی جانتا ہے کہ یہ کام وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اشارے پر ہوا تھا۔

یہ دفعہ تین مہینہ تک لاگو رہتی ہے اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی اس میں تین مہینوں کا اور اضافہ کر دیا گیا ان کی اس حبس بیجا کے خلاف ڈاکٹر کفیل کی والدہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے الہ آباد ہائی کورٹ کو ان کی ضمانت کی درخواست پر پندرہ دنوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ ڈاکٹر کفیل کی رہائی کے لئے نجی اجتماعی طریقہ سے بھی لوگ سرگرم رہے، کئی این جی او بھی سرگرم رہیں۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔ ان کی ہدایت پر کنگرسس اقلیت سیل کے قومی صدر جاوید ندیم، ریاستی صدر شاہنواز عالم، قومی کو آرڈینیٹر رفعت فاطمہ اور اقلیتی سیل کے ریاست بھر میں پھیلے کارکنوں نے دستخط مہم چلائی، خون عطیہ کیمپ لگایا اور دیگر طریقوں سے اپنی بات عدالت تک پہنچائی، جس کے نتیجہ میں یہ فیصلہ سامنے آیا۔

اپنے فیصلہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ماتھر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر کفیل پر لگے سبھی الزامات خارج کر دیئے، ان کی تقریر کو قومی یکجہتی توڑنے نہیں بلکہ بڑھانے والی بتایا اور کہا کہ علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے تقریر کو پوری سنے بنا صرف جزیات سن کر ہی نتیجہ اخذ کرلیا اور ڈاکٹر کفیل پر این ایس اے لگا دیا، جو پوری طرح غلط ہے۔ اسے خارج کیا جاتا ہے اور ڈاکٹر کفیل کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ کے خلاف نہیں بلکہ اس حرکت کے اصل محرک اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو تازیانہ ہے۔ در اصل یہ یوگی جی کی نفرت، بدلے اور نخوت کی سیاست پر طمانچہ ہے، حالانکہ ظاہر ہے اس کا کوئی اثر ان پر نہیں پڑے گا۔

اورنگ آباد اور الہ آباد ہائی کورٹوں کے اس فیصلہ کے بعد ایک بار پھر یہ سوال ابھر کر کھڑا ہوا ہے کہ ناجائز طور سے مقدموں میں پھنسائے گئے لوگ جب برسوں بعد بری ہوتے ہیں اور ان پر لگے الزامات غلط ثابت ہو جاتے ہے تو ان کے جیل میں گزارے دن اور ان کے اہل خانہ پر ٹوٹے مشکلات کے پہاڑ کا مداوہ کیسے ہو، کیا غلط طریقے سے پھنسانے والوں کو قانون کوئی سزا دے گا یا بری ہوئے مظلوموں کو کوئی ہرجانہ ملے گا۔ ابھی سوشل میڈیا پر ایک افریقی ملک کا واقعہ کافی چرچا میں ہے جس میں ایک سیاہ فام کو 17 سال کی عمر میں قتل کا مجرم مان کر اسے عمر قید کی سزا دی گئی، لیکن چالیس سال بعد پتہ چلا کی وہ بے گناہ ہے، اسے فوری طور پر رہا کر دیا گیا اور جلسہ عام میں چیف جسٹس نے اس کے سامنے ایک سادہ کاغذ رکھتے ہوے کہا کہ اپنے ساتھ ہوئے عدالت کے اس غلط فیصلہ کے ہرجانہ کے طور پر وہ اس سادہ کاغذ پر جو رقم چاہے لکھ دے اسے یہ رقم دلوا دی جائے گی، لیکن اس سیاہ فام نے صرف یہ کہا کہ رقم نہیں چاہیے بس ایسا قانون بن جائے کہ پھر کوئی بے گناہ جیل نہ جائے، ہندوستان میں ایسے قانون کی سخت ضرورت ہے۔

Published: 6 Sep 2020, 11:06 PM
next