جمہوریت اور آئینی اداروں کے تحفظ میں سپریم کورٹ کی ناکامی خطرناک... عبید اللہ ناصر

مودی جی نے ہر جگہ سنگھ پریوار کے پروردہ یا پھر اس کے نظریات سے متاثر افراد کو بٹھا کر اس مقصد کو قتل کر دیا ہے، جس مقصد کے تحت یہ آئینی ادارہ قائم کیے گئے تھے۔

تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ 
تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

عبیداللہ ناصر

ہندوستان کے سپریم کورٹ کے سامنے گزشتہ دنوں ٹھیک ویسی ہی کشمکش پیدا ہو گئی تھی جیسی 1917 میں چمپارن کے برٹش ضلع جج کے سامنے مہاتما گاندھی کے مقدمہ کے سلسلہ میں پیدا ہو گئی تھی، برٹش جج چاہتا تھا کہ مہاتما گاندھی کسی طرح ان کی بات مان لیں اور چمپارن چھوڑ کر چلے جائیں، مہاتما گاندھی بضد تھے کہ نہ تو وہ چمپارن چھوڑیں گے نہ عدالت میں اپنی ضمانت پیش کریں گے، نہ عدالت سے کسی قسم کی رحم کی درخواست کریں گے، آخر کار برٹش جج کو ہی مہاتما گاندھی کو بلا شرط رہا کرنا پڑا تھا۔

توہین عدالت کے معاملہ میں ملک کے ممتاز ترین وکیل اور حققوق انسانی کے کارکن پرشانت بھوشن کے مقدمہ میں بھی سپریم کورٹ ایسی ہی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بزعم خود اس نے ان پر ان کے ایک ٹوئٹ کو لے کر توہین عدالت کا کیس درج کر لیا اور تین رکنی بنچ نے انھیں مجرم گردانتے ہوئے سزا سنانے کا بھی فیصلہ کرلیا، لیکن جب سزا سنانے کا موقعہ آیا تو بغلیں جھانکنے لگی۔ وہ بار بار پرشانت بھوشن پر زور ڈال رہی تھی کہ وہ عدالت کے سامنے اپنے ٹوئٹ پر معذرت کر لیں، لیکن پرشانت بھوشن نے ایسا کچھ بھی کرنے سے انکار کر دیا۔

بری طرح گھری بنچ نے عدالت کو اپنے موقف پر پھر غور کرنے کے لئے انھیں خود اپنی طرف سے بلا مانگے مزید وقت دے دیا اور اب پرشانت بھوشن نے پھر عدالت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں نے معافی مانگ لی تو یہ میرے ضمیر کی توہین ہوگی۔ دو صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ معافی نامہ پوری ایمانداری والا ہونا چاہیے، جبکہ میں نے نیک نیتی سے بیان دیا تھا میرے ٹوئٹ کو مثبت تنقید کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اس کا مقصد کسی چیف جسٹس کے قد کو کم کرنا نہیں تھا۔ کورٹ کے میرے ٹوئٹ کو اور میرے مافی الضمیر کو نہیں سمجھا اس عدالت کے 20 اگست کے فیصلہ پر میں حیرت زدہ اور افسردہ ہوں۔

در اصل گزشتہ کچھ برسوں سے جب سے مودی جی برسر اقتدار آئے ہیں تمام جمہوری اور آئینی اداروں کے کام کاج میں شرمناک انحتاط دیکھنے کو مل رہا ہے، کوئی ایسا ادارہ نہیں بچا ہے جو اپنے مقصد اور فرض منصبی کو لے کر حساس ہو، ہر جگہ مودی جی نے سنگھ پریوار کے پروردہ یا پھر اس کے نظریات سے متاثر افراد کو بٹھا کر اس مقصد کو قتل کر دیا ہے، جس مقصد کے تحت یہ آئینی ادارہ قائم کیے گئے تھے۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوک سبھا یا اسمبلیوں میں اپنی اکثریت اور نفری قوت کے بل پر کوئی حکومت آمرانہ طرز عمل نہ اختیار کر سکے اور آئین ہند کے محض الفاظ ہی نہیں بلکہ اس کی روح کے مطابق بھی کام کرے۔

لیکن چاہے الیکشن کمیشن ہو یا حقوق انسانی کمیشن یا دیگر ادارہ جیسے کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل سی بی ای ڈی سب کے سب سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے والے ادارہ بن گئے ہیں لیکن سب سے شرمناک انحتاط ہماری میڈیا اور عدلیہ میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جمہوریت کے ان ڈان ستونوں کو جمہوریت کا محافظ یا واچ ڈاگ کہا جاتا ہے لیکن آج جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے اس سے ہر حساس جمہوریت نواز شخص کا فکر مند ہونا لازمی ہے اور پرشانت بھوشن کا ٹوئٹ ان کا بیان اور ان کا انداز اسی فکرمندی کا آئینہ اور ملک کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز ہے۔

عدالت خاص کر سپریم کورٹ کی سب سے اہم ذمہ داری انصاف کرنا، مجرم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دینا تو ہے ہی لیکن وہ ہمارے آئینی نظام کا محافظ بھی ہے، وہ عوام اپنی جمہوری حقوق کا محافظ بھی ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے وہ اپنا فرض منصبی ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اس کے فیصلوں سے حکومت کو راحت اور اور اپنی من مانی کرنے کی چھوٹ تو ملی ہے لیکن عوام کے حققو ق اور خود سپریم کورٹ کی ساخ متاثر ہوئی ہے۔

سابق چیف جسٹس گگوئی کی قیادت میں چاہے رافیل جنگی جہازوں کے سودے کا معاملہ ہو، چاہے سی بی آئی کے سابق سربراہ رنجیت سنگھ کے معاملہ میں ان کا فیصلہ رہا ہو، یا بابری مسجد سے متعلق فیصلہ، ان کے تمام فیصلہ بادی النظر میں انصاف کے تقاضوں پر کھرے نہیں اترتے اور خود سپریم کورٹ کے ہی کئی سبکدوش ججوں نے ان فیصلوں پر اعتراض کیا ہے جن میں جسٹس لوکر، جسٹس کاٹجو، جسٹس بنرجی، جسٹس ساونت، جسٹس شاہ وغیرہ شامل ہیں۔ سبکدوش ہونے کے بعد ہی چیف جسٹس گگوئی کا حکومت کی جانب سے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا جانا اس شک کو تقویت دیتا ہے انہوں نے لالچ اور دباؤ میں آکر یہ فیصلے کیے تھے حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بنچ میں دیگر جج صاحبان بھی شامل تھے۔

اس معاملہ میں موجودہ چیف جسٹس بوبڈے کا دور تو اور بھی سوالات کے گھیرے میں ہے، حکومت نےشہری ترمیمی قانون بنایا، امید تو یہ کی جاتی تھی کہ آئین ہند کے محافظ صدر جمہوریہ اسی طرح ان بلوں کو منظوری دینے سے قبل کم سے کم کابینہ کو نظر ثانی کے لئے بھیج دیں گے، جیسے آنجہانی صدر جمہوریہ گیانی ذیل سنگھ نے پوسٹل بل کے سلسلہ میں کیا تھا، لیکن انہوں نے آنکھ بند کر کے ان غیر آئینی بلوں کو منظوری دے دی۔

گزشتہ دنوں موقر انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے صفحہ اول پر اپنی ایک خبر میں بتایا تھا کہ کس طرح سپریم کورٹ نے ان صحافیوں کو راحت پہنچائی تھی جو حکومت کے منظور نظر ہیں، ان میں ارنب گوسوامی، امیش دیو گن خاص طور سے قابل ذکر ہیں جبکہ ونود دوا جیسے صحافیوں کو جن کے سامنے مذکورہ دونوں صحافی طفل مکتب ہیں کوئی راحت نہیں دی گئی۔ پولیس افسر سنجیو بھٹ، ڈاکٹر کفیل خان حقوق انسانی کے علمبردار آدیواسیوں اور سماج کے کمزور طبقوں کی آواز اٹھانے والے گوتم نولکھا، تیلگو شاعر ویر وراور جیسے نہ جانے کتنے لوگ حکومت کا عتاب جھیل رہے ہیں، ان کے معاملہ میں عدالتیں انصاف کا تقاضہ پورا کرنا تو درکنار، انصاف کا خون کر رہی ہیں۔

اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ خود اپنے اوپر درج سنگین دفعات کے مقدمہ واپس لے لیتے ہیں اور ہائی کورٹ اسے درست قرار دے دیتا ہے یعنی ملزم خود اپنا منصف ہو سکتا ہے، اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہوتی ہے اور وہاں تاریخ پر تاریخ دے کر یوگی جی کو کھلا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے والے سینئر صحافی پرویز پرواز کو اجتماعی آبروریزی کے ایک معاملہ میں فطری انصاف کے تمام تقاضوں کو درکنار کرتے ہوئے سیشن عدالت سے عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

انگریزی کے متعدد اخباروں میں اور یو ٹیوب کے مختلف چینلوں میں عدلیہ کی اس روش سے جمہوریت کو درپیش خطرات اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی، سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے ان مضامین کو پڑھا ضرور ہوگا اگر اس پر بھی ان کا ضمیر بیدار نہیں ہوا تو پھر اس ملک میں جمہوریت، شخصی آزادی اور آئینی حقوق کا خدا ہی حافظ، پرشانت بھوشن اس اندھیرے میں امید کی شمع بن کر ابھرے ہیں۔

Published: 26 Aug 2020, 8:11 AM
next