رام مندر چندہ مہم اور ابھرتے خدشات... سہیل انجم

جس طرح چندہ مہم کے آغاز سے قبل ہی مدھیہ پردیش میں رام مندر تعمیر کے نام پر چندہ اُگاہی مہم کے دوران مسلم گھروں اور مسجدوں پر حملے کیے گئے اس سے بہت سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

ان خبروں کے درمیان کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر تعمیر ہونے والے رام مندر کی بنیاد کا کام روک دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے نیچے سرجو ندی بہہ رہی ہے اور دو سو میٹر تک ریت ہی ریت ہے، مندر کی تعمیر کے لیے چندہ مہم شروع ہو گئی ہے۔ یہ مہم 14 جنوری کو شروع ہوئی ہے اور 27 فروری تک جاری رہے گی۔ ملک کے صدر رام ناتھ کووند نے پانچ لاکھ ایک روپیہ دے کر اس مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ صدر کے اس قدم پر بعض حلقوں سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ایک سیکولر ملک کے صدر کو جو کہ ملک کا پہلا شہری ہوتا ہے اور ملک کی مکمل آبادی کا جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں، سرپرست ہوتا ہے، اس قسم کی مذہبی تقریبات میں حصہ لینا درست ہے۔

حالانکہ یہ کہہ کر اسے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ چونکہ صدر بھی ایک مذہبی شخص ہیں، ان کا بھی رام جی میں عقیدہ ہے اور وہ بھی ان سے عقیدت رکھتے ہیں اس لیے بحیثیت ایک ہندو کے ان کو اس کا حق حاصل ہے۔ اگر بات آگے بڑھی، حالانکہ اس کا امکان کم ہے، تو یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے سومناتھ مندر کا افتتاح کیا تھا تو پھر رام ناتھ کووند رام مندر کے لیے چندہ کیوں نہیں دے سکتے۔ خیال رہے کہ ملک کے پہلے صدر پنڈت جواہر لعل نہرو نے سومناتھ مندر کی افتتاحی تقریب میں صدر جمہوریہ کی شرکت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ایک سیکولر ملک کے صدر یا اول شہری کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ ایسی کسی مذہبی تقریب میں شرکت کرے۔ لیکن ڈاکٹر راجندر پرساد نے ان کی دلیل ماننے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مسلمان کسی مسجد کے افتتاح کے لیے مجھے بلائیں گے تو میں وہاں بھی جاؤں گا۔

جہاں تک ہندوستان کے سیکولر ملک ہونے کا سوال ہے تو اب یہ بات قصہَ پارینہ بن چکی ہے۔ حکمراں طبقے کا سرپرست آر ایس ایس سیکولرزم کو نہیں مانتا۔ بی جے پی کے بہت سے رہنما بھی اسے تسلیم نہیں کرتے۔ وہ آئین سے لفظ سیکولر خارج کرنے کے حق میں ہیں۔ سیکولرزم کے بارے میں بی جے پی کا نظریہ بالکل واضح ہے۔ اور پھر جب ملک کے وزیر اعظم نے انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا تو پھر صدر کے چندہ دینے میں کیا قباحت ہے۔ یوں بھی اگر دیکھا جائے تو ہندوستان عملاً ایک ہندو راشٹر بن چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نظریاتی طور پر ایک سیکولر ملک ہے۔

بہر حال اس چندہ مہم کے دوران پانچ لاکھ گاووَں میں جا کر چندہ اکٹھا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے بارہ کروڑ ہندو خاندانوں کے 55 کروڑ افراد سے ملاقات کی جائے گی۔ اس کے لیے دس روپے، سو روپے اور ایک ہزار روپے کے کوپن چھپوائے گئے ہیں۔ بیس ہزار روپے تک کیش میں لیا جائے گا اور اگر کوئی اس سے زیادہ دینا چاہے تو اسے چیک سے دینا ہوگا۔ چندے کے لیے ملک کی مشہور شخصیات یا سلیبریٹیز کی ایک فہرست بھی بنائی گئی ہے۔ چندہ اکٹھا کرنے کے لیے یاترائیں نکلیں گی اور اس طرح رام مندر ٹرسٹ کے مطابق عوام کو اس کام میں جوڑا جائے گا۔

لیکن جس طرح چندہ مہم کے آغاز سے قبل ہی مدھیہ پردیش میں رام مندر تعمیر کے نام پر چندہ اگاہی مہم کے دوران مسلم گھروں اور مسجدوں پر حملے کیے گئے اس سے بہت سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ہم مان لیتے ہیں کہ رام مندر ٹرسٹ کے ذمہ دار اس مہم کو پرامن انداز میں چلانے کے حق میں ہیں لیکن ان لوگوں کو کون روکے گا جو چندے کے نام پر ملک میں منافرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش کریں گے۔ مدھیہ پردیش میں جب مسلم علاقوں سے ایسی یاترائیں گزریں تو مسجدوں کے سامنے باجے بجانے کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے گئے، مسلم گھروں پر حملے کیے گئے اور مسجدوں پر بھگوا جھنڈے پھہرائے گئے۔

ایک یاترا کے دوران یہ الزام عاید کیا گیا کہ ایک مسلم گھر سے یاترا پر پتھراوَ کیا گیا ہے اور پھر جو ہنگامہ ہوا سو ہوا ہی پولیس نے آکر اس گھر کو منہدم کر دیا جس پر پتھراوَ کا الزام لگایا گیا تھا۔ حالانکہ اس گھر کی ہندو پڑوسی خاتون نے بتایا کہ اس گھر سے پتھراوَ نہیں کیا گیا تھا اس کے باوجود اس مسلم گھر کو توڑ دیا گیا۔ اب اس پورے علاقے میں مسلمانوں میں خوف و ہراس ہے اور لوگ کسی انجانے ڈر سے اپنے گھروں کو لوٹنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔

ادھر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے ایک سے زائد بار یہ بیان دیا ہے کہ جو لوگ پتھراوَ کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن انھوں نے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ پتھراوَ ہوا بھی ہے یا یہ محض الزام تراشی ہے اور اگر ہوا ہے تو کہاں سے ہوا، کن لوگوں نے پتھراوَ کیا، انھوں نے اس کی تہہ میں جانے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ بس جو الزام لگا دیا گیا اس کو انھوں نے درست مان لیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ پتھراوَ ہوا ہے تو بھی کیا اس جرم کی سزا مکان منہدم کرکے دی جانی چاہیے۔ اگر کسی نے پتھر چلایا ہے تو اس کی جانچ کی جائے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ بلکہ شیو راج سنگھ چوہان کے بیانات کے بعد شرپسندوں کے حوصلے اور بلند ہو گئے ہیں۔

ابھی گزشتہ دنوں بلند شہر کے اس واقعہ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جب رام مندر تعمیر کے لیے چندہ کرنے کی غرض سے نکالی جانے والی یاترا میں بائیک سوار دو ہندو لڑکوں نے کھلے عام گالیاں دیں اور ایک فرقے کو برا بھلا کہا۔ حالانکہ پولیس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے لیکن اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چندہ مہم کے دوران اس قسم کے مزید واقعات پیش آسکتے ہیں۔ ہم رام مندر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ لیکن اس مہم کی آڑ میں ملک کا ماحول خراب کرنے کے خلاف ضرور ہیں۔ حکومت و انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے اور اگر چندے کے لیے یاترائیں نکلتی ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں کوئی اشتعال انگیزی نہیں کی جائے گی اور دوسرے فرقے کے لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

ماضی کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ جب بھی رام مندر کے نام پر کوئی یاترا نکلی ہے یا جلوس نکالے گئے ہیں تو ملک کا ماحول خراب ہوا ہے۔ یاترا اور جلوس میں شامل لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے اپنی اشتعال انگیزی سے ماحول خراب کیا ہے۔ ایل کے آڈوانی کی رتھ یاترا تو جہاں جہاں سے گزری تھی خون کی ایک لکیر کھینچتی چلی گئی تھی۔ فسادات ہوئے تھے اور بہت سے لوگوں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ اس لیے اب اگر ایک بار پھر یاترائیں نکلیں گی تو خدشات تو جنم لیں گے ہی۔

ذرائع کے مطابق رام مندر کی تعمیر پر گیارہ سو کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا اور مندر کی تعمیر 2024 کے اوائل میں مکمل ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ 2024 میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لیے اس سے عین قبل مندر کی تعمیر کا مکمل ہونا بہت سے شبہات کو جنم دیتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جان بوجھ کر ایسے موقع پر اس کی تعمیر مکمل کرائی جا رہی ہے تاکہ اس کے نام پر ایک بار پھر ووٹ حاصل کرنے میں آسانی ہو۔

بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی ایک بہت دوراندیش پارٹی ہے۔ وہ صرف اپنے قدموں کے نیچے نہیں دیکھتی بلکہ دور تک دیکھتی اور اسی کے مطابق حکمت عملی تیار کرتی ہے۔ اگر اس نے مندر کا افتتاح عین پارلیمانی الیکشن سے قبل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو ظاہر ہے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا مقصود ہے۔ گویا سپریم کورٹ سے مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیئے جانے کے باوجود بی جے پی نے رام مندر کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے الگ نہیں کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Jan 2021, 9:11 PM
next