امریکی سیاہ فاموں کو شاہین باغ سے ملی ترغیب!... نواب علی اختر

امریکی عوام نے جو احتجاج درج کر وایا ہے اس نے شاہین باغ کے بعد ساری دنیا کے سامنے ایک اور مثال پیش کی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

کورونا جیسی عالمی وبا سے عوام کو بچانے کے لیے جہاں اقوام عالم نے اپنی پوری طاقت جھونک رکھی ہے وہیں اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ٹرمپ کے امریکہ میں سیاہ فاموں کے خلاف نسلی مہم چل رہی ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کے دور اقتدار میں حقوق انسانی کا علمبردار اور سپر پاور کہلانے والے امریکہ میں سفید فاموں کی اجارہ داری قائم رکھنے کی خاطر سیاہ فاموں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے جس سے دنیا کے بیشتر ممالک میں جہاں اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھ رہی تھیں وہاں بھی ایک نئے قسم کا خوف پایا جارہا ہے۔ آخر امریکہ میں سیاہ فام کے خلاف تازہ نفرت کی مہم کیوں چھیڑی گئی ہے؟ ایسا شاید اس لئے بھی ہو رہا ہے کیونکہ امریکہ میں عنقریب صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور دنیا کے تقریباً سب سے طاقتور ملک کا اقتدار ہتھیانے کے لیے سیاہ فاموں کے خلاف نفرت انگیزی سے سفید فام کو متحد کرنا آسان ہوسکتا ہے۔

سیاسی فائدے کے لیے نسلی ظلم کا راستہ اختیار کرنے کی تاریخ امریکہ میں اتنی ہی پرانی ہے، جتنا خود امریکہ۔ یہاں ایک آزاد معاشرے کا قیام غلاموں کی نیلامی، بچوں کی والدین سے علیحدگی، اپنی زبان بولنے پر پابندی اور بے لگام مظالم اور قتل و غارت سے ہوا۔ سیاہ فاموں پر جو ظلم روا رکھے گئے انہیں اس کا احساس لگا تار ہوتا رہا اور انہیں جلد محسوس ہو گیا کہ اس ظلم کی چکی میں پِسنے والے وہ تنہا نہیں ہیں۔ امریکہ سفید فام لوگوں کے لیے تو جنت کا منظر رہا ہے لیکن بیڑیوں میں جکڑے ہوئے غلام بن کر آنے والے سیاہ فاموں کے لیے یہ ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب رہا ہے۔ محمد علی کلے، مارٹن لوتھر کنگ، میلکم ایکس اور لا تعداد دوسرے سیاہ فام مردوں اور خواتین کے ساتھ باراک اوباما نے بھی نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی ہے لیکن جارج فلائیڈ کی موت پر پوری دنیا سے جس غم و غصے اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے، اس کی مثال پوری سیاہ فام جد و جہد کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جارج نے اپنا جو دکھ اپنی ماں کو ایک پولیس آفیسر کے گھٹنے کے نیچے اپنی سانس ٹوٹتے ہوئے بیان کیا تھا، وہ لاک ڈاؤن میں کروڑوں دلوں پر نقش ہوگیا۔

امریکہ کے سیاہ فاموں نے کھیل، موسیقی، مسلح افواج میں خدمات، سیاست اور چرچ کی دنیا میں اپنی کارکردگی سے بہت نام پیدا کیا۔ کولن پاول امریکہ کے آرمی چیف اور کابینہ کے اہم رکن رہے، باراک اوباما صدر رہے لیکن نسلی منافرت کے بت کو ایسی ضرب کسی نے نہیں لگائی، جیسی ٹرمپ کے دور اقتدار میں لگی ہے۔ اب کی بار دکھ کے مارے سیاہ فام نسل پرست گوروں سے ٹکرانے باہر نہیں نکلے۔ اب انصاف اور برابری پر یقین رکھنے والے ہر نسل، قوم، مذہب، عقیدے اور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ، پولیس افسران اور سیاست دان، سب کے سب اس ظلم کے خلاف سیلاب کے ریلے کی طرح آئے ہیں، جو پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ اس احتجاج کی دعوت کسی جماعت، کسی لیڈر، کسی بڑے نام والے نہیں دی۔ جارج کے دل کی آواز ایک غیر محسوس طریقے سے تمام انصاف پسند دلوں میں پہنچ گئی ہے۔

ایک ایسی تبدیلی جو اس سے پہلے کہیں نظر نہیں آئی، وہ یہ ہے کہ پولیس، مقامی حکومتوں، کانگریس اور سینیٹ کے لیڈروں نے گھٹنے ٹیک کر جارج اور ظلم کے شکار ہونے والوں کو احترام، دوستی، انصاف اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ہتھیار اٹھانے کی روایت کو چھوڑتے ہوئے ہتھیار ڈال کر دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں کوئی جھجک، شرم یا گھبراہٹ محسوس نہیں کی۔ دلوں کے درمیان جو برف کی دیوار تھی، وہ پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ لوگوں کو رنگ اور نسل کے ظاہری فرق کے پیچھے یکجہتی نظر آنے لگ گئی ہے، یہ ایسی تبدیلی ہے، جس پر کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے انصاف پسندوں کو یہ ترغیب ہندوستان کی راجدھانی دہلی کے شاہین باغ سے ہی ملی ہوگی جہاں جمہوریت کی حفاظت کے لیے بلا تفریق عوام نے خون منجمد کردینے والی سردی میں بھی کھلے آسمان کے نیچے رات دن گزار کر حکومت وقت کے تخت وتاج کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

امریکہ میں اب کی بار جارج فلائیڈ کا غم اور سیاہ فام شہریوں کا غصہ دنیا بھر کے مظلوموں کی امید میں بدل گیا ہے۔ خوف نے سڑکوں اور چوراہوں پر گردن جھکا دی ہے اور لاک ڈاؤن توڑ کر باہوں میں باہیں ڈالے سر بازار رقص کر رہی ہے۔ کھلے دن میں جو اندھیرا چھایا ہوا تھا اس نے کالے گورے، اونچے نیچے، دائیں بائیں میں فرق مٹا کے سب کو ایک قطار میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک سیاہ فام باشندے کی سفید فام امریکی پولس اہلکار کے ہاتھوں قتل نے سارے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ کے تقریباً تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے اس نسلی امتیازی واقعہ کے خلاف ایک جٹ ہو کر ایسا احتجاج کیا کہ ساری دنیا دیکھتی رہ گئی۔ احتجاجیوں نے امریکہ کے کونے کونے میں مظاہرے کیے اور قصر صدارت وائٹ ہاوس تک کو نہیں بخشا۔ وائٹ ہاوس کے باہر احتجاج کا اثر یہ ہوا کہ دنیا کے سب سے طاقتور اور محفوظ ترین شخص سمجھے جانے والے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اپنے ارکان خاندان کے ساتھ بنکر میں پناہ لینے پرمجبور ہوگئے۔

اس احتجاج نے ایک بات ضرور واضح کردی ہے کہ چاہے امریکہ ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک، عوام کی طاقت کے سامنے طاقتور ترین حکمران بھی بے بس ہیں۔ آج دنیا بھر میں جو ماحول دیکھا جارہا تھا اس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ عوام حکومتوں کے آگے بے بس ہوگئے ہیں اور طاقت کے استعمال سے عوام میں خوف کی لہر پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں نے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کا وطیرہ بنا لیا تھا اور جہاں کہیں حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کی جاتی اس کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوششیں تیز تر ہوگئی تھیں۔ حالیہ وقتوں میں دیکھنے میں آیا تھا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں عوام پر سرکاری فیصلوں کو مسلط کیا جانے لگا تھا اور رائے عامہ کو دبانے کے لئے ہر ممکن طریقے اختیار کیے جا رہے تھے۔ تاہم امریکی عوام نے جو احتجاج درج کر وایا ہے اس نے شاہین باغ کے بعد ساری دنیا کے سامنے ایک اور مثال پیش کی ہے۔ طاقتور ترین انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھانا اور احتجاج بلند کرنا امریکی عوام کے جذبہ کو ظاہر کرتا ہے جو کسی ظلم اور نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی طاقت کے آگے جھکنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن کر ساری دنیا کے لئے مثال بن گئے ہیں۔